واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر کارآمد یا دل توڑ دینے والا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے مقبول ترین میسنجر واٹس ایپ کے صارفین کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے اور ان میں سے بھی بیشتر افراد گروپس میں چیٹ کرنا پسند کرتے ہیں۔ تاہم اب واٹس ایپ میں ایسا فیچر متعارف کرا دیا گیا ہے جسے آپ بیک وقت فائدہ مند اور دل توڑ دینے والا بھی قرار دے سکتے ہیں۔ اس فیچر کے ذریعے گروپ کے صارفین کو چیٹ کا حصہ بننے سے روکا جاسکے گا۔

اور ایڈمن کی منظوری کے بغیر کوئی میسج اس گروپ کا حصہ نہیں بن سکے گا۔ واٹس ایپ کی 14 بہترین ٹرکس جی ہاں اس فیچر کے ذریعے گروپ ایڈمن کے پاس یہ پاور ہوگی کہ وہ میسج سیٹنگز میں تبدیلی کرکے گروپ میں پوسٹنگ صرف ایڈمنز تک محدود کردے۔ واٹس ایپ کے مطابق اس نئی سیٹنگ سے اہم گروپ بات چیت کے دوران غیرضروری فارورڈ پیغامات کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ یہ فیچر اس حوالے سے بھی اہم ہے کہ اس سے واٹس ایپ گروپس کو افواہوں یا غیرتصدیق شدہ معلومات پھیلنے سے روکنے میں مدد مل سکے گی۔ کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لوگوں گروپس کو اہم اعلانات اور معلومات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں، یا اپنے قریبی رشتے داروں، دوستوں کے ساتھ رابطے بڑھاتے ہیں، اب ہم ایسی نئی سیٹنگز متعارف کرارہے ہیں جو ایڈمنز کو ان گروپس کو بہتر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد دے گا۔ اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے کسی گروپ کی ونڈو اوپن کرکے اوپر موجود نام پر کلک کریں اور پھر گروپ سیٹنگز، سینڈ میسجز اور سلیکٹ اونلی ایڈمنز پر چلے جائیں۔ اسکرین شاٹ یہ سیٹنگز دنیا بھر میں تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، اگر نہیں تو واٹس ایپ کو اپ ڈیٹ کرلیں۔ واٹس ایپ میں پیغامات شیڈول کرنا سیکھیں گزشتہ ماہ واٹس ایپ نے گروپس کے لیے چند دیگر فیچرز بھی متعارف کرائے تھے، جن میں ایڈمنز کو گروپ ڈسکرپشن ایڈ کرنا اپنے حد تک محدود کرنے، گروپس سیٹنگز میں نئے کنٹرولز، ایڈمن کو سبجیکٹ، آئیکون بھی دیگر اراکین کو بدلنے سے روکنا شامل ہیں۔ خیال رہے کہ ایک واٹس ایپ گروپ میں 256 افراد کو شامل کیا جاسکتا ہے۔

The post واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر کارآمد یا دل توڑ دینے والا؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

مائیکرو سافٹ کی سب سے منفرد ڈیوائس؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مائیکرو سافٹ کے ٹیبلیت سرفیس کو ایپل کے آئی پیڈ کا بہترین متبادل قرار دیا جاتا ہے اور لگتا ہے کہ اب یہ کمپنی ایسی ڈیوائس پیش کرنے والی ہے جو سب سے منفرد ثابت ہوگی۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے سرفیس کے ایک نئے ماڈل پر لگ بھگ گزشتہ 2 برسوں سے کام کیا جارہا ہے جسے Andromeda کا کوڈ نام دیا گیا ہے۔ مگر اب اس کی تفصیلات لیک ہوکر سامنے آگئی ہیں۔

جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فولڈ ایبل ٹیبلیٹ ہوسکتا ہے جو آرام سے جیب میں بھی آجائے گا۔ مائیکرو سافٹ کا سب سے طاقتور لیپ ٹاپ متعارف دی ورج کی رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کی جانب سے اس ڈیوائس پر خاموشی سے کام کیا جارہا تھا اور مانا جارہا تھا کہ یہ ایسا ٹیبلیٹ ہوگا جو کہ موبائل اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے درمیان ایک نئی حد قائم کرے گا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیب میں آجانے والی یہ نیا ٹیبلیٹ اپنے ساتھ جدید ترین ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر تجربہ صارفین کو فراہم کرے گا۔ مائیکرو سافٹ نے اس حوالے سے بات کرنے سے انکار کیا ہے۔ مائیکرو سافٹ نے 6 سال قبل سرفیس آر ٹی اور سرفیس پرو کو متعارف کرایا تھا جن کا مقصد ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ کے درمیان ایک نئی کیٹیگری کو قائم کرنا تھا۔ 32 سال بعد مائیکرو سافٹ پینٹ کا عہد ختم سرفیس پرو مائیکرو سافٹ کا کامیاب ٹیبلیٹ ثابت ہوا جس کے ڈیزائن کسی حد تک ایپل نے بھی کاپی کیا اور اب یہ نیا فولڈ ایبل ٹیبلیٹ بھی بڑا چیلنج ثابت ہونے والا ہے۔ یہ ٹیبلیٹ اس وقت تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے جس کا ڈیزائن حال ہی میں ایک ٹوئٹر صارف کے کانسیپٹ ڈیزائن سے ملتا جلتا لگتا ہے۔ مائیکرو سافٹ کی جانب سے اس نئے ٹیبلیٹ کے ساتھ اسٹائلوس کا تجربہ بھی کیا جارہا ہے، یعنی جب ڈیوائس فولڈ ہوجائے تو پین کے ذریعے اسے استعمال کیا جاسکے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس ٹیبلیٹ میں انٹیل یا کوالکوم میں سے کس کمپنی کا پراسیسر استعمال کیا جائے گا۔

The post مائیکرو سافٹ کی سب سے منفرد ڈیوائس؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

شہاب ثاقب کیوں برستے ہیں اور’عالمی یوم سیارچہ‘کا مقصد کیا؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیال کیا جاتا ہے کہ زمین کی سطح پر زندگی کی ابتداء تقریبا ایک ارب سال پہلے ہوئی،کرہ ارض پر زندگی کی ابتداء اور بتدریج ارتقاء سے متعلق متعدد نظریات پیش کیے جاتے رہے ہیں جن میں سب سے زیادہ مستند چارلس ڈراون کے نظریۂ ارتقاء کو سمجھا جاتا ہے مگر عوامی اور کم فہم حلقوں میں یہی نظریہ سب سے زیادہ لعن طعن کا شکار بھی ہوا ہے۔ ارتقاء کے نظریات چاہے ایک دوسرے سے کتنے ہی متصادم رہے ہوں اس امر پر زیادہ تر سائنسدان متفق ہیں۔

لگ بھگ 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے زمین پر ڈائنو سارز جیسے عظیم الجثہ حیوانات کا راج تھا اور صرف یہی نہیں اس دور میں زمین پر پائے جانے والے دیگر چرند پرند و نباتات بھی جسامت اور بناوٹ میں یکسر مختلف تھے۔ سائنس دانوں کو دنیا کے مختلف حصوں سے ایسے آثار قدیمہ ملے ہیں جس سے ان کے اس نظریے کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس دور کا اختتام زمین کے ساتھ کسی بڑے حجم کے شہاب ثاقب ( میٹی رائڈ) یا ایسٹی رائڈ ( سیارچے ) کے ٹکرانے کے باعث ہوا۔ یہ تصادم اس قدر شدید رہا ہوگا کہ اس سے نہصرف ڈائنو سارز کی مختلف انواع ہمیشہ کے لیے معدوم ہوگئیں بلکہ اس دور میں زمین پر بسنے والی دیگر 75 فیصد بری و بحری سپی شیز (نوع) کا بھی مکمل طور پر صفایا ہوگیا، اس کے علاوہ سیارچے کے پوری طاقت کے ساتھ دھماکے سے پھٹنے کے بعد زمین کے ماحول اور آب و ہوا میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں واقع ہوئیں کیوں کہ ہم آج دیکھتے ہیں کہ کرۂ ارض کے کسی بھی علاقے میں محض ایک آتش فشاں کے پھٹنے سے سورج کی روشنی کئی کئی ماہ تک رکی رہتی ہے جس سے اس علاقے کا درجہ حرارت بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتا ہےاور وہاں کی آبادی ہی نہیں نباتات و حیوانات بھی براہ راست گرد و غبار اور گاڑھے دھویں کی زد پر ہو تے ہیں۔ درحقیقت آتش فشاں کے پھٹنے اور سیارچے کے تصادم کا کوئی موازنہ ہی نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اول الذکر سے صرف ایک خاص علاقہ ہی متاثر ہوتا ہے جب کہ سیارچے سے تصادم جتنا شدید ہوگا اس سے اتنے ہی وسیع علاقے میں تباہی پھیلے گی۔ تاریخی اور سائنسی حوالوں کے مطابق تقریبا 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے جدید میکسیکو کے سمندری علاقے چک سولب کے قریب 10 سے 15 کلو میٹر قطر کا ایک سیارچہ ٹکرایا تھا، جس کے نتیجے میں وہاں 150 کلو میٹر بڑا اور 20 کلومیٹر گہرا گڑھا پڑا۔

