بیکٹیریا کی قوت مدافعت بڑھ گئی،اینٹی بائیوٹکس بے سود ہورہے ہیں:طبی ماہرین

طبی محققین کا کہنا ہے کہ بیکٹیریا میں ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا ہوجانے کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس بے اثر ہوتی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے صرف یورپ ہی میں سالانہ اموات کی تعداد 30 ہزار تک پہنچ چکی ہے؛ جو بہت تشویشناک ہے۔

بیماریوں کی روک تھام کےلیے کام کرنے والے یورپی ادارے “ای سی ڈی سی” نے اپنی ایک تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ بیکٹیریا نے اینٹی بائیوٹکس کو بے اثر کرنے کےلیے اپنے اندر بنیادی تبدیلیاں کرلی ہیں جس کے باعث یہ دوائیں اب ان جرثوموں سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خلاف کارگر ثابت نہیں ہو پارہی ہیں۔

تحقیق کے مطابق 2007 سے اب تک بیکٹیریا کی ساخت میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ دس  سالوں  میں بیکٹریا میں اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت پیدا ہوگئی ہے جس کی وجہ سے  صرف 2007 میں 25 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

ان افراد کی اموات پر تحقیقاتی کمیٹی نے ہوش ربا انکشافات کیے ہیں۔

طبی سائنس میں مزاحمت کار نئے بیکٹیریا کو “سپر بگ”کا نام دیا جا رہا ہے۔

 اگر ترقی یافتہ ممالک نے اس جانب موثر توجہ نہ دی تو جان لیوا جراثیم 2050 تک کروڑں افراد کی جان لے لیں گے کیوں کہ تب تک یہ انتہائی طاقتور اینٹی بائیوٹکس کے خلاف بھی مزاحمت پیدا کرچکے ہوں گے

واضح رہے کہ یہ صورتِ حال ترقی یافتہ ممالک کے بارے میں ہے ورنہ ترقی پذیر ممالک میں یہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ شدید ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

  پاکستان کا 2022 تک خلاء میں پہلا مشن بھجوانے کا اعلان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نئی حکومت کے آتے ہی ہمیں کئی تازہ خبروں کے ساتھ 20 اکتوبر 2018 کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے یہ بھی سننے کو ملا کہ چین کی مدد سے پاکستان 2022 تک خلاء میں اپنا پہلا خلاباز بھیج دے گا۔ یہ خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور اس پر بہت سے ماہرین بھی تبصرہ کرتے نظر آئے، اگر ہم اس اعلان کی نوعیت پر غور کریں تو اس بات کا

بخوبی علم ہوجائے گا کہ یہ پاکستان میں فلکیاتی پیش رفت ہے، یا سیاسی اعلان؟ ہم جانتے ہیں کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 10 اگست 2018 کو یوم آزادی کے موقع پر اعلان کیا تھا کہ “ہندوستان 2022 تک اپنا پہلا خلاباز خلاء میں بھیجے گا”۔ اس بیان کے بعد بھارتی عوام نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اگر بھارت خلاء میں اپنا خلاباز بھیجنے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو وہ اس خلائی دوڑ میں امریکا، روس اور چین کے بعد دنیا کا چوتھا ملک بن جائے گا۔ یہ تو تھا سیاسی بیان، لیکن کیا واقعی بھارتی خلائی ادارہ، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن، اس امر میں کوئی اقدامات کررہا ہے؟ تو اس حوالے سے فی الحال یہ خبریں ہیں کہ بھارتی خلائی ادارے کے پاس اس وقت اس قدر جدید ٹیکنالوجی موجود ہے کہ وہ خلاباز کو خلاء میں بھیج سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے بہت سے تجربات ہونے ابھی باقی ہیں، جس کے بعد ہی بھارتی خلائی ادارے کے لیے کسی انسان کو خلاء میں بھیجنے کی راہ ہموار ہوگی۔ بھارتی خلائی ادارے نے ’ہیومن اسپیس فلائٹ پروگرام‘ تشکیل دیا ہے جس کی پہلی خلائی گاڑی ’گگنیان‘ میں 3 بھارتی خلاباز موجود ہوں گے اور انہیں دسمبر 2021 میں زمین کے گرد نچلے مدار میں بھیج دیا جائے گا۔ واضع رہے کہ عالمی خلائی اسٹیشن، ہبل خلائی دوربین اور باقی انسان کی بنائی ہوئی سیٹیلائٹس بھی زمین کے گرد نچلے مدار میں ہی موجود ہیں، ان کا گردشی دورانیہ تقریباً 2 سے 4 گھنٹوں کے بیچ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر ہم پاکستان کی بات کریں تو اس کا حکومتی نظام 1990ء کے بعد سے کچھ اس طرح کا ہے کہ اگر پاکستان اپنے ہمسایوں خصوصاً بھارت میں کوئی بھی حرکت دیکھتا ہے تو اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح اپنے اس روایتی حریف سے آگے نکلا جائے، حالیہ بیان بھی اسی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

