خون کے عام عارضے انیمیا کے شکار افراد میں سامنے آنے والی علامات

شکاگو(مانیٹرنگ ڈیسک)  جب جسم میں صحت مند سرخ خلیات کی کمی ہو تو دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے تاکہ جسم کو خون کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے، اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہوجاتی ہے اور سینے میں درد ہونے لگتا ہے، یہ ایسا مسئلہ نہیں جسے نظرانداز کیا جائے خاص طور پر اگر آپ کو دل کے دیگر مسائل کا سامنا ہو۔ ایک تحقیق کے مطابق خون کی

کمی کے نتیجے میں دل کے امراض کے باعث موت کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ صرف سبزیوں کا استعمال جسم میں خون کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کو کہا جاتا ہے جو آکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں۔ یہ مرض کچھ افراد کو پیدائشی طور پر ہوتا ہے جسے تھلیسیمیا بھی کہا جاتا ہے مگر بیشتر افراد ایسے ہوتے ہیں جو آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی کے باعث اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ درحقیقت یہ خون کے امراض میں سب سے عام عارضہ ہے جو کہ ہر سال لاکھوں پاکستانیوں کو متاثر کرتا ہے۔ خون کی کمی دور کرنے والی غذائیں اگر کسی شخص میں خون کی کمی ہو تو اسے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ وہ اس کی قسم کا تعین کرکے علاج کرسکے۔ تاہم خون کی کمی یا انیمیا کے مرض کی چند علامات درج ذیل ہیں۔ جلد پر زردی طاری ہونا جلد کی رنگت زرد یا پیلی ہوجانے کی وجہ خون کے سرخلیات کی کمی اور ان خلیات میں ہیموگلوبن کی کمی ہوتی ہے۔ خون اور خون کے خلیات کا رخ جسم جلد کی بجائے اہم اعضاءکی جانب منتقل کردیتا ہے، چونکہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد ہوجاتی ہے تو جلد پر زردی نمایاں ہوجاتی ہے۔ بالوں اور جلد کی خشکی جسم میں آکسیجن کی منتقلی خون میں موجود پروٹین ہیموگلوبن کی مدد سے ہوتی ہے اور جب ہیموگلوبن کی سطح میں کمی آجائے تو آکسیجن ضرورت کے مطابق پورے جسم کو نہیں مل پاتی۔ آکسیجن کی مقدار محدود ہوجائے تو جسم اس کی تقسیم کے لیے اہم افعال سرانجام دینے والے اعضاءاور ٹشوز کو ترجیح دیتا ہے جس کے بعد جلد اور بالوں کا نمبر آتا ہے۔ جب جلد اور بالوں کو آکسیجن کی کمی ہوتی ہے تو وہ خشک اور کمزور ہوجاتے ہیں، خون کی شدید کیمی کی صورت میں بال تیزی سے گرنے بھی لگتے ہیں۔ زبان کی سوجن اور پیلاپن زبان کی رنگت میں یا ساخت میں تبدیلی

کے ساتھ ساتھ زبان سوجنا بھی انیمیا کی کی علامات میں شامل ہیں۔ اس عارضے کو زبان کا ورم بھی کہا جاتا ہے۔ آئرن جسم میں خون کے سرخ خلیات بننے میں مدد دیتا ہے اور جب سرخ خلیات کی کمی ہوتی ہے تو زبان کے ٹشوز کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں مل پاتی، جس کے نتیجے میں زبان پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذہنی بے چینی اور تشویش اعصاب اور دماغ کی بہترین کارکردگی کے لیے

آئرن کی ضرورت ہوتی ہے، آئرن کی کمی کی صورت میں جسم کو نیوروٹرانسمیٹر سگنلز اور دماغی توانائی میٹابولزم کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ اعصابی نظام میں سست روی آئرن کی کمی کا نتیجہ ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ذہنی بے چینی اور تشویش جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے، اسی طرح چڑچڑے پن اور ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ جسم میں آئرن کی کمی کی خاموش علامات

سانس لینے میں مشکل یا سر چکرانا جسم میں آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی کے نتیجے میں جسم ایک مخصوص پروٹین ہیموگلوبن کی مقدار بنانے میں ناکام رہتا ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ہیموگلوبن میں آئرن کی مقدار اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ اسی وجہ سے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے، جو آکسیجن کو دوران خون کے ذریعے جسم میں پہنچاتے ہیں۔

