رعشہ کی تشخیص میں اہم پیشرفت، امریکی ماہرین نے کامیاب تجربہ کرلیا

نیویارک (این این آئی)امریکی ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ خون میں کیفین کی مقدار کی سطح سے پارکنسنز (رعشہ) کی بیماری کا پتہ چلایا جاسکتا ہے۔جرنل آف نیورولوجی میں شائع ہونے والے مقالے میں بتایا گیا کہ ماہرین پارکنسنز میں مبتلا مریضوں اور صحت مند افراد پر ایک

تجربے کے ذریعے سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ایک جیسی مقدار میں کافی پینے کے باوجود اس بیماری میں مبتلا مریضوں کے خون میں کیفین کی مقدار کم پائی گئی ٗ تحقیق سے پہلے یہ کہا جاتا تھا کہ کیفین کا زیادہ استعمال کرنے والوں میں پارکنسنز میں مبتلا ہونے کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

The post رعشہ کی تشخیص میں اہم پیشرفت، امریکی ماہرین نے کامیاب تجربہ کرلیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ہلدی  کے استعمال سے میرا کینسر ختم ہو گیا ،برطانوی خاتون کا دعویٰ

برطانیہ میں ایک خاتون نے دنیا کو اس وقت حیران کردیا جب اس کا کینسر جڑ سے ہی  ختم ہوگیا۔ اس خاتون کا دعویٰ ہے کہ تمام علاج سے تنگ آکر اس نے ہلدی استعمال کی جو مشرق کے مصالحہ جات میں کم و بیش لازمی مقام رکھتی ہے۔

ملازمت سے ریٹائرڈ شدہ خاتون ڈینیک فرگوسن کو 10 سال قبل بلڈ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ انہیں خون کا سرطان مائیلوما لاحق تھا جس میں خون کا پلازما متاثر ہوتا ہے۔ ان پر کیموتھراپی ناکام ہوگئی اور اسٹیم سیل سے علاج بھی کارگر ثابت نہ ہوا۔

مایوس ہونے کے بجائے ڈینیک نے روزانہ ایک کیپسول کھانا شروع کردیا جس میں ہلدی کے سب سے اہم جادوئی مرکب ’سرکیومن‘ کی 8 گرام مقدار شامل تھی جو ہلدی کے دو چمچوں کے برابر ہے۔ سرکیومن، ہلدی کا سب سے اہم معالجاتی جزو ہے اور ہلدی کے ایک بڑے چمچمے میں اس کی 3 سے 4 گرام مقدار موجود ہوتی ہے۔

ڈینیک کا کینسر دوسری مرتبہ پلٹ کر آیا تھا اور تیزی سے پھیلتے ہوئے اب کمر سمیت پورے بدن میں زبردست تکلیف کی وجہ بن رہا تھا۔ اس کیفیت میں مریض مشکل سے پانچ سال بھی زندہ نہیں رہ پاتا۔

اس کیفیت پر برطانیہ میں بارٹس این ایچ ایس ٹرسٹ میں خون کے ممتاز ماہر ڈاکٹر عباس زیدی نے کہا ’روزانہ سرکیومن کھانے کے بعد اب یہ خاتون نارمل اور بہتر زندگی جی رہی ہیں۔

برطانوی ماہرین اب اس خاتون کا بغور تجزیہ کررہے ہیں اور اسے برٹش میڈیکل جرنل کیس رپورٹس میں شائع کیا گیا ہے۔ ہلدی میں موجود سرکیومن اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہے۔

گزشتہ 50 سال سے سرکیومن پر 50 سے زائد طبی ٹرائلز سامنے آچکے ہیں۔ سرکیومن پھیپھڑوں کے امراض، پتے کے سرطان، دل کی بیماریوں، آنتوں اور چھاتی کے کینسر، ڈپریشن اور دیگر خطرناک امراض سے بچاتا ہے اور یہ بات اب ثابت بھی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ گٹھیا کے مریضوں میں آپریشن کے بعد انہیں تیزی سے ٹھیک بھی کرتا ہے۔

