موبائل صارفین کیلئے اچھی خبر، ہواوے پی سیریز کی قیمتیں منظر عام پر آگئیں

بیجنگ  (مانیٹرنگ ڈیسک) ہواوے نے پیرس میں ہونے والی ایک خصوصی تقریب میں پی 20 اور پی 20 پرو کے لانچ کی تصدیق کی تھی۔ پی 20 لائٹ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ فون بھی دونوں کے ساتھ ہی لانچ ہوگا۔ اب تک ان تینوں فونز کی قیمتوں کے بارے میں کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی، لیکن اب یوروزون کےلیے فون کی قیمتیں بھی لیک ہو گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پی 20 کی متوقع قیمت 679 یورو، پی 20 پرو کی قیمت

899 یورو اور پی 20 لائٹ کی قیمت 369 یورو ہوگی۔پرو ماڈل کی قیمت اگرچہ اتنی زیادہ نہیں، جتنی دوسری بڑی کمپنیوں کے فلیگ شپ فونز کی ہیں، لیکن لگتا ہے کہ اب ہواوے بھی آہستہ آہستہ 1000 یورو کے لیول تک پہنچنا چاہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میٹ 11 ( یا میٹ 20) کی قیمت 1000 یورو کے قریب ہی ہو۔ اطلاعات ہیں کہ پی 20 اور پی 20 پرو میں مصنوعی ذہانت کا حامل Kirin 970 چپ سیٹ ہوگا۔ یہ چپ سیٹ اس سے پہلے میٹ 10 اور میٹ 10 پرو میں بھی متعارف کرایا گیا تھا۔

The post موبائل صارفین کیلئے اچھی خبر، ہواوے پی سیریز کی قیمتیں منظر عام پر آگئیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

کیا آپ آج تک اسمارٹ فون بیٹری غلط چارج کرتے رہے ہیں؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل بیشتر افراد اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں، جن میں سے کچھ کی بیٹریاں جب مرضی نکالی جاسکتی ہیں جبکہ کچھ کی فکس ہوتی ہیں۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ آج تک اپنے اسمارٹ فون کو غلط چارج کرتے رہے ہیں؟ جی ہاں اگر آپ اپنے اسمارٹ فون کو دن میں کسی وقت کی بجائے رات بھر کے لیے چارج پر لگا چھوڑ دیتے ہیں تو اس سے کچھ وقت کے لیے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ۔

مگر اسے عادت بنالینا کچھ ماہ کے اندر بیٹری کی زندگی ختم کرسکتا ہے۔ یہ بات کیڈیکس نامی بیٹری کمپنی کی جانب صارفین کے لیے جاری بیان میں سامنے آئی۔ بیٹری کی زندگی کے حوالے سے کمپنی نے چند اہم مشورے صارفین کو دیئے۔ کمپنی کے مطابق لیتھیم اون بیٹریوں کو مکمل چارج کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کا کیس لیڈ ایسڈ کے ساتھ ہوتا ہے۔ کمپنی کا مزید کہنا تھا کہ درحقیقت بہتر تو یہ ہے کہ بیٹری کو مکمل چارج نہ کریں کیونکہ ہائی وولٹیج بیٹری پر دباﺅ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ جی ہاں واقعی جب اسمارٹ فون بیٹری کو چارج کیا جاتا ہے اور اس کی گنجائش مکمل یا سوفیصد ہوجاتی ہے تو وہ فون بیٹری کی جانب ٹریکل چارج شروع کردیتا ہے تاکہ اسے کم ہونے سے روک سکے۔ کیڈیکس کے مطابق ایسا ہونے پر بیٹری غیرضروری دباﺅ کا شکار ہونے لگتی ہے اور اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ڈیوائس کو اس وقت ان پلگ کردیا جائے جب وہ سو فیصد تک پہنچ جائے یا اسی سے نوے فیصد پر ہی نکال دیا جانا چاہیے۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اگر آپ فون کو چارج پر لگا کر سوجائیں تو ایسا ممکن نہیں ہوتا۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ رات بھر چارج پر لگا چھوڑنے کی بجائے فون کو دن بھر میں کسی بھی فارغ وقت میں چارج کرنے کی عادت اپنائیں۔ ایسا کرنے سے بیٹری کی زندگی طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسی طرح لیپ ٹاپ سے چارج کرنے کی بجائے مین پلگ کو استعمال کریں۔ چارج کرتے ہوئے فون کو ایرو پلین موڈ پر سوئچ کرنا تیز چارجنگ میں مدد دیتا ہے۔ تیز چارجر کو ہر وقت استعمال کرنا بھی بیٹری کی زندگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