جیسے ہی بھارت نے 2022ء تک اپنا پہلا خلاباز بھیجنے کی بات کی تو اس کے تقریباً 2 ماہ بعد پاکستان نے بھی اعلان کردیا کہ ہم بھی خلاء میں جانے کے لیے تیار ہیں.   پاکستان کا 2022 تک خلاء میں پہلا مشن بھجوانے کا اعلان بہرحال اب یہ خلائی دوڑ کی شروعات ہوچکی ہے تو یہ بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ میچ کی طرح انتہائی دلچسپ ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی اگر پاکستان

اور بھارت کے خلائی اداروں کا موازنہ کیا جائے تو ایک عام شہری کے لیے بھی اس بات کا اندازہ لگانا آسان ہوجائے گا کہ اس دوڑ میں پاکستان اور بھارت کہاں کھڑے ہیں۔ پاکستان کا خلائی ادارہ قیام سے اب تک پاکستانی خلائی ادارہ جس کا مکمل نام ’اسپیس اینڈ اپر اٹموسفئیر ریسرچ کمیشن‘ (اسپارکو) ہے، 16 ستمبر 1961ء میں قائم کیا گیا۔ اس وقت اسپارکو کی سربراہی نوبل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کر رہے تھے۔

7 جون 1962ء کو اسپارکو کی طرف سے ایک راکٹ لانچ کا مظاہرہ کیا گیا تھا، اس راکٹ کو ‘راہبر-ون‘ کا نام دیا گیا، لیکن یہ راکٹ کوئی سیٹلائٹ یا خلائی گاڑی اپنے ساتھ نہیں لے کر گیا تھا۔ اسی طرح کے چھوٹے راکٹ لانچ 1972ء تک جاری رہے، یوں لگ رہا تھا، جیسے پاکستان کا یہ نومولود خلائی ادارہ خلاء میں جانے کے لیے تیاریاں کر رہا ہے، لیکن 80ء کی دہائی میں پاکستان میں

سیاسی نظام میں انتشار کی وجہ سے اسپارکو کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان کی پہلی سیٹلائٹ خلاء میں بھیجنے کا منصوبہ 1990 تک ملتوی ہوگیا۔ 1990ء میں ملک کے حالات اتنے خراب ہوچکے تھے کہ وہ پاکستان جو 1962ء سے 1972ء تک خود راکٹ لانچ کر رہا تھا، اب اسے اپنی سیٹلائٹ ‘بدر-ون’ کو زمین کے مدار میں پہنچانے کے لیے چین کی مدد لینی پڑی۔ پاکستان کا چین سے مدد لینا بدر۔

ون کو خلاء میں پہنچانے کے لیے تو کارآمد ثابت ہوا، لیکن اس کے اسپارکو پر بہت بُرے اثرات پڑے، جس کے نتیجے میں پاکستان اب تک ‘بدر-بی’ (2001ء میں) ‘پاک سیٹ ون-آر’ (2011ء میں) اور جولائی 2018ء میں اپنی 2 مواصلاتی سیٹلائٹس چین ہی کی مدد سے خلاء میں بھیجتا رہا ہے، یعنی پاکستان اب خود سے راکٹ لانچ کرنے کے لیے اقدامات نہیں کر رہا بلکہ اب اس کا سارا دار و مدار چین پر ہے۔

بھارت کا خلائی ادارہ قیام سے اب تک اس کے برعکس اگر بھارتی خلائی ادارے کی بات کی جائے تو یہ ادارہ اسپارکو کے قیام کے تقریباً 8 سال بعد وجود میں آیا تھا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ آج بھارت درجنوں مواصلاتی سیارے اور خلائی رصدگاہیں زمین کے گرد بھیج چکا ہے اور اس کے علاوہ 2008ء میں ‘چاندریان-ون’ نامی خلائی گاڑی چاند کے گرد بھی بھیج چکا ہے۔

