جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی واضح علامات کون سی ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔ جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔

وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی کی چند علامات درج ذیل ہیں۔ وٹامن ڈی کی کمی کے نقصانات۔ عام امراض سے صحت یابی میں دیر ہونا وٹامن ڈی کے چند اہم ترین افعال میں سے ایک جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تو اگر وٹامن ڈی کی کمی کا سامان ہو تو عام انفیکشن یا وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔ درحقیقت وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نزلہ زکام اور نمونیا وغیرہ اکثر شکار بنانے لگتے ہیں۔ چڑچڑا پن اور ڈپریشن ڈپریشن اور چڑچڑا پن کے درمیان تعلق ہے جس کے پیچھے متعدد جسمانی اور نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں، ایسے سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، خصوصاً معمر افراد میں۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کی شکار خواتین کو جب وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا تو اس میں بہتری آنے لگی۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو ان میں ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ مناسب نیند کے باوجود ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنا ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں

اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ ہونے پر شدید تھکاوٹ اور سردرد جیسی علامات سامنے آتی ہیں، یہاں تک کہ اس وٹامن کی معمولی کمی بھی جسمانی توانائی میں کمی اور تھکاوٹ کے احساس کا باعث بنتی ہے، خصوصاً اگر خواتین پر ہر وقت تھکاوٹ طاری رہتی ہو تو اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

انہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔ کمردرد وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈھانچے کے نظام کو مضبوط کرتا ہے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں ہڈیوں کے مسائل اور کمردرد کا سامنا عام ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی کے باعث 9 ہزار خواتین کو شدید کمردرد کا سامنا ہوا۔

جوڑوں کے مسائل وٹامن ڈی کی کمی صرف کمردرد کا باعث ہی نہیں بنتی بلکہ یہ جسم کے تمام جوڑوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ گھٹنے، کولہے اور ریڑھ کی ہڈی اس وٹامن کی کمی سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں، اگر اکثر ان جگہوں پر درد کا سامنا ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے ٹیسٹ کروائیں کہ یہ مسائل وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ نہ ہوں۔ مسلز کی کمزوری یا تکلیف وٹامن ڈی کی کمی کے

نتیجے میں مسلز کی کمزوری اور درد کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔ وٹامن ڈی ان اعصابی خلیات کی صحت میں اہم کردار ادا کرتا ہے جو کہ دماغ تک درد کا احساس پہنچاتے ہیں۔ اگرچہ مسلز کے مسائل کی وجوہات مختلف ہوسکتی ہیں، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 71 فیصد افراد میں مسلز کے شدید درد کی وجہ وٹامن ڈی کی کمی ہوتی ہے۔ بالوں کا گرنا یا نازک ہوجانا اگر آپ کو لگے کہ بال پہلے

جیسے گھنے نہیں رہے تو وٹامن ڈی کا استعمال بڑھانا اس مسئلے کو دور کرسکتا ہے۔ اگرچہ وٹامن ڈی کی کمی اور بالوں کے گرنے کے درمیان زیادہ شواہد موجود نہیں، مگر ایک تحقیق میں وٹامن ڈی کی کمی اور خواتین کے بالوں کے گرنے میں تعلق دریافت کیا گیا۔ خراشوں کو ٹھیک ہونے میں تاخیر کیا آپ کو اکثر معمولی خراشوں یا رگڑ سے نجات میں کافی دن لگ جاتے ہیں اگر ہاں تو یہ بھی وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔

کچھ طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ یہ وٹامن نئی جلد بننے کے عمل کے لیے ضروری کمپاﺅنڈز کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح وٹامن ڈی ورم اور انفیکشن سے لڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ مردوں میں کمزوری ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی مردوں میں مخصوص جسمانی کمزوری کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں erectile dysfunction