ہلدی کا شوخ پیلا رنگ بھی سرکیومن کی وجہ سے ہی ہوتا ہے اور کیمیا کی زبان میں اسے ’’پولی فینول‘‘ بھی کہتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے کھانوں میں ہلدی کا استعمال عام ہے۔

ڈینیک فرگوسن کو 2007ء میں خون کا سرطان تشخیص ہوا تھا اور وہ موت کے قریب تھیں جبکہ 2011ء میں انہوں نے سرکیومن کا استعمال شروع کیا تھا۔

دوسری جانب بعض ماہرین کہہ رہے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ کینسر کے مریضوں کو دیگر ادویہ کے ساتھ ہلدی بھی استعمال کرائی جائے۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

خواتین میں دل کے دورے کی علامتیں

دل کا دورہ  اور اس عضو سے جُڑے دوسرے امراض کو عام طور پر مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔ عام تصور یہ ہے کہ خواتین دل کے امراض میں مبتلا نہیں  ہوتیں۔ ایسا نہیں ہے۔

عورتوں کو بھی دل کی بیماریاں ہوتی ہیں۔ امریکا میں دل سے متعلق امراض کی وجہ سے مردوں کی نسبت خواتین زیادہ  ہلاک  ہوتی ہیں۔ امریکا میں ہر سال پینتالیس برس سے کم عمر کی  اوسطاً نوہزار عورتوں کو دل  کا دورہ پڑتا ہے۔ خواتین میں دل کے دورے یعنی ہارٹ اٹیک کی علامات مردوں  سے کچھ مختلف ہوتی ہیں، اس لیے عام  طور پر خود خواتین اور اردگرد موجود افراد سمجھ نہیں پاتے کہ انھیں دل کا دورہ  پڑ رہا ہے۔ اگر ان علامات کے بارے میں آگاہی موجود ہو تو پھر کئی خواتین کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ ذیل کی سطور میں ان علامات کا تذکرہ کیا  جارہا ہے۔

سینٹ لوئس میں واقع واشنگٹن یونی ورسٹی میں  ہارٹ سرجری کے شعبے سے وابستہ ایسوسی ایٹ پروفیسر جینیفر لاٹن کہتی ہیں کہ خواتین میں دل کے دورے  کی علامات مردوں سے کچھ الگ ہوتی ہیں۔ دل کی دورے کی صورت میں سینے میں جلن ہوتی ہے، تھکن کا احساس ہوتا ہے، سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے اور متلی جیسی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔جینیفر لاٹن کے مطابق بہت سے افراد میں پہلا دورہ پڑنے سے قبل کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتی۔

مردوں میں دل کے دورے کی علامات میں سینے میں تکلیف، جکڑن، گھبراہٹ اور بازوؤں، کمر، جبڑوں اور گردن میں تکلیف  وغیرہ شامل ہیں۔ خواتین کو صرف سانس لینے میں دقت ہوتی ہے، غنودگی بھی طاری ہوسکتی ہے،  اس کے علاوہ سینے میں معمولی تکلیف محسوس  ہوسکتی ہے۔ خواتین  میں دل کے دورے کی علامات جُدا ہونے کا سبب یہ خیال جاتا ہے کہ ان  میں مردوں سے مختلف شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ خواتین میں چھوٹی شریانوں میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے جب کہ مردوں کی عموماً بڑی یا مرکزی شریانوں میں دوران خون میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

عورتوں کو دل کے امراض مردوں کے مقابلے میں اوسطاً دس سال کے بعد لاحق  ہوتے ہیں۔ ادھیڑ عمری یا بڑھاپے میں امراض قلب لاحق ہونے کی وجہ سے وہ  عام طور پر ان کی علامات پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں۔ اسی وجہ سے دل کے دورے کی علامات کو بھی وہ زائدالعمری سے جُڑے دوسرے امراض کا نتیجہ سمجھنے لگتی ہیں۔ علامات کی تشخیص ہوجانے کے باوجود عورتیں علاج معالجے میں عموماً تاخیر کردیتی ہیں کیوں کہ وہ بچوں، خاوند اور گھر کے بزرگوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوتی ہیں۔ تاہم معالج سے رجوع کرنے میں تاخیر زندگی سے محرومی کا باعث بھی بن سکتی ہے کیوں کہ دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں بروقت طبی امداد نہ ملے تو موت واقع ہوسکتی ہے۔