جب جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی تو اس کے نتیجے میں سانس لینے میں مشکل ہوتی ہے جبکہ اکثر سر چکرانے لگتا ہے یا ہلکا پن محسوس ہوتا ہے۔ مرجانے کی حد تک تھکاوٹ شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق انیمیا کی سب سے عام اور نمایاں علامت تھکاوٹ کا احساس ہے۔ تحقیق کے مطابق اس تھکاوٹ کی علامت کا اظہار لوگوں میں مختلف انداز میں ہوتا ہے۔

کچھ کو زیادہ تھکاوٹ ہوتی ہے اور اس کی وجہ بھی وہی عمل ہے جو سانس کی تنگی اور سر چکرانے کا باعث بنتا ہے یعنی آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی۔ سینے میں درد ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ سبزیوں سے جسم کو آئرن کی مناسب مقدار مل جاتی ہے مگر یہ غذا وٹامن بی 12 کی فراہمی میں ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں اس وٹامن کی کمی ہونے لگتی ہے جو کہ انیمیا کے مرض کا باعث بن جاتی ہے۔

عجیب چیزوں کی لت خون کی کمی کی سب سے غیرمعمولی علامت آئس کیوب، کھانے کے سوڈے، پینسل یا خشک پینٹ کو کھانے کی شکل میں نظر آتی ہے۔ طبی ماہرین ابھی تک یہ جاننے سے قاصر ہیں کہ مریضوں میں یہ عجیب و غریب چیزیں چبانے کی خواہش کیوں پیدا ہوتی ہے مگر ان کے بقول یہ انیمیا کی بہت عام عادت ہے۔ حاملہ ہونا یا کسی وجہ سے خون کا اخراج ہوسکتا ہے کہ آپ مناسب مقدار میں

آئرن جسم کا حصہ بنارہے ہوں، مگر مختلف وجوہات کی بنا پر خون کے اخراج کے باعث ہوسکتا ہے کہ اینیما کا شکار ہوچکے ہوں۔ حاملہ خواتین میں خون کی کمی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم کو معمول سے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بچے کی نشوونما ہوسکے۔ ہر وقت ہاتھ ٹھنڈے رہنا اگر آپ کے ہاتھ اور پیر ہر وقت ٹھنڈے رہتے ہیں تو یہ آئرن کی کمی کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے۔

خون کے سرخ خلیات کو خون میں آکسیجن کے لیے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کمی سے دوران خون متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم کو معمول سے زیادہ ٹھنڈ کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ دوران خون میں آنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور یہ احساس گرمیوں میں بھی ہوسکتا ہے، بتدریج اس وجہ سے متاثرہ فرد اینیما کا شکار ہوجاتا ہے۔ سردرد جسم میں آئرن کی کمی ہو تو وہ دیگر ٹشوز کے مقابلے میں دماغ کو ترجیح دینے کی

کوشش کرتا ہے، مگر ایسا ہونے پر بھی آکسیجن کی مقدار مثالی نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں دماغی شریانیں سوجن کا شکار ہوتی ہیں اور سردرد کی شکایت ہر وقت رہنے لگتی ہے۔ دھڑکن بے ترتیب ہونا اگر جسم میں خون کی کمی ہو تو آکسیجن کی فراہمی کو دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں دھڑکن بے ترتیب ہوتی ہے، اگر اکثر ایسا تجربہ ہو تو آپ کو ڈاکٹر سے معائنہ کرالینا چاہیے، کیونکہ طویل عرصے تک ایسا رہنا امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے۔

The post خون کے عام عارضے انیمیا کے شکار افراد میں سامنے آنے والی علامات appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سردیوں میں خشک جلد کے مسئلے کا حل آپ کے کچن میں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سردی کا موسم جلد کو خشک اور مرجھا دیتا ہے اور اگر آپ اس سے بچاﺅ کے لیے مہنگے لوشنز اور کریموں پر ہزاروں روپے خرچ کر کے اپنی جلد میں نمی واپس لانے کی کوشش کررہے ہیں تو اس سے اچھا ہے کہ آپ قدرت کے وہ نسخے آزمائیں جو آسان اور کم خرچ ہیں۔ درحقیقت آپ کے کچن میں موجود چند مزیدار اشیاءکا استعمال جلد میں صحت مند چمک واپس لے آتا ہے۔

