ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا ایسا نقصان کہ جان کر آپ یہ عادت چھوڑ دیں گے ، ماہرین نے تنبیہ کر دی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ٹانگ پر ٹانگ رکھ یا چڑھا کر بیٹھنا بہت ہی زیادہ عام عادت ہے اور اکثر بیٹھنے کے دوران اس پر توجہ بھی نہیں دیتے۔ہوسکتا ہے کہ ایسے بیٹھنا آپ کو آرام دہ لگتا ہو یعنی ایک گھٹنا دوسرے گھٹنے کے اوپر مگر یہ عادت آپ کے اندازوں سے بھی زیادہ صحت کے لیے تباہ کن ہے۔یہ دعویٰ ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح بیٹھنا درحقیقت بلڈ پریشر کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

جی ہاں بلڈ پریشر، جس کی وجہ یہ ہے کہ ٹانگ کے اوپر ٹانگ رکھنے ے ٹانگوں میں خون کو کشش ثقل کے مخالف کام کرکے واپس دل کی جانب ہوتا ہے جبکہ بیٹھنے کا یہ انداز اس عمل کے لیے مزاحمت پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں خون کی گردش مشکل ہوجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ جسم بلڈ پریشر بڑھا کر خون کو واپس دل تک پہنچاتا ہے۔آپ کو اس کے فوری اثرات کا احساس تو نہیں ہوگا تاہم اگر آپ کے دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزرتا ہے تو یہ ضروری ہے کہ آپ اس پر توجہ دیں کہ آپ ٹانگوں کو کتنی دیر تک ایک دوسرے پر رکھتے ہیں۔حقیق کے مطابق کسی بھی صورت پندرہ منٹ سے زیادہ اس انداز میں نہ بیٹھیں اور ہر ایک گھنٹے میں کچھ منٹ کے لیے چہل قدمی کو یقینی بنائیں۔تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ عادت گردن اور کمردرد کا بھی باعث بنتی ہے کیونکہ ہمارا جسم اس وقت زیادہ متوازن ہوتا ہے جب پیر فرش پر ہوں، تاہم دفاتر میں اس طرح پورے دن بیٹھنا کوئی آسان کام نہیں۔جب آپ ٹانگ پر ٹانگ چڑھاتے ہیں تو کولہے ایک ٹوئیسٹ پوزیشن میں آجاتے ہیں جس کے نتیجے میں pelvic کی ہڈی مڑ جاتی ہے جو کہ گردن اور ریڑھ کی ہڈی کو سپورٹ دے رہی ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں ان حصوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق بہت دیر تک ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے رکھنے کے نتیجے میں ٹانگوں میں سوئیاں چبھنے یا سن ہوجانے کا احساس بھی ہوتا ہے،

جس کی وجہ یہ ہے کہ اس انداز سے ٹانگوں اور پیروں کے اعصاب اور شریانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جس کے نتیجے میں پیر عارضی طور پر سن یا مفلوج ہوجاتے ہیں۔یہ حالت ایک سے دو منٹ تک رہتی ہے مگر بار بار ایسا کرنے سے ٹانگوں کا سن ہونا اعصاب کو مستقل بنیادوں پر نقصان پہنچا سکتا ہے۔تو اگلی بار بیٹھنے کے بعد کوشش کریں کہ آپ کے دونوں پیر فرش پر ہوں جو کہ طویل المعیاد بنیادوں پر صحت کے لیے فائدہ مند پوز ہے۔

The post ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھنے کا ایسا نقصان کہ جان کر آپ یہ عادت چھوڑ دیں گے ، ماہرین نے تنبیہ کر دی appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

خشک سالی کے مارے 35 لاکھ افغانوں کو خوراک کی اشد ضرورت ہے : عالمی خوراک منتظمین

نیویارک(این این آئی)خوراک کے عالمی پروگرام کے منتظمین نے کہاہے کہ35لاکھ افغان شہریوں کو فوری طور پر خوراک کی فراہمی کی ضرورت ہے۔افغانستان کے بیشتر علاقوں میں خشک سالی کی کیفیت ہے۔ دسمبر سے آئندہ برس مئی تک خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آٹھ کروڑ 36لاکھ ڈالر درکار ہوں گے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی فوڈ پروگرام نے ہفتہ کو

جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملک کے چونتیس میں سے بیس صوبوں میں پانی کی شدید قلت ہے جبکہ اس خشک سالی کے سبب دو لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے علاقے چھوڑ کر افغانستان کے دوسرے حصوں کی جانب نقل مکانی کر گئے ہیں۔ عالمی فوڈ پروگرام کا کہنا تھا کہ دسمبر سے آئندہ برس مئی تک خوراک کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے آٹھ کروڑ 36لاکھ ڈالر درکار ہوں گے۔

The post خشک سالی کے مارے 35 لاکھ افغانوں کو خوراک کی اشد ضرورت ہے : عالمی خوراک منتظمین appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کسی فرد میں ہائی کولیسٹرول کی تشخیص ہو تو کیا وہ انڈے کھاسکتا ہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر کسی شخص کو ہائی کولیسٹرول کا عارضہ ہو تو ہارٹ اٹیک یعنی دل کے دورے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی فرد میں ہائی کولیسٹرول کی تشخیص ہو تو کیا وہ انڈے کھاسکتا ہے جس میں کولیسٹرول کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے؟ اس سوال کے جواب سے پہلے یہ جان لیں کہ ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کو خون کی سپلائی اچانک تھم جائے۔

عام طور پر دل کے دورے کی وجہ امراض قلب ہوتی ہے جس میں دل کو خون پہنچانے والی شریانیں کولیسٹرول کے باعث بند ہوجاتی ہیں۔ کولیسٹرول ایک چربیلا، نرم اور ملائم مادہ ہے جس کی متعین مقدار انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتی ہے مگر اس میں اضافہ خون کی نالیوں یا شریانوں کی دیواروں کے جم کر انہیں تنگ اور سخت کردیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خون کی سپلائی روکتی ہے اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھتا ہے۔ ہارٹ اٹیک، امراض قلب یا دل کے دیگر مسائل کی روک تھام کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ کولیسٹرول کی سطح کو معمول پر رکھا جائے اور اس کے لیے ان غذاﺅں کا استعمال کم کرنا چاہئے جن میں سچورٹیڈ فیٹ کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اب اوپر والے سوال کی جانب آتے ہیں کہ ہائی کولیسٹرول کے شکار افراد اگر انڈے کھائیں تو کیا انہیں ہارٹ اٹیک کا خطرہ تو نہیں ہوتا؟ تو اس کا جواب ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہوتا۔ ہارٹ یوکے نامی دل کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والے ادارے کے مطابق انڈوں میں غذائی کولیسٹرول زردی میں پایا جاتا ہے مگر لوگوں کو اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انڈوں میں پائے جانے والے کولیسٹرول میں سچورٹیڈ فیٹ کی شرح بہت کم ہوتی ہے اور جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ زیادہ سچورٹیڈ فیٹ سے کولیسٹرول میں اضافے کا خطرہ بڑھتا ہے۔ انڈوں میں پائے جانے والی غذائی کولیسٹرول بلڈ کولیسٹرول بڑھانے کا باعث نہیں بنتی بلکہ وہ صحت کے لیے

نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی لاتی ہے۔ درحقیقت انڈوں کی زردی مختلف قسم کی چربی کا مجموعہ ہوتی ہے جبکہ وٹامن ای بھی اس کا حصہ ہے جو جسم کے لیے کافی ضروری ہے۔ تاہم اس کا سب سے خاص جز کیروٹین ہے جس کے ساتھ لیوٹین اور زیاژنتین بھی ہوتے ہیں جو آنکھوں کی صحت میں مددگار اور ورم سے تحفظ دیتے ہیں۔ یقیناً کیروٹین نامی جز پھلوں اور سبزیوں میں بھی پایا جاتا ہے مگر انڈے کی زردی کو ان پر برتری

حاصل ہے کیونکہ یہ جسم میں زیادہ اچھی طرح جذب ہتا ہے۔ ایک تحقیق کے مابق انڈے پسند کرنے والے افراد کا جسم کیروٹین، لیوٹین اور زیاژنتین کو نو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جذب کرتے ہیں۔ چونکہ آج کل لوگ سبزیوں کو کھانا پسند نہیں کرتے یا ماہرین طب کی تجویز کردہ مقدار سے کم استعمال کرتے ہیں لہذا اگر وہ ایک انڈہ استعمال کریں تو یہ غذائی کمی پوری کی جاسکتی ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post کسی فرد میں ہائی کولیسٹرول کی تشخیص ہو تو کیا وہ انڈے کھاسکتا ہے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ویٹ لفٹنگ دل کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ مند ورزش ہے : نئی طبی تحقیق