اس ٹکراؤ سے زمین کے اسٹریٹو سفیئر میں گرد و غبار اور دھواں اس قدر زیادہ تھا کہ سورج کی 80 فیصد روشنی بلاک ہوگئی جبکہ اس سے خارج ہونے والی توانائی کا اندازہ لگانا اب تک مشکل ہے کیوں کہ کرہ ارض کا شاید ہی کوئی خطہ ایسا ہو جو اس تصادم سے ہونے والی تباہی کی زد پر نہ آیا ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سیارچہ میکسیکو کے علاوہ زمین کے 87 فیصد حصے میں واقع کسی اور علاقے سے ٹکراتا تو شاید اتنی تباہی نہ ہوتی اور آج ڈائنا سارز جیسے عظیم الجثہ جانوروں کی کوئی نوع زمین پر ضرور موجود ہوتیں۔

لیکن چک سولب کے اطراف میں زیادہ تر علاقوں میں ہائیڈرو کاربنز یا نامیاتی مرکبات بہتات میں پائے جاتے ہیں جو ایندھن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں لہذا سیارچے کے زوردار دھماکے سے پھٹنے کے بعد بڑے بڑے پتھر آگ کے گولوں کی طرح اڑتے ہوئے سیکڑوں کلو میٹر تک گئے جن کی زد میں آکر زمین پر آباد 75 فیصد سپی شیز ہمیشہ کے لیے معدوم ہو گئیں۔

سیارچے یا ایسٹی رائڈ وہ اجسام ہیں جو ہمارے نظام ِ شمسی میں آزادانہ گھومتے رہتے ہیں اور عموما دیگر سیاروں سے ٹکرا کر بڑی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ آتش فشاں کیوں پھٹتے ہیں اور اب تک ان سے کتنی تباہی ہوچکی؟ بنیادی طور پر یہ سیارے ہی ہوتے ہیں مگر عام سیاروں یا ڈوراف پلینٹ کی نسبت سائز میں کافی چھوٹے ہوتے ہیں، ان کا سائز عموما ایک کلومیٹر سے 1000 کلومیٹر کے درمیان ہوتا ہے ۔

جس کے باعث انہیں سیارچہ کہا جاتا ہے جو قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ستارہ ہے۔ اگرچہ دیکھنے میں یہ ستارے ہی لگتے ہیں مگر ستاروں کے بر عکس یہ آزادانہ گھوم سکتے ہیں، لیکن ان کی اپنی روشنی نہیں ہوتی اس لیے فلکیات میں انہیں پلینٹائڈ بھی کہا جاتا ہے، ساخت کی مناسبت سے دیکھا جائے تو سیارچے وہ چٹانیں یا بڑے سائز کے پتھر ہیں جو نظام ِ شمسی کی تشکیل کے وقت دھر ادھر بکھر گئے تھے۔

جن کا زیادہ تر حصہ کاربن اور دھاتوں کے اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے، مگر ان کا حجم چوں کہ بہت کم ہوتا ہے اس لیے یہ اکھٹے ہو کر سیاروں میں نہیں ڈھل پاتے۔ ساخت اور اجزاء کی مناسبت سے سیارچوں کو ایس (سادہ پتھر)، سی ( کاربن کے مرکبات) اور ایم (میٹلز،دھاتوں ) کے گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہمارے نظام شمسی میں زیادہ تر سیارچے مریخ اور مشتری کے درمیان پائے جاتے ہیں، جسے ‘ایسٹی رائڈ بیلٹ’ کہا جاتا ہے۔

اور ان میں سے جو سیارچے گردش کرتے ہوئے زمین کے قریب آ جائیں وہ ‘ نیئر ارتھ ایسٹی رائڈ ‘ کہلاتے ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ سیارچے 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے چک سو لب پر ہونے والے واقع کے بعد بھی وقتا فوقتا زمین پر تباہی پھیلاتے رہے ہیں، جن میں سب سے زیادہ اہم 30 جون 1908 کو رونما ہونے والے ‘ٹنگسکا’ کے واقع کو حاصل ہے جو روس میں دریائے ٹنگسکا او رمشرقی سائیبیریا کے قریب کم آبادی والا علاقہ ہے۔ اس واقعے کو اس حوالے سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔

