درمیانی جسامت کا سیارچہ دنیا کے قریب سے گزر جائے گا

درمیانی جسامت کا سیارچہ دنیا کے قریب سے گزر جائے گا۔

امریکی ایوی ایشن اینڈ اسپیس ایجنسی ناسا کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ایک درمیانی جسامت کا سیارچہ 4 فروری کو ترکی کے مقامی وقت کے مطابق 12 بج کر 30 منٹ پر دنیا سے 4.2 ملین کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا۔

سیارچے کی گزرگاہ کا یہ فاصلہ چاند اور زمین کی درمیانی مسافت سے 10 گنا زیادہ ہے۔

دنیا سے قریب آنے کے وقت سیارچہ ایک سیکنڈ میں 34 کلو میٹر کی رفتار سے آگے بڑھے گا۔

ناسا کے مطابق یہ سیارچہ دنیا کے قریب سے گزرنے والا تیز رفتار ترین سیارچہ ہے۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

گاڑیوں میں اسٹیرنگ اور پیڈلز نہیں ہونگے

اب گاڑیاں بغیر اسٹیرنگ اور پیڈلز کے چلا کریں گی ۔

موٹر گاڑی کی صنعت حالیہ کچھ عرصے سے جدت پسندی کی بلندیوں کو چھو رہی ہے اور اب بتایا گیا ہے کہ اگلے سال سے ایسی گاڑیاں دستیاب ہونگی جن میں اسٹیرنگ وہیل اور پیڈلز نہیں ہونگے۔

ایسی گاڑیاں جنرل موٹرز تیار کرے گا جن کا تجرباتی استعمال پہلے بعض امریکی ریاستوں میں کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ جنرل موٹرز نے ان گاڑیوں کی تیاری کے لیے حکومت سے رجوع کیا ہے ۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

بروکولی خورد کیجیے، سرطان کو بھگایئے

سائنسدانوں نے  انکشاف کیا ہے  کہ بروکولی کو سرطان  کے علاج معالجہ میں  بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

یون ہاپ ایجنسی کی خبر کے مطابق  سنگاپور  نیشنل یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے  بروکولی میں موجود پرو بائیوٹکس پر  انجنیئرنگ ریسرچ کی ہے۔

چانگ میتھیو ووک کی قیاد میں ہونے والی تحقیقات میں  اس بات کا پتہ چلایا گیا ہے کہ  بروکولی  کے پرو بائیوٹکس  سرطان کے خلیوں کے افزائش کو روکتے ہیں اور  کولو ریکٹرل    خراب ہونے والے خلیات کو ختم  کرتے ہیں۔

اس  ریسرچ کو “نیچر بائیو میڈیکل انجنیئرنگ ” جریدے میں   شائع کیا گیا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

فائدہ مند  جڑی بوٹی دارچینی کے ان گنت فوائد

 

دنیا میں پائے جانے والے درختوں کی ایک قسم جنس دارچینی (Cinnamomum) کہلاتی ہے اور انہی درختوں کی چھال کو دارچینی‘ (Cinnamon)  کہا جاتا ہے۔

دارچینی ذائقے کے لحاظ سے شیریں لیکن زبان پر چبھنے والی ہوتی ہے۔ اس کی رنگت ہلکی سیاہی مائل ہوتی ہے اور یہ زیادہ تر ہندوستان، سری لنکا اور چین میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس کی مختلف اقسام ہیں جو اپنی جسامت اور رنگت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہوتی ہیں۔ جدید تحقیق سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ عمومی امراض کے علاوہ دارچینی سے شوگر کے مریضوں کو بھی بہت فائدہ ہوتا ہے، جس کےلیے روزانہ صرف چند گرام دارچینی کا سفوف باقاعدگی سے استعمال کرنا کافی رہتا ہے۔

دارچینی کا مزاج گرم اور خشک ہوتا ہے جبکہ کھانوں کو لذیذ بنانے میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ جس کھانے میں دارچینی استعمال کی جائے وہ نہ صرف ذائقہ دار بلکہ خوشبودار بھی ہوجاتا ہے۔ دارچینی کا کھانوں میں استعمال اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ صحت مند رہیں گے کیونکہ یہ بہت سی بیماریوں میں بے حد مفید ہے۔

اس کا ایک بڑا مگر غیر معروف فائدہ یہ ہے کہ اسے کھانوں میں استعمال کرنے سے کھانے خراب ہونے سے بچ جاتے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے کھانوں میں کئی قسم کے جراثیم (بیکٹیریا) کی افزائش میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ دارچینی کے چند فوائد درج ذیل ہیں:

سینے کے امراض میں مفید

دار چینی کا شہد کے ساتھ استعمال بہت مفید ہے جس سے قوت مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے، یہ نزلہ زکام اور متلی میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

کھانسی اور دمہ کی شکایت کی صورت میں دارچینی کا سفوف شہد کے ساتھ استعمال کرنے سے افاقہ ہوتا ہے۔ اگر الرجی کے باعث چھینکیں آنے لگیں تو دارچینی کے استعمال سے ٹھیک ہوجاتی ہیں۔