The post کیا آپ آج تک اسمارٹ فون بیٹری غلط چارج کرتے رہے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

کیا موبائل فون کینسر کا باعث بنتے ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) عرصے سے ایسی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں کہ موبائل فون سے خارج ہونے والی شعاعیں کینسر کا خطرہ بڑھاتی ہیں اور اب امریکی محکمہ صحت نے اس کی کسی حد تک تصدیق کردی ہے۔ نیشنل انسٹیٹوٹ ہیلتھ کی تحقیق کے ابتدائی نتائج میں عندیہ دیا گیا ہے کہ موبائل فون سے خارج ہونے والی شعاعیں مخصوص اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

اس تحقیق کے دوران اس طرح کی شعاعیں جو کہ موبائل فون سے خارج ہوتی ہیں، کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا تو چھ فیصد کے دل میں کینسر تشکیل پانے لگا۔ مزید پڑھیں : کیا موبائل فون انسانی صحت کیلئے حقیقی خطرہ ہیں؟ یہ بنیادی طور پر دو ریسرچز تھیں جن میں موبائل فون ریڈی ایشن کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ تحقیق میں انتباہ کیا گیا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ عام لوگوں میں موبائل فون کا استعمال کینسر کا خطرہ کتنا بڑھاتا ہے اور یہ شعبہ باعث تشویش ہے۔ گزشتہ دو سال کے دوران نیشن انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ کے نیشنل ٹوکسولوجی پروگرام کے محققین چوہوں کو مختلف اقسام کی موبائل فون ریڈیو فریکوئنسی ریڈی ایشن سے متاثر کرتے رہے۔ 2016 میں تحقیق کے آغاز میں محققین نے ابتدائی ڈیٹا جاری کرتے ہوئے خبردار کیا کہ موبائل فون ریڈی ایشن اور کینسر کے درمیان ممکنہ تعلق موجود ہے۔ اسمارٹ فون اور دیگر وائرلیس ڈیوائسز نیٹ ورکس سے کنکٹ ہونے کے بعد اور انفارمیشن ٹرانسمیٹ کرنے کے دوران لو فریکوئنسی مائیکرو ویو ریڈی ایشن خارج کرتی ہیں ، یہ توانائی اتنی طاقتور نہیں جتنی الٹراوائلٹ ریڈی ایشن یا ایکسرے انرجی، مگر نئی رپورٹس نے ان شواہد کو تقویت دی ہے کہ مائیکرو ویو ریڈی ایشن بھی طبی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ بھی پڑھیں : موبائل فونز کے بارے میں 8 حیران کن حقائق اس تحقیق کے دوران چوہوں کو روزانہ 18 گھنٹے تک زیادہ سطح کی ریڈی ایشن سے متاثر کیا گیا۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ ڈیوائسز سے خارج ہونے والی ریڈی ایشن کی سطح میں مسلسل اتار چڑھاﺅ زیادہ خطرے کا باعث بنتا ہے اور 2016 میں جو نتائج سامنے آئے تھے، اب تک کی تحقیق نے انہیں زیادہ ٹھوس کیا ہے۔ انہوں نے تحقیق کے آغاز اور آخر میں یہ دریافت کیا کہ چوہوں میں دل کے مقام پر رسولی کے کیسز سامنے آئے، تاہم دیگر اقسام کے کینسر کے واقعات زیادہ سامنے نہیں آئے۔ محققین کا کہنا تھا کہ چوہوں کے برعکس انسانی دل میں اس طرح کا کینسر عام نہیں مگر قلب کے عضلات ضرور موبائل فون ریڈی ایشن کا ہدف بن سکتے ہیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ نر چوہوں میں رسولی کی شرح زیادہ تھی کیونکہ ان کے جسم مادہ کے مقابلے میں زیادہ ریڈی ایشن جذب کرتے تھے جس کی وجہ ان کے جسموں کا زیادہ حجم تھا۔ محققین نے واضح کیا کہ چوہوں کو جس طرح کی ریڈی ایشن کا ہدف بنایا گیا اس کی سطح اس سے کہیں زیادہ تھی جس کا سامنا انسانوں کو موبائل فونز کے استعمال کے دوران ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی انسانوں پر اس کا تجزیہ نہیں کیا گیا مگر یہ قابل تشویش امر ہے اور اب ہم جانتے ہیں کہ موبائل فونز سے کینسر کے ممکنہ خطرات کا باعث بننے والا عناصر کیا ہے۔