اس میں 200 سے 620 فٹ بڑا سیارچہ زمین کی سطح سے ٹکرانے کے بجائے فضا میں 5 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر شدید دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا تھا جس سے ری ایکٹر اسکیل پر 5 درجے کے زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے گئے تھے، اس کے علاوہ اطراف میں 200 کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے جنگلات شدید متاثر ہوئے اور 80 لاکھ درخت جل کر خاکستر ہوگئے تھے، مگر آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

س کے باوجود ٹنگسکا کے واقع کو کسی شہابیے یا سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کے باعث ہونے والا تاریخ کا ہولناک ترین واقع قرار دیا جاتا ہے ، کیونکہ 6 کروڑ 60 لاکھ سال پہلے ہونے والے چک سولب واقعے کی صرف دستیاب آثار قدیمہ سے ہی تصدیق ہو سکی ہے۔ اگرچہ ایک طویل عرصے تک ٹنگسکا میں سیارچے کے دھماکے سے پھٹنے کے حوالے سے سائنسدان تضادات کا شکار رہے۔

مگر 2013 میں امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے یہاں سے حاصل شدہ پتھروں کے لیبارٹری معائنے کے بعد یہاں پھٹنے والی شے کو شہاب ثاقب ہی قرار دیا تھا، کیوں کہ اس سیارچے کے پھٹنے سے فضا میں سے 15 سے 30 ٹی این ٹی کی توانائی کا اخراج ہوا۔ ایسا حیران کن سیارہ جو اپنے سورج کے آدھے سائز کا ہے واضح رہے کہ ٹی این ٹی کسی نیوکلیئر دھماکے سے ہونے والے توانائی کے اخراج کا پیمانہ ہے۔

ٹنگسکا پر دھماکے سے خارج ہونے والی توانائی امریکا کی جانب سے 1945 میں جاپانی شہر ہیرو شیما پر گرائے گئے ایٹم بم دھماکے سے بھی ایک ہزار گنا زیادہ اور 1954 میں کیزل براوو میں ہونے والے امریکی ایٹمی دھماکوں کے تقریبا برابر تھی۔ یہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کے لیے نہ صرف ایک بڑا ڈیزاسٹر تھا بلکہ لمحہ فکریہ بھی تھا، اس کے بعد سے دنیا بھر سے محققین اور سائنسدانوں کی توجہ خلاء میں آزادانہ گردش کرتے ان سیارچوں اور شہابیوں کی طرف مبذول ہوئی۔

جو کسی بھی وقت زمین سے ٹکرا کر ہولناک تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ لیکن 21 ویں صدی میں سیارچوں کے زمین سے ٹکرانے یا شہاب ثاقب کی بارش سے متعلق پیش گوئی کے حوالے سے بہت پیش رفت ہوچکی ہے، اب ایسی آفات کا وقت سے پہلے تعین کرنا قدرے ممکن ہوچکا ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ حال ہی میں امریکہ کی نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کاؤنسل نے خبردار کیا ہے۔

2013 میں مشتری پر ہونے والے لیوی نائن شہاب ثاقب کی برسات کے بعد سے مختلف امریکی ریاستوں میں سیارچوں کے ٹکرانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور صرف امریکی ریاستوں ہی نہیں دنیا کا کوئی اور خطہ بھی ان کی زد میں آسکتا ہے جو لا محالہ کسی بڑی تباہی کا باعث بنے گا۔ اس لیے ایک حفاظتی پالیسی بنانا ناگزیر ہے تاکہ عوام کا ان علاقوں سے بر وقت انخلاء ممکن ہو سکے، جو ارلی وارننگ سسٹم کی بدولت ہی ممکن ہے۔

اس کے علاوہ سیارچے کے دھماکے سے پھٹنے کی صورت میں اس علاقے کی آب و ہوا اور ماحول میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں اور وہاں کے مخصوص حیوانات و نباتات کی حفاظت کا انتظام کرنا بھی اشد ضروری ہے ورنہ خدشہ ہے کی ڈائنا سورز کی طرح ہم کئی اور نایاب النسل جانوروں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔ المیہ یہ ہے کہ سیارچوں کے زمین سے ٹکرانے یا شہاب ثاقب کی بارش کے حوالے سے معلومات رکھنا تو دور کی بات دنیا کے کئی لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ ’عالمی یوم سیارچہ‘ کا مقصد کیا ہے۔