بدہضمی کا خاتمہ

دارچینی معدے کی خرابیوں کا ازالہ کرتی ہے۔ جن لوگوں کو بدہضمی کی شکایت ہو وہ باقاعدگی سے دارچینی کا استعمال کریں کیوں دارچینی ہماری آنتوں اور معدے پر گراں نہیں گزرتی اور جلد ہضم ہوجاتی ہے۔ پیٹ پھولنے میں اس کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایسے خواتین و حضرات جنہیں بھوک نہ لگتی ہو، وہ دارچینی کا باقاعدہ استعمال شروع کریں۔ اگر دودھ ہضم نہ ہوتا ہو تو ایک لیٹر دودھ میں دو سے تین گرام دارچینی ملا کر استعمال کیجیے، دودھ ہضم ہوجائے گا۔

دل اور شریانوں کےلیے فائدہ مند

امراض قلب میں دارچینی کا استعمال مفید ہے۔ یہ ہمارے جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو نارمل رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور شریانوں میں خون جمنے سے روکتی ہے۔

دانت کے درد میں افاقہ

دانت کے درد کی صورت میں اگر دارچینی کا تیل (روغنِ دارچینی) روئی میں لگا کر درد والی جگہ پر رکھا جائے تو افاقہ ہوتا ہے۔

دردِ سر دور کرے

سر کے درد میں دارچینی کا لیپ ماتھے پر لگانا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے بالخصوص جب سردیوں میں دردِ سر کی شکایت ہو تو یہ عمل ضرور کریں۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

گریاں، مچھلی اور انڈے کی زردی بچوں کیلئے بہتر

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک حالیہ امریکی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ بچوں کی پیدائش سے قبل اگر ماں گریاں، مچھلی، انڈے کی زردی اور سبزیوں کا استعمال زیادہ کرے تو وہ بچے کی ذہنی نشو و نما کیلئے بہتر ہیں۔ ماہرین کی جانب سے حاملہ خواتین کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ حمل ٹھہرنے کے تین سے چار ماہ بعد ان چیزوں کا کثرت سے استعمال کریں، کیوں کہ ان غذاؤں سے پیٹ میں پلنے والے بچوں کا میٹابولزم بہتر ہوتا ہے۔

سائنس جرنل ’دی فیسب‘ میں شائع امریکا کی کارنیل یونیورسٹی کے ماہرین کی رپورٹ کے مطابق حاملہ خواتین کو ابتدائی ایام کے بعد وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذاؤں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ بھی پڑھیں: کم عمر بچوں کے لیے جوس بہتر یا دودھ؟ رپورٹ کے مطابق وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذاؤں کا ماں کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو و نما پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے حاملہ خواتین پر تحقیق کی گئی۔تحقیق کے لیے 26 حاملہ خواتین کی خدمات لی گئیں، جنہیں 2 مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے انہیں کئی ماہ تک وٹامن بی کمپلیکس کی حامل میٹابولزم کو بہتر بنانے والی غذائیں دی گئیں۔ ایک گروپ کی خواتین کو وٹامن بی کمپلیکس کی حامل غذائوں کی 450 ملی گرام جب کہ دوسرے گروپ کی خواتین کو 950 ملی گرام مقدار کی غذا دی گئی۔ آخر میں دونوں گروپوں کی خواتین کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی نشو و نما کا جائزہ لیا گیا، جس سے پتہ چلا کہ ان خواتین کے بچے ذہنی و جسمانی طور پر زیادہ بہتر تھے، جنہیں وٹامن بی کمپلیکس کی غذا زیادہ مقدار میں دی گئی۔ نتائج سے پتہ چلا کہ کم مقدار میں غذا کھانے والی خواتین کے پیٹ میں پلنے والے بچوں کی نشو و نما میں بھی بہتری آئی، تاہم ان کی رفتار ان بچوں سے کم تھی، جن کی ماؤں نے وٹامن بی کمپلیکس کی غذائیں زیادہ کھائیں۔ ماہرین نے حاملہ خواتین کو تجویز دی کہ وہ ابتدائی ایام کے بعد زیادہ سے زیادہ وٹامن بی کمپلیکس کی

غذائیں کھائیں۔ مزید پڑھیں: بچے زیادہ بیمار کیوں ہوتے ہیں؟ رپورٹ کے مطابق پیٹ میں پلنے والے بچوں کے لیے گریاں (خشک میوہ جات)، ہری سبزیاں، انڈے کی زردی، مچھلی سرخ گوشت اور سرخ مرغی کا گوشت فائدہ مند ہوتا ہے۔ پیٹ میں پلنے والے بچوں کی بہتر ذہنی و جسمانی نشو و نما کے لیے حاملہ خواتین کو چوتھے مہینے سے یہ غذائیں استعمال کرنی چاہئیں۔ ماہرین نے بتایا کہ وٹامن بی کمپلیکس کی غذائیں بچوں کے ابتدائی 13 ماہ کے لیے نہایت اہم ہوتی ہیں، اس لیے ماؤں کو دوران حمل ان غذاؤں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔

The post گریاں، مچھلی اور انڈے کی زردی بچوں کیلئے بہتر appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