نامی مرض کا خطرہ بڑھتا ہے، اس کا علاج ڈاکٹر کے مشورے سے ہی ممکن ہوتا ہے۔ بہت زیادہ پسینہ آنا اگر تو پیشانی پر پسینہ بہت اکثر چمکتا ہے تو یہ وٹامن ڈی کی کمی کی نمایاں علامات میں سے ایک ہے، خصوصاً اس وقت جب آپ کوئی خاص جسمانی محنت کا کام نہ کررہے ہوں اور پھر بھی پسینہ تیزی سے خارج ہورہا ہو، وہ بھی عام موسم میں۔ ان حالات میں وٹامن ڈی کا ٹیسٹ کرایا جانا چاہئے۔

The post جسم میں وٹامن ڈی کی کمی کی واضح علامات کون سی ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کیا ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول اور آلو کھا سکتے ہیں ؟

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس اس وقت پاکستان میں تیزی سے پھیلنے والا عارضہ ہے اور کروڑوں افراد اس کے شکار ہیں۔ ذیابیطس کے شکار افراد میں مناسب مقدار میں انسولین بن نہیں پاتی یا جسم اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ عام طور پر ذیابیطس ٹائپ

2 کا مرض طرز زندگی کی مخصوص عادات کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر لیول طویل عرصے کے لیے بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں دیگر طبی مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ذیابیطس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی بیماریاں اس عارضے کا ابھی تک کوئی مکمل علاج تو موجود نہیں مگر چند غذائی عادات اور طرز زندگی میں تبدیلیوں سے اسے کنٹرول میں رکھا جاسکتا ہے۔ اگر غذا کی بات کی جائے تو پاکستان میں چاول اور آلو کا استعمال کافی زیادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں ہیں کیونکہ ان میں موجود نشاستہ کو بلڈشوگر لیول بڑھانے کا باعث سمجھا جاتا ہے۔ مگر کیا واقعی یہ بات درست ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ عام افراد کے لیے کسی بھی وقت کی غذا ہو، پلیٹ میں موجود خوراک کا ایک چوتھائی حصہ نشاستہ پر مشتمل ہونا چاہئے جو کہ چاول، روٹی یا آلو سے حاصل ہوسکتا ہے۔ مگر ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے کسی بھی غذا میں موجود ایک جز پر توجہ دینا بہت ضروری ہے جسے گلیسمیک انڈیکس (جی آئی) کہا جاتا ہے۔ جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ یا نشاستہ دار غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ امریکن ڈائیبیٹس ایسوسی ایشن کے مطابق نشاستہ دار غذائیں جیسے چاول اور آلو صحت مند غذائی عادات کا حصہ ہوسکتی ہیں مگر ان کی مقدار کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ تو ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول اور آلو کھا سکتے ہیں مگر اعتدال کنجی ہے اور ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے اسے کھانے کی عادت بنائیں۔  یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post کیا ذیابیطس کے مریض سفید یا براﺅن چاول اور آلو کھا سکتے ہیں ؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پاکستان میں نئی تاریخ رقم ،مریض کو بے ہوش کئے بغیر دماغ کا آپریشن ،جانتے ہیں اس شخص کی حالت اب کیسی ہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)صوبائی دارالحکومت لاہور کے جنرل ہسپتال میں پہلی بار مریض کو بے ہوش کیے بغیر دماغ کی رسولی کا کامیاب آپریشن،ڈاکٹروں نے جدید طریقہ علاج کے ذریعے 90فیصد سے زائد ٹیومر نکال دیا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بے ہوش کیے بغیر برین ٹیومر کا علاج اب پاکستان میں بھی ممکن ہوگیا،یہ کارنامہ جنرل ہسپتال کے ہیڈ آف نیوروسرجری پروفیسر رضوان مسعود بٹ اور ان کی ٹیم نے انجام دیا ۔ نارووال کے 40 سالہ مریض دلاور سردرد کی شکایت لیے