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) وزن یا ویٹ لفٹنگ کرنے کی عادت دل کی صحت کے لیے جاگنگ یا چہل قدمی کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ گریناڈا کی سینٹ جارجز یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ ہر قسم کی ورزش امراض قلب میں مبتلا ہونے کا

خطرہ کم کرتی ہے مگر ویٹ لفٹنگ یا پریس اپس جاگنگ، چہل قدمی یا سائیکلنگ وغیرہ کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس طرح کی سخت ورزش خون کے گردشی نظام کو زیادہ بہتر کرتی ہے۔ جس سے دل تک آکسیجن وافر مقدار تک پہنچتی ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ جسم مضبوط بنانے والی ورزشیں اور ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمیاں دونوں دل کو صحت مند بناتی ہیں اور لوگوں کو کسی نہ کسی قسم کی ورزش کو اپنالینا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مگر ویٹ لفٹنگ دیگر کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس تحقیق کے دوران محققین نے رضاکاروں میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر جیسے ہائی بلڈ پریشر، موٹاپے، ذیابیطس اور ہائی کولیسٹرول کا جائزہ لیا اور لوگوں کی جسمانی سرگرمیوں سے اس پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کو دیکھا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جو بالغ افراد ویٹ لفٹنگ یا سخت جسمانی سرگرمیوں کا حصہ بنیں، ان میں امراض قلب کے باعث بننے والے عناصر کا امکان 30 سے 70 فیصد تک کم ہوگیا۔ اس ورزش کا زیادہ فائدہ نوجوانوں کو درمیانی عمر میں خاص طور پر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج امریکن کالج آف کارڈیالوجی لاطینی امریکا کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔ اس سے قبل امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارشات میں لوگوں پر زور دیا گیا تھا کہ ایک ہفتے میں ڈیڑھ سو منٹ کی جسمانی سرگرمیاں جیسے تیز چہل قدمی بھی دل کی صحت میں بہتری لاتی ہے۔

The post ویٹ لفٹنگ دل کو مضبوط بنانے کے لیے فائدہ مند ورزش ہے : نئی طبی تحقیق appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

محبت کا رشتہ ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مفید ہے : امریکی تحقیقاتی ماہرین

کیلی فورنیا (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا کے تحقیقاتی ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ محبت میں گرفتار ہونے والا شخص جسمانی طور پر عام لوگوں سے زیادہ فٹ اور ذہنی پریشانیوں سے آزاد ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کیلی فورنیا کی یونیورسٹی آف ویسٹرن ورجینیا کے ماہرین نے حالیہ تحقیق کی جس میں یہ بات سامنے آئی کہ محبت کے رشتے کا احساس شروع ہوتے ہی انسان کے دماغ میں مثبت سرگرمیاں

شروع ہوجاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق مطالعے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کسی بھی رشتے میں شروع ہونے والے پیار کے بعد انسان کو 12 غیر معمولی احساسات ہوتے ہیں، رشتے کا آغاز ہوتے ہی ایک سیکنڈ کے پانچویں حصے میں دماغ میں مثبت سرگرمی شروع ہوجاتی ہے۔ تحقیقاتی ماہرین نے انکشاف کیا کہ پیار کا مثبت اثر صرف ذہن پر ہی نہیں پڑتا بلکہ اس کی وجہ سے جسمانی صحت پر بھی حیران کُن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ محبت میں گرفتار ہونے والا شخص رشتے سے جڑتے ہی خود کو بہت سی پریشانیوں سے آزاد کرلیتا ہے اور وہ بلڈپریشر، جسمانی و سردرد سمیت کئی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ تحقیقاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ رشتے سے منسلک ہونے کے بعد جسم میں نیا قوتِ مدافعت پیدا ہوتا ہے جبکہ جسم میں ڈوپامین اور آکسیٹوسین ہارمونز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ خوشی اور اطمینان محسوس ہوتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ ہارمونز کی مقدار میں اضافے کی وجہ سے بلڈ پریشر اور سر و جسمانی درد کا احساس چالیس فیصد تک ختم ہوجاتا ہے جبکہ اسی وجہ سے الرجی اور مختلف انفیکشن بھی تقریبا ختم ہوجاتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا مزید کہنا ہے کہ محبت کا اظہار کرنے کے نتیجے میں انسانی جسموں میں موجود ہارمون ہسٹامین کی مقدار کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے بلڈپریشر اور کولیسٹرول کنٹرول میں رہتا ہے۔

The post محبت کا رشتہ ذہنی و جسمانی صحت کے لیے مفید ہے : امریکی تحقیقاتی ماہرین appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