اسے کب سے منایا جا رہا ہے اور اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟۔ کائنات کی تشکیل سے اب تک، کب کیا ہوا؟ اس حوالے سے سادہ اور مختصر بات یہ ہے کہ ’عالمی یوم سیارچے‘ کو خلائی تحقیقات کرنے والے اداروں اور اقوام متحدہ کے توسط سے 4 سال قبل یعنی 2014 میں ہر سال 30 جون کو منانے کا آغاز کیا گیا،آج دنیا بھر میں پانچواں عالمی یوم سیارچہ منایا جا رہا ہے۔

جس حوالے سے امریکا سے لے کر برطانیہ اور جرمنی سے لے کر آسٹریلیا تک مختلف سیمینارز اور سائنسی پروگرامات کا اہتمام کیا گیا ہے۔ 30 جون کو عالمی یوم سیارچہ منانے کا اولین مقصد یہ ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بسنے والے افراد میں ان کی ہلاکت خیزی اور بچاؤ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جاسکے۔ پاکستان سمیت متعدد ترقی پزیر ممالک میں شہابیوں کی بارش یا سیارچوں کے ٹکراؤ کے حوالے سے آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں بھی توہمات پائی جاتی ہیں ۔

اور آئے روز پاکستانی میڈیا میں اس طرح کی خبریں گردش میں ہوتی ہیں کہ قیامت آنے والی ہے یا زمین کا اختتام ہوا چاہتا ہے اور اس طرح کی پیشن گوئیاں عموما ایسے جیوتشی یا ایسٹرولوجرز کرتے ہیں جن کی سائنسی معلومات نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ اس امر میں ہرگز کوئی شک نہیں کہ آسمان سے پتھروں کی بارش یا کسی سیارچے کا زمین سے ٹکراؤ چک سولب جیسی ہولناک تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔

جس کی وجہ سے زمین پر آباد 75 فیصد مخلوق فنا ہو گئی تھی۔ مگر اس کی قبل از وقت پیش گوئی وہ بھی سائنسی معلومات سے بے خبر ایسٹر لوجزر کی جانب سے کی جانے والی پیش گوئی حقیقت سے بہت دور ہوتی ہے۔ لہذا عوام کو چاہیے کہ وہ سنی سنائی اور سروپا باتوں یا افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے صرف امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا، یورپین اسپیس ایجنسی یا دیگر مستند ذرائع کے جانب سے جاری کی جانے والی وارننگز پرہی توجہ دیں۔

The post شہاب ثاقب کیوں برستے ہیں اور’عالمی یوم سیارچہ‘کا مقصد کیا؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

Health and Wellness Centre Inaugurated at LUMS

PR: Prof. Dr. S. Sohail H. Naqvi on behalf of LUMS signed an MOU with National Hospital and Medical Centre (NHMC) to develop and operate a “Health and Wellness Centre” on the University’s premises for the provision of Emergency Medical Services to all members of the LUMS Community.

Within three months of the MOU being signed, the Health and Wellness Centre was inaugurated and is now fully operational to the entire LUMS community. The inauguration was attended by important members from LUMS among them being Vice Chancellor, Prof.Dr. S. Sohail H. Naqvi, Chief Operating Officer,Ms. Nabiha Shahnawaz, Dean of Syed Babar Ali School of Science and Engineering,Dr. Shahid Masud, Head of Finance and Accounts, Zunair Zafar, Senior Manager Procurement, Muhammad Iqbal, Head of Human Resources, Asif Iqbal, Muhammad and Director General Administration and Services, Muhammad Amer Khan Durrani,

The Centre was inaugurated by Dr. Shahida Khawaja, CEO NHMC. At the ceremony, Dr. Khawaja spoke about the absolute need to have quick and effective treatment on the premises. She said, “All the basic facilities for urgent care are present on-spot for the entire LUMS community.”

Talking about the importance of the Centre, Dr. Naqvi said, “It was imperative for the LUMS family to have a Health and Wellness Centre for emergency cases. There will be ambulances available to take more serious cases to the National Hospital. The Centre will especially be important for preventive campaigns to take better care of the students.”