دو ہفتے قبل ہسپتال آیاتھا ۔اسکا سی ٹی سکین کرایا گیا تو برین ٹیومر کا انکشاف ہوا.چنانچہ نیوروسرجری کے آٹھ سے 10 ماہر ڈاکٹروں نے اسے بے ہوش کیے بغیر آپریشن کردیا، مریض دلاور اب مکمل صحت مند ہے،پروفیسر ڈاکٹر رضوان مسعود بٹ نے بتایا کہ مریض کے متاثرہ حصہ کو سُن کرکے ٹیومر نکال دیا گیاہے،دلاور کو پانچ روز بعد ڈسچارج کر دیا جائے گا۔پروفیسر ڈاکٹر رضوان مسعود کا کہنا ہے کہ دماغ کےبعد ریڑھ کی ہڈی کا آپریشن بھی اسی طریقے سے ہوگا۔

The post پاکستان میں نئی تاریخ رقم ،مریض کو بے ہوش کئے بغیر دماغ کا آپریشن ،جانتے ہیں اس شخص کی حالت اب کیسی ہے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

مخصوص وقت میں کھانا اور سونا آپ کو موٹاپے سے بچائے:طبی تحقیق

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے دن بھر میں ناشتے اور دونوں وقت کے کھانے کے اوقات کے معمول کو کبھی خراب نہ کریں۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل اور ہارورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا جسم میں کیلوریز جلنے کی شرح میں دن کے مختلف اوقات میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

جبکہ کھانے اور نیند کا کوئی وقت طے نہ ہونا لوگوں کو موٹاپے کا شکار بناسکتا ہے۔ غذا سے متعلق چند غلط توہمات تحقیق میں بتایا گیا کہ سہ پہر اور شام کے آغاز پر جسم صبح کے مقابلے میں 10 فیصد کیلوریز زیادہ جلاتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے جسمانی گھڑی کے میٹابولزم پر مرتب ہونے والے اثرات کے شواہد کو تقویت ملتی ہے۔ نتائج سے یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ کھانے اور سونے کا کوئی شیڈول نہ ہونا لوگوں کا جسمانی وزن بڑھانے کا باعث کیوں بنتا ہے۔ تحقیق میں شامل رضاکاروں کو سونے، جاگنے کے مخصوص اوقات دیئے گئے اور ہر رات اس وقت میں 4 گھنٹے کا اضافہ کیا گیا، یہ تجربہ تین ہفتے تک جاری رہا۔ محققین نے جسمانی گھڑی اور میٹابولزم کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا اور یہ جانا کہ دن کے مختلف اوقات میں یہ میکنزم کس طرح کام کرتا ہے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سہ پہر اور شام کے آغاز پر میٹابولزم زیادہ تیزی سے کام کرکے کیلوریز جلاتا ہے جبکہ صبح کے وقت اس کی رفتار سست ہوتی ہے۔  13 غذائیں جو زندگی طویل کرنے میں مدد دیں محققین کے مطابق صرف یہ ضروری نہیں کہ ہماری غذا میں کیا کچھ شامل ہے بلکہ یہ بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم کس وقت کھانا کھاتے ہیں اور سوتے ہیں، یہ اوقات چربی گھلانے یا ذخیرہ کرنے پر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھانے اور سونے کے اوقات طے ہونا مجموعی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

The post مخصوص وقت میں کھانا اور سونا آپ کو موٹاپے سے بچائے:طبی تحقیق appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ذیابیطس کی 10 خاموش علامات کے بارے میں آپ جانتے ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ تاہم اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے۔

آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ ذیابیطس کا عالمی دن: ہر چھٹا سیکنڈ ایک زندگی نگلنے لگا! تو ایسی ہی خاموش علامات کے بارے میں جانیے جو آپ کو اس مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں باخبر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ذیابیطس ایمرجنسی: انتباہی علامات اور اقدامات جو زندگی بچائیں ٹوائلٹ کا زیادہ رخ کرنا جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ معمول سے زیادہ پیاس لگنا بہت زیادہ پیشاب کرنے کے نتیجے میں پیاس بی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض افراد اگر جوسز، کولڈ ڈرنکس یا دودھ وغیرہ کے ذریعے اپنی پیاس کو بجھانے کی خواہش میں مبتلا ہوجائیں تو یہ خطرے کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میٹھے مشروبات خون میں شکر کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں پیاس کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔ جسمانی وزن میں کمی جسمانی وزن میں اضافہ ذیابیطس کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جاتی ہے تاہم وزن میں کمی آنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسمانی وزن میں کمی دو وجوہات کی بناءپر ہوتی ہے، ایک تو جسم میں پانی کی کمی ہونا

(پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے) اور دوسری خون میں موجود شوگر میں پائے جانے والی کیلیوریز کا جسم میں جذب نہ ہونا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کا علم ہونے کی صورت میں جب لوگ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے مگر یہ اچھا امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلڈ شوگرکا لیول زیادہ متوازن ہے۔ کمزوری اور بھوک کا احساس

یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اچانک ہی بھوک کا احساس ستانے لگے اور ان کے اندر فوری طور پر زیادہ کاربوہائیڈیٹ سے بھرپور غذا کی خواہش پیدا ہونے لگے۔ بی ماہرین کے مطابق جب کسی فرد کا بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوا تو جسم کے لیے گلوکوز کو ریگولیٹ کرنا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں۔

تو مریض کا جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندر چینی کے استعمال کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔ ہر وقت تھکاوٹ یقیناً تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔

ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں خوراک جسم میں توانائی بڑھانے میں ناکام رہتی ہے اور ضرورت کے مطابق توانائی نہ ہونے سے تھکاوٹ کا احساس اور سستی طاری رہتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں شوگر لیول اوپر نیچے ہونے سے بھی تھکاوٹ کا احساس غلبہ پالیتا ہے۔ ذیابیطس کی 10 نشانیاں جو جلد پر نمودار ہوتی ہیں۔ پل پل مزاج بدلنا یا چڑچڑا پن جب آپ کا بلڈ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتا ہے۔

تو آپ کو کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریض کے اندر چڑچڑے پن یا اچانک میں غصے میں آجانے کا امکان ہوتا ہے۔ درحقیقت ہائی بلڈ شوگر ڈپریشن جیسی علامات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی تھکاوٹ، ارگرد کچھ بھی اچھا نہ لگنا، باہر نکلنے سے گریز اور ہر وقت سوتے رہنے کی خواہش وغیرہ۔ ایسی صورتحال میں ڈپریشن کی جگہ سب سے پہلے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرالینا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے۔

خاص طور پر اس وقت جب اچانک مزاج خوشگوار ہوجائے کیونکہ بلڈ شوگر لیول نارمل ہونے پر مریض کا موڈ خودبخود نارمل ہوجاتا ہے۔ بنیائی میں دھندلاہٹ ذیابیطس کی ابتدائی سطح پر آنکھوں کے لینس منظر پر پوری طرح توجہ مرکوز نہیں کرپاتے کیونکہ آنکھوں میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر اس کی ساخت یا شیپ بدل جاتی ہے۔ چھ سے آٹھ ہفتے میں

جب مریض کا بلڈ شوگر لیول مستحکم ہوجاتا ہے تو دھندلا نظر آنا ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنکھیں جسمانی حالت سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں اور ایسی صورت میں ذیابیطس کا چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔ زخم یا خراشوں کے بھرنے میں تاخیر زخموں کو بھرنے میں مدد دینے والا دفاعی نظام اور پراسیس بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی صورت میں موثر طریقے سے کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں

زخم یا خراشیں معمول سے زیادہ عرصے میں مندمل ہوتے ہیں اور یہ بھی ذیابیطس کی ایک بڑی علامت ہے۔ پیروں میں جھنجھناہٹ ذیابیطس کی شکایت دریافت ہونے سے قبل بلڈ شوگر میں اضافہ جسمانی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس مرض کے نتیجے میں اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کے پیروں کو جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس معمول سے زیادہ ہونے

لگتا ہے۔جو کہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے۔ مثانے کی شکایات پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کے افزائش نسل کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مثانے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا فکرمندی کی علامت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے کیونکہ یہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔

The post ذیابیطس کی 10 خاموش علامات کے بارے میں آپ جانتے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