دل کے دورے سے بچنے کے لیے خواتین کیا کرسکتی ہیں؟َ  اس سلسلے میں ڈاکٹر لاٹن کہتی ہیں انھیں باقاعدگی سے اپنے معالج کے پاس جاکر بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول لیول چیک کروانا چاہیے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی چیز حد سے بڑھی ہوئی ہے تو اسے نیچے لانے کی کوشش کریں۔ بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدگی سے ورزش کرنا،  سبزیوں اور پھلوں پر مشتمل صحت بخش غذاؤں کا استعمال، اور چکنائی اور سگریٹ نوشی سے پرہیز ضروری ہے۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

بچوں کو مچھلی کھلائیں ،ان کا ا ٓئی کیو بڑھائیں ،تحقیق

 

 چینی اور امریکی ماہرین نےتحقیق کے بعد  کہا ہے کہ جو بچے ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں بقیہ بچوں کے مقابلے میں ان کا آئی کیو (انٹیلی جنس کوشنٹ) اوسطاً پانچ درجے بہتر ہوتا ہے۔

ایک عرصے سے یہ بات عام ہے کہ مچھلی بچوں کو ذہین بناتی ہے لیکن بعض ماہرین اسے ایک واہمہ ہی خیال کرتے رہے تاہم اب ایک طویل اور بڑے مطالعے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ مچھلی کھانے سے بچوں کی ذہانت پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

اس ضمن میں چینی بچوں پر ایک تحقیق کی گئی ہے جسے یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے اسکول آف نرسنگ کی پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے انجام دیا ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’اس تحقیق کے بعد امریکہ اور دیگر ممالک کے بچوں کی غذائی ترجیحات بدلنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کی بہتر طور پر افزائش ہوسکے۔

پروفیسر جیانگ ہونگ لوئی نے کہا کہ اگر والدین چاہتے ہیں کہ ان کے بچے تندرست رہیں اور ایک اسکول میں بہترین کارکردگی دکھائیں تو انہیں ہفتے میں ایک مرتبہ کھانے کی میز پر مچھلی ضرور رکھنا ہوگی۔  مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بچے کو پرسکون نیند بھی دیتے ہیں جو ان کی دماغی نشوونما کےلیے ایک بہترین نسخہ ہے۔

تحقیق کےلیے ٹیم نے چین میں 500 ایسے بچوں کا انتخاب کیا جن کی عمریں 9 سے 11 برس کے درمیان تھیں اور ان کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا۔ ان بچوں سے کھانے پینے کے معمول پر ایک سوالنامہ بھروایا گیا جس میں پوچھا گیا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ کتنی مقدار میں مچھلی کھائی تھی۔ ماہرین نے ان بچوں کی ذہنی استعداد ناپنے کےلیے چین میں رائج ویشلر انٹیلی جنس اسکیل استعمال کیا جس میں بچے کے لفظی اظہار (وربل) اور غیر لفظی اظہار (نان وربل) پر مشتمل رویوں کو ناپا جاتا ہے۔ ساتھ ہی والدین سے بچوں کی نیند کے بارے میں بھی پوچھا گیا مثلاً وہ کتنی دیرتک سوتے ہیں، رات میں کتنی مرتبہ بیدارہوتے ہیں یا دن کے دوران سوتے ہیں یا نہیں؟

ماہرین نے طویل تحقیق کے بعد انکشاف کیا کہ جو بچے ہفتے میں ایک مرتبہ مچھلی کھاتے ہیں ان کا دیگر مچھلی نہ کھانے والے بچوں کے مقابلے میں آئی کیو اوسطاً 4.8  پوائنٹ زیادہ ہوتا ہے۔ جن بچوں نے کبھی کبھی مچھلی کھائی تھی ان کی صلاحیت بھی بہتر تھی جبکہ مچھلی بالکل نہ کھانے والے بچے ان سے پیچھے رہے۔