بھارت 2022 تک پہلا انسان بردار خلائی مشن بھیجنے کا خواہشمند اس بھارتی خلائی گاڑی کی ایک دریافت یہ بھی ہے کہ اس نے حال ہی میں چاند کی سطح کے نیچے پانی کی موجودگی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت نے 5 نومبر 2013ء کو اپنی ایک مشین ‘منگل یاں-ون’ مریخ کی طرف بھیجی ہے اور یہ پہلی ہی دفعہ میں مریخ کے گرد مدار میں گردش کرنے لگی۔ یہ بھارتی خلائی ادارے

کے لیے ایک بڑی کامیابی تھی کیونکہ اس سے پہلے امریکا، یورپ اور چین بھی مریخ کی طرف اپنی خلائی گاڑی بھیج چکے ہیں لیکن پہلی دفعہ میں بھارت کے علاوہ کسی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس کامیابی کے بعد بھارتی خلائی ادارہ دنیا کے کارآمد خلائی اداروں میں سے ایک ہوگیا. اگر ہم بھارتی خلائی ادارے کے قیام کے بعد کی بات کریں، تو ایسا نہیں ہے کہ بھارت شروع سے ہی

اپنی سرزمین سے خلائی تجربات کررہا ہے، بلکہ بھارت نے صرف 1970ء اور1979ء میں لانچ ہونے والی اپنی پہلی 2 سیٹلائٹس سوویت یونین پروگرام کے ذریعے لانچ کی تھیں، لیکن پاکستان کے برعکس اس نے ہمیشہ ان پر انحصار نہیں کیا بلکہ اسی دوران اپنی ’لانچ فیسلٹی‘ (راکٹ خلاء میں بھیجنے کی جگہ) تیار کرلی اور 7 جون 1979ء کو سوویت یونین سے لانچ ہونے والی بھارتی سیٹلائٹ کے

تقریباً 3 ماہ بعد ہی اس نے سیٹلائٹ لانچ کرنے کی کوشش کی، جو ناکام رہی لیکن اگلے ہی سال دوبارہ اپنی سرزمین سے سیٹلائٹ لانچ کرکے بھارت خلائی تسخیر کے اس سفر میں خود مختار ہوگیا، جس کے بعد سے اب تک بھارت اپنی ہی سرزمین سے 100 سے زائد سیٹیلائٹس اور خلائی مشن لانچ کرچکا ہے۔ ادارے کے سربراہ یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ کسی بھی ادارے کے عروج و زوال کا دار و مدار

اس کے سربراہان پر ہوتا ہے اور یہ بات دونوں ہمسایوں کے خلائی اداروں پر بالکل ٹھیک ثابت ہوتی ہے کیونکہ اگر اسپارکو کی بات کی جائے تو یہ ادارہ پاکستان کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کی سربراہی میں قائم ہوا، چونکہ یہ سائنسی ادارہ کسی سائنسدان کی سربراہی میں کام کر رہا تھا، اس لیے یہ اپنی ابتداء میں متحرک تھا۔ اسی طرح بھارتی خلائی ادارہ بھی ایک سائنسدان ‘وکرم سرابھائی’

کی سربراہی میں تیزی سے کام کرتا رہا، لیکن بعد میں بھارتی خلائی ادارے کے سربراہان تو سائنسدان ہی رہے لیکن پاکستان کے خلائی ادارے اسپارکو کے سربراہ ہونے کا اعزاز سائنسدانوں کے پاس نہ رہا، یہی وجہ ہے کہ اسپارکو کا آج عالمی سطح پر کوئی نام و نشان ہی نہیں اور نہ ہی پاکستانی عوام کو اس ادارے کے بارے میں کسی قسم کی معلومات ہیں. حکومت کی لاپرواہی ان خلائی اداروں کی بات ہو ہی رہی ہے۔

تو حکومت کے ان کے بارے میں اقدامات پر بھی نظر دوڑائی جاسکتی ہے۔ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ 1970ء سے 1990ء تک کی سیاسی انتشار کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر منفی اثر ہوا، تو اسی طرح تمام حکومتی ادارے بھی ساتھ ہی خراب ہوئے، لیکن آج اگر اسپارکو کے کسی ممبر سے بات کی جائے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ اسپارکو کو فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔

جس وجہ سے یہ ادارہ صحیح سے کام نہیں کر پا رہا۔ سال 19-2018 کے لیے حکومت نے اسپارکو کا بجٹ 4 ارب 70 کروڑ روپے رکھا ہے جو اس کی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ اس کے برعکس اگر بھارتی حکومت اور ان کے ادارے کو دیکھا جائے، تو اس نے خلائی ادارے کا سال 19-2018 کا بجٹ تقریباً 190 ارب پاکستانی روپے مقرر کیا ہے۔ پاکستانی ادارے کو اس قدر کم فنڈز