The post کیا موبائل فون کینسر کا باعث بنتے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

31 فیصد پاکستانی اسمارٹ فونز استعمال کرنے لگے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر تو آپ کراچی یا لاہور میں مقیم ہو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ہر ایک کے پاس ہی کم از کم ایک اسمارٹ فون تو ہے۔ مگر پورے پاکستان کی بات کی جائے تو جدید ٹیکنالوجی کی مظہر یہ ڈیوائس کافی نایاب ہے۔ وی آر سوشل اور ہوٹ سیوٹ کی 2018 گلوبل ڈیجیٹل رپورٹ میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ، اسمارٹ فون، سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیگر صارفین کے ڈیٹا پر رپورٹ جاری کی گئی ہے۔

جس میں پاکستانی صارفین کی تعداد بھی درج ہے۔ مزید پڑھیں : 4 چیزیں جو اسمارٹ فونز آپ کے بارے میں اکھٹے کرتے ہیں اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر 82 فیصد افراد کے پاس کسی نہ کسی قسم کا موبائل فون ہے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان میں 31 فیصد افراد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں جبکہ ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ صارفین 10 فیصد، ٹیبلیٹ استعمال کرنے والے ایک فیصد، 76 فیصد کسی قسم کے ٹیلی ویژن کی ملکیت رکھتے ہیں جبکہ اسمارٹ واچ وغیرہ کے صارفین ایک فیصد ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد چار کروڑ سے زائد ہے یا مجموعی آبادی کے بیس فیصد کے قریب انٹرنیٹ کے لیے موبائل کو استعمال کرتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیں : پرانا اسمارٹ فون اس احتیاط کے بغیر فروخت نہ کریں رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ان میں سے 71 فیصد افراد اسمارٹ فون کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت استعمال کرتے ہیں یا پاکستان میں مجموعی ویب ٹریفک کا 68 فیصد حصہ موبائل فونز جبکہ تیس فیصد ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کرتا ہے۔

The post 31 فیصد پاکستانی اسمارٹ فونز استعمال کرنے لگے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: JavedCh.Com

Telenor collaborates with Ministry of IT on “DigiSkills Training Project”

PR: Telenor Pakistan, country’s leading digital services provider, has partnered with the Virtual University of Pakistan to launch a nationwide digital skill-building program aptly named ‘DigiSkills Training Project’. Under auspices of Ministry of Information Technology & Telecom through IGNITE – National Technology Fund (formerly National ICT R&D Fund), the 2 year mega-program aims to train 1 million people in Digital Skills for Freelancing and entrepreneurship using ICTs.