NHMC will offera state-of-the-art medical care facility to LUMS Community and will also ensure the operations and management of the Centre since the University does not possess the requisite expertise.The centre will cater to all first aid medical situations on campus, while those that require further treatment or diagnosis will be referred to NHMC. The facility is planned to be active 24 hours, 7 days a week including all national holidays. The Centre will comprise of a doctor and two staff members, beds for patients, basic emergency equipment, basic medicines and an active ambulance service.

“This is a step towards a better, healthier, and more comprehensive campus climate for all those who contribute in making LUMS a leading institution in Pakistan. The inauguration of a 24/7 clinic on campus is setting an example to institutional leaders that as a nation we must value inclusive-excellence which includes physical, mental and emotional well-being for each individual as part of our core mission of educational institutions,” commented Hiba Zakai, Campus Climate Manager, Dean of Student Affairs Office. Ms. Zakai believes this agreement will benefit the students the most and especially those living in hostels since immediate and quality medical care will be readily available whereas until now students had to be transported to the nearest hospital in case of emergency.

Reference: www.technologytimes.pk

پاکستانی قوم کیلئے آج فخر کا دن،جو کام ساری دنیا کے سائنسدان مل کر نہ کر سکے پاکستانی سائنسدان نے کر دیا، نظام شمسی کے اہم سیارے میں زندگی تلاش کر لی، تحقیق نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی

برلن(نیوز ڈیسک)اب یہ کہنا ممکن ہے کہ زمین سے ہٹ کر زندگی کے لیے ضروری تمام اجزاء ہمارے نظام شمسی میں ایک جگہ موجود ہیں اور وہ ہے زحل کا چاند انسلداس۔جی ہاں ہمارے نظام شمسی کا وہ چاند جو برف کی ایک چھوٹی گیند کی طرح نظر آتا ہے۔درحقیقت اس کی برفانی تہہ کے نیچے پانی کا ایک سمندر موجود ہے جسے اس چاند کی اپنی کشش کے زور کی وجہ سے گرمائش مل رہی ہے

اور ایسے کیمیائی عناصر اس میں موجود ہیں جو زندگی کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ یہ دریافت ایک پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوریز خواجہ اور جرمن سائنسدان ڈاکٹر فرینک پوسٹ برگ کی مشترکہ قیادت میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے کی۔ ساتھ ہی ساتھ اس تحقیق نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی ہے اور اس طرح ڈاکٹر نوریز نے دنیا میں پاکستان کا نام فخر سے اونچا کردیا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ سال سائنسدانوں نے کیسنی اسپیس کرافٹ کے ڈیٹا کو استعمال کرکے جانا تھا کہ انسلداس کی سطح کے نیچے سمندر میں زندگی کے لیے ضروری عناصر بشمول مالیکیولر ہائیڈروجن موجود ہیں۔اب اس نئی تحقیق میں زیادہ بڑے اور زیادہ پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کو وہاں دریافت کیا گیا اور یہ خلائی زندگی کی تلاش کے حوالے سے انتہائی اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے،جرمن یونیورسٹی کے انسٹیٹوٹ آف جیو سائنسز کے لیے کام کرنے والے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر نوریز خواجہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں کیسنی پہلے ہی ہلکے وزن کے نامیاتی مالیکیولز کو انسلداس میں دریافت کرچکا تھا، مگر وہ نامیاتی مالیکیول ہمارے دریافت کردہ پیچیدہ نامیاتی مواد کے مقابلے میں بہت چھوٹے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہلی بار ہے کہ زمین سے باہر کسی خلائی مقام پر اس طرح کے بڑے اور پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کو دریافت کیا گیا ہے۔ڈاکٹر فرینک نے برطانوی روزنامے

سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز ضروری نہیں کہ رہائشی کے ماحول میں مدد دیتے ہوں مگر دوسری جانب یہ زندگی کے لیے ضروری ابتدائیہ ضرور ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے ہم نہیں جانتے تھے کہ زحل کے اس چاند میں یہ پیچیدہ نامیاتی کیمسٹری ہے یا نہیں، مگر اب ہم یہ جانتے ہیں۔اس تحقیق کا مقالہ لکھنے والوں میں شامل کرسٹوفر گلین کے مطابق نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ انسلداس قابل رہائش دنیا ہے۔

The post پاکستانی قوم کیلئے آج فخر کا دن،جو کام ساری دنیا کے سائنسدان مل کر نہ کر سکے پاکستانی سائنسدان نے کر دیا، نظام شمسی کے اہم سیارے میں زندگی تلاش کر لی، تحقیق نے دنیا بھر میں دھوم مچا دی appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com