کی وجہ حکومتی عہدے پر براجمان کسی سیاستدان سے پوچھی جائے تو جواب میں یہ سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان میں پانی، خوراک اور باقی مسائل بہت زیادہ ہیں، لہذا یہ خلائی ادارہ اور فلکیاتی تگ و دو حکومتی ترجیحات میں بہت نیچے ہیں۔  پاکستان نے مقامی سطح پر تیار کردہ 2 سیٹلائٹس خلاء میں بھیج دیں اس بات میں یقیناً سچائی موجود ہے لیکن اگر ہم بھارت کو دیکھیں تو وہاں بھی یہی مسائل درپیش ہیں ۔

وہاں بھی بہت سے لوگ خوراک کی قلت کی وجہ سے مرتے ہیں، لیکن پھر بھی بھارت جنوری 2019ء میں اپنی دوسری خلائی گاڑی ’چاندریان – 3‘ چاند کی طرف بھیجنے کے لیے تیار ہے۔ اب اگر ہم بھارت اور پاکستان کے 2022ء تک خلاء میں اپنے پہلے خلاباز کو بھیجنے کے بیان پر دوبارہ سے نظر دوڑائیں، تو صاف ظاہر ہے کہ اس خلائی دوڑ میں شاید پڑوسی ملک ہم سے آگے نکل جائے۔

کیونکہ بھارتی خلائی ادارے نے نہ صرف خلاء تک رسائی حاصل کی ہے، بلکہ اپنی قوم کے نوجوانوں میں فلکیاتی تعلیم کو بھی عام کیا ہے تاکہ وہی نوجوان سائنسدان اپنے ملک کے خلائی ادارے میں کام کرسکیں۔ خلائی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے لیے جن چیزوں کا ہونا ضروری ہے، وہ اسپارکو کے پاس موجود نہیں، لہذا اسپارکو کو ابھی خود مختار ہونے اور اپنی عوام میں فلکیات کا شوق

پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان میں بہت کچھ ایسا ہے، جس سے بھرپور استفادہ کیا جا سکتا ہے، ان میں سرِفہرست صوبہ بلوچستان ہے، جس کو عام طور پر بنجر اور بیکار سمجھا جاتا ہے۔ اس صوبے میں اگر رسدگاہ بنائی جائے تو پاکستان بھی فلکیاتی تحقیقات میں اپنا حصہ ڈال سکتا ہے، اس کے علاوہ شمالی علاقہ جات بھی رات میں فلکیاتی مشاہدوں کے لیے کافی موزوں ہیں۔

The post   پاکستان کا 2022 تک خلاء میں پہلا مشن بھجوانے کا اعلان appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

Pakistan Science Foundation manifests the World Science Day 2018

Pakistan Science Foundation manifests the World Science Day for Peace and Development (WSDPD) will be on November every year. Pakistan Science Foundation in cooperation with the Ministry of Science & Technology and UNESCO is celebrating Science Day and accredit a range of activities relevant to the year’s theme.

 Pakistan Science Foundation manifests the World Science Day 2018

The upcoming World Science Day theme 2018 “Science a Human Right” to acknowledge the contribution of science and scientists toward development of society.

To manifests the World Science day Pakistan Science Foundation will arrange confined lectures, scientist conference, number of competitions for science students and an award ceremony. Aprox nine Sub-centers of PSF across the country will be actively engaged for arranging quiz competition, science exhibitions and debate competition for the science students.

Pakistan Science Foundation will award gold, silver and bronze medals along with cash prizes worth Rs. 20,000, Rs. 15,000 and Rs. 10,000 to the participants for the essay, poster and other competitions. About 27 educational institutes are selected for the winner of poster competition across the country.

Young Science Achievers and the students selected to participate in the International Junior Science Olympiad (IJSO), will also be invited to attend the World Science Day and awarded by PSF for their contributions in the field of science.

The World Science Day 2018 theme highlights the relation between science and society. It aims to create communal awareness of how science contributes to sustainable societies, international solidarity, international collaboration in science for the benefit of society, and raising support to encounter challenges that science faces today.

World Science Day theme is a good starting point for the scientists to better understand human rights and it brings focus to be familiar with the right of everyone to enjoy the benefits of scientific progress including the rights to health, food, a clean environment, and as the universal assertion of Human Rights.