The agreement signing took place at the Prime Minister Secretariat in the presence of Prime Minister Mr. Shahid Khaqan Abbasi and Minister of State for IT & Telecommunication Ms. Anusha Rahman – with Telenor Pakistan and Virtual University top management finalizing a memorandum of understanding (MoU). Thoughts were shared on how leveraging the emerging ICT technologies in Pakistan could create a virtual cloud of aspiring workers who are ready to take up online assignments to make a living besides promoting Pakistan as a go-to market for outsourcing of diversified freelance projects.

Pakistan is the world’s 4th largest provider of online freelance services with an estimated registered number of freelancers ranging in several hundreds of thousands. Most of the work done is for international clients; therefore the money earned by them is brought into the country mainly in the form of foreign remittances. Pakistan has the potential to increase its share in the freelance industry by folds and resultantly bring in valuable foreign exchange into the country and reduce unemployment.

Addressing the event here at the PM Office, the prime minister said his government was committed to support the private sector in its ventures of introducing cutting edge technology and taking the country forward. Prime Minister Abbasi said the government would ensure availability of the broadband across the country and facilitate e-commerce He stressed the need to further work on it and said the entrepreneurship was a unique skill and only the private sector has the ability to take it forward. The Prime Minister said the Digiskills program would equip the youth to get online jobs and earn money in a non-traditional way. He said he has great faith in the youth of the country and expressed confidence that the women would lead in these areas.

We have taken major strides toward digital transformation in the country with our ICT partners and this major development widens our scope to optimize new technologies to upskill our youth, “ said Ms. Anusha Rahman, Minister of State for IT and Telecommunication.  “DigiSkills combines an ideal mix of partnership between Ignite and Virtual University’s expansive and advanced eLearning platform to further Ministry of IT’s digitization and empowerment goals.  The online freelance market offers a myriad of opportunities to thousands of jobseekers whom we aim to ready for getting the best of that rewarding marketplace through DigiSkills.  The program will train 1 million youth across Pakistan and help us effectively combat the longstanding challenge of unemployment through innovation,” I appreciate Telenor’s contribution in DigiSkill program by providing low mobile broadband cost to DigiSkills Program beneficiaries” she added

“This partnership with Virtual University is a significant development in pursuit of our mission of empowering the Pakistani society,” said Irfan Wahab Khan, CEO Telenor Pakistan. “Being the proud leaders of ICT-powered digital transformation in Pakistan, we are totally cognizant of the changes the employment market is undergoing globally. As we work to match Pakistan’s pace with the developed world on all fronts, we aim to multiply Pakistan’s share in the online freelance market with the VU partnership. With the world going digital and jobs gradually getting out of the conventional office space to a professional’s home and fingertips, Pakistan too needs to up its digital skills game to take full advantage of the opportunities that await them in the online world,” he added.

“We are pleased to have partnered with Pakistan’s ICT technology leader to impart digital skills in our youth and fight the longstanding challenge of unemployment,” said Ehsen Puri, Director ICT, Virtual University of Pakistan. “We have the largest and most advanced digital learning infrastructure in Pakistan, an ideal platform to execute a large project like DigiSkills. This particular training aims not only at developing key specialized skills, but also imparting knowledge about various freelancing and other employment and entrepreneurial opportunities available internationally and locally. Fighting unemployment and creating new job avenues is a collective responsibility of the business world and DigiSkills should inspire other market players to take similar steps for the empowerment of our youth,” he added.

With the emergence of internet and connectivity, the freelance economy is taking shape globally with millions of individuals around the world benefiting from the on-line, outsourcing work allowing them opportunity to work on global projects and earn good money. Most freelance employees choose flexibility over a structured work environment or working hours. The freelance industry is also giving rise to small- and medium-size business ventures and thus promoting entrepreneurship globally.

Reference: www.technologytimes.pk