اس تحقیق سے ہٹ کر غذائیت کی ایک اور امریکی ماہر سمانتھا ہیلر نے کہا کہ مچھلیاں پروٹین اور اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کا بہترین ذریعہ ہیں۔ فیٹی ایسڈ دماغ کے افعال میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ چھوٹے بچوں کی دماغی نشوونما میں بھی ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑوں میں یہ دل اور دماغ کے محافظ ہوتے ہیں تاہم انہوں نے مچھلیوں کے اندر موجود پارے (مرکری) سے متعلق خبردار کیا جو انہیں زہریلا بنارہا ہے۔

ماہرین کا اصرار ہے کہ مچھلی کھاتے وقت ایسی مچھلیوں کی اقسام کو ترجیح دی جائے جن میں پارے کی مقدار کم ہوتی ہے اور اِن میں ٹیونا، سامن اور کیٹ فش کے علاوہ شریمپ سرِفہرست ہیں۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان ٹماٹر کھا کر دورکیجئیے

 امریکا میں کی گئی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ٹماٹر پھیپھڑوں کےلیے انتہائی مفید ہے۔ تمباکو نوشی سے پھیپھڑوں کو پہنچنے والا نقصان محض ٹماٹر کھا کر دور کیا جاسکتا ہے۔

یورپین ریسپائریٹری جرنل میں شائع تحقیق کے مطابق امریکی ریاست میری لینڈ میں واقع جان ہاپکنز یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ٹماٹروں کا استعمال نہ صرف پھیپھڑوں کو تندرست رکھتا ہے بلکہ سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کی ایک حد تک تلافی کرکے پھیپھڑوں کے افعال کو بہتر بناسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ٹماٹر کا مسلسل استعمال پھیپھڑے کو پہنچنے والے نقصان کو دور کرکے تمباکو نوشی کے اثرات کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کےلیے یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک دلچسپ سروے کیا۔ یونیورسٹی کے ماہرین نے سال 2002ء میں 650 بالغ افراد کا جائزہ لیا اور اس دوران ان کی غذا اور پھیپھڑوں کی صحت کو پہلے نوٹ کرکے اسے ریکارڈ کیا۔ اس کے 10 سال بعد دوبارہ ان افراد سے رابطہ کرکے ان کا معائنہ کیا اور سوالات پوچھے۔

ان میں جرمنی، ناروے اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ان افراد میں غذائی عادات اور ان کے پھیپھڑوں میں آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی ناپا گیا۔ علاوہ ازیں ان افراد کی سماجی و معاشی کیفیت، جنس، عمر، قد، ورزش اور کیلوریز کی مقدار کو بھی نوٹ کیا گیا۔

سروے کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے والے جن افراد نے اوسطاً دو سے زائد ٹماٹر روزانہ کھائے، ان کے پھیپھڑے ان افراد کے مقابلے میں بہتر ہوئے جنہوں نے اس سے کم ٹماٹر کھائے تھے۔ زیادہ ٹماٹر کھانے والے مریضوں کے پھیپھڑوں کی کارکردگی بھی وقت کے ساتھ ساتھ بہتر ہوتی گئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ صرف ٹماٹر ہی نہیں بلکہ تازہ پھل اور خصوصاً سیب کھانے سے بھی سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کو یہی فائدہ ہوسکتا ہے۔

اس مطالعے کی مرکزی مصنفہ ڈاکٹر وینیسا گارشیا لارسن کہتی ہیں، ’’مطالعہ بتاتا ہے کہ شاید غذا اور پھیپھڑے کی ازخود مرمت کے درمیان ایک تعلق ہوسکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے تمباکونوشی مکمل طورپر ترک کی جائے۔‘‘ اس تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹماٹر اور تازہ سیب انسانی پھیپھڑوں کو ہونے والے نقصان کی تلافی کرسکتے ہیں تاہم اس نتیجے کی روشنی میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