The post Pakistan Science Foundation manifests the World Science Day 2018 appeared first on Technology Times.

Reference: www.technologytimes.pk

Pakistan’s IT industry need more experts and research

IT industry in Pakistan has the potential to expand even more in the future as it is mounting day by day vigorously. Information Technology sector is concerning as the most successful sector of the Pakistan’s economy and can get higher to the fore by accommodating more young talented skilled people and more research in the domain of IT industry.

IT industry in Pakistan needs more experts and research

Technology transformed the country’s development gradually, and was opening up new path for all, and many of Pakistani young talented were specializing in different aspects of the IT industry and being supported by the government.

Department of Computer Science, University of Karachi organized an event career fair 2018 for the students to access job opportunities and gain IT-knowledge to prosper ahead.

Pakistan was ranked in the top five countries that had the best professional freelancers. It is a great pleasure for the country to be allied with this initiative of the Department of Computer Science, University of Karachi (DCS-KU), which is geared towards the promotion of new technologies and job opportunities for the fresher’s.

The world had become a global village due to the occurrence of globalization and scientific growth and development. In this regard, a job-oriented curriculum and degrees had become pivotal due to the modern trends of the industry and the markets.

The IT industry in Pakistan needs more research; we need more people to come in the field of research and invention so Pakistan can compete with other countries with regards to IT sector. We are living in times where basic knowledge of computer science is required everywhere.

We have many talented developers and IT professionals in Pakistan, but there are not enough IT-related products in the market. I will encourage my students to work on producing products that go out in the international market as Pakistani products.

IT industry provided a platform for students to enter the professional life, and afterwards their skills were the deciding factor. Pakistani students were highly talented and competent, and they just needed direction and guidance to groom.

The government aims to increase productivity in the public sector, improve the standards of IT infrastructure in the country and use it as a management tool for the promotion of good governance and made the IT industry of Pakistan the leading IT sector worldwide.

The post Pakistan’s IT industry need more experts and research appeared first on Technology Times.

Reference: www.technologytimes.pk

First science, Technology park to start running in December 2018

Pakistan’s first science, innovation and technology park become functional by December 5, 2018 at the Pakistan Council of Scientific and Industrial Research (PCSIR), Lahore.

First science, Innovation park to start running in December 2018

Initiating first science, technology and Innovation Park in Pakistan could change the countenance of Pakistan’s economy exclusively and it had been revolutionized into a new, dynamic and pulsating economy of the world.

STIP will help the industrial sector toggle over to knowledge-based economy with a multi-dimensional chain of value addition.

Dr Shahzad Alam, PCSIR Chairman at Faisalabad Chamber of Commerce and Industry (FCCI), alleged that another proposal was under consideration to set up a dedicated science, technology and innovation park for the textile sector in Faisalabad.

The project STIP start running in December 2018 will be funded through our own resources (PCSIR) and is expected to be completed within 56 days as; PCSIR has a globally accredited lab which has the facility to conduct 472 sophisticated tests. Initially 15 to 20 industrial units would be provided space and facilities while in the later period, additional facilities could be accommodated.

Over the last 70 years, successive attempts had been made to promote the knowledge-based industry in Pakistan. Set up of science, technology and Innovation Park in Pakistan will provide innovative ideas in addition to upgrading technology and value addition in existing as well as in new industrial units.

The Lahore Knowledge Park started with a funding of Rs1 billion, but its net result was zero. Similarly, two of Pakistani universities proposed viability reports involving “National University of Science and Technology” Nust Rs70 million and Comsats University Rs55 million respectively for the system which also failed to defer any result.

The idea of science and technology Park had been coined keeping in view a Chinese model which had four dimensions. The first dimension, China developed national hi-tech zones. Similarly, local substitutes for different imports were manufactured within the country while new technologies were imported to upgrade the Chinese industrial sector.

The model had changed the face of Chinese economy entirely and it had been transformed into a new, dynamic and vibrant economy of the world. “Now, China has developed vision 2050 which is aimed at making it a global leader in innovation.”

Pakistan Council of Scientific and Industrial Research (PCSIR) had inked agreements with Belarus and China to acquire latest technology in the world which could be provided to local industrialists.

PCSIR has acquired technology to extract oil. Similarly, we should not allow exploration and export of raw minerals to foreigners.

We should frame a practical and progressive mineral policy so that our private sector can explore and export it after value addition.

Bringing these innovations in Pakistan could completely transform the economy as well as become the innovation leader worldwide.

The post First science, Technology park to start running in December 2018 appeared first on Technology Times.

Reference: www.technologytimes.pk