یہ عام گھریلو ٹوٹکے مختلف جلدی مسائل جیسے چنبل وغیرہ سے بھی بچاتے ہیں۔ دہی سردیوں میں جلد کو ہموار اور چمکدار رکھنا چاہتے ہیں؟ تو آدھے کپ دہی میں 3 چائے کے چمچ شہد اور 3 کھانے کے چمچ چینی کو مائیں، اس مکسچر کو اپنے چہرے پر لگائیں اور تین سے چار منٹ تک نرمی سے مساج کریں۔ اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھولیں۔  دہی کھانا صحت کے لیے فائدہ مند جو جو ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات رکھتا ہے جو کہ خشک جلد کے مسئلے سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں، تین کھانے کے چمچ جو، ایک چائے کا چمچ شہد چوتھائی کپ دودھ میں ملائیں۔ اس مکسچر کو چہرے پر لگائیں اور 10 منٹ کے لیے چھوڑ دیں، اس کے بعد پانی سے منہ دھولیں۔ نیم کے پتے نیم کے پتے جلد کی نمی کی بحالی اور خارش میں کمی لانے میں مدد دیتے ہیں۔ 2 کھانے کے چمچ نیم کے پتوں کا پاﺅڈر ایک کھانے کے چمچ شہد اور ہلدی میں مکس کرکے پیسٹ بنالیں۔ اسے چہرے پر لگائیں اور 10 سے 12 منٹ تک خشک ہونے دیں۔ اس کے بعد پانی سے دھولیں، اگر جلد بہت خشک ہے تو اس مکسچر میں تھوڑی سی ملائی بھی شامل کردیں۔ لیموں 2 کھانے کے چمچ لیموں کے عرق میں ایک کھانے کا چمچ شہد ملانا موسم سرما میں جلد کی نمی بحال رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس مکسچر کو چہرے پر لگا کر 15 منٹ کے لیے لگا رہنے دیں اور پھر پانی سے دھولیں۔  لیموں کے 14 کارآمد استعمال شہد شہد کے فوائد بتانے کی ضرورت نہیں۔

اس کا استعمال تو سنت نبوی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خشک جلد سے نجات کے لیے بھی بہترین ہے، اس مقصد کے لیے 2 کھانے کے چمچ ملک پاﺅڈر کو ایک چائے کے چمچ شہد اور چٹکی بھر ہلدی کو اچھی طرح مکس کریں۔ اس پیسٹ کو چہرے پر لگا کر 15 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد پانی سے منہ دھولیں۔ ناریل کا تیل ناریل کے تیل میں موجود فیٹی ایسڈز جلد کی قدرتی نمی لوٹانے میں مدد دیتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے جلد کے ایسے حصوں پر روزانہ ایک یا 2 بار معمولی گرم تیل سے مالش کریں جو زیادہ خشک ہوچکے ہوں، آپ فوری مثبت اثر محسوس کریں گے۔  ناریل کے تیل کے 13 حیرت انگیز استعمال کیلے کیلے اور ناریل کے تیل کو مکس کرکے پیسٹ بنائیں اور اسے چہرے پر لگاکر 20 منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔ اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے منہ دھولیں، یہ عمل ہفتے میں ایک یا 2 بار دہرائیں۔

روزانہ صرف 2 کیلے جسم پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟ ایلو ویرا کوار گندل یا ایلو ویرا جیل خشک جلد سے نجات کے لیے موثر نسخے کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی وجہ اس کی جلد کو سکون اور نمی پہنچانے والی خصوصیات ہیں۔ اس جیل کو چہرے پر لگاکر مساج کریں تاکہ وہ جلد میں جذب ہوسکے، اسے رات بھر کے لیے لگا رہنے دیں۔ کوار گندل کے طبی فوائد سیب کا سرکہ سیب کا

سرکہ اینٹی آکسائیڈنٹس، وٹامنز اور منرلز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ جلد میں موجود قدرتی آئلز کو توازن میں رکھ کر جلد کی صحت بہتر کرتا ہے۔ آدھا کھانے کے چمچ سیب کے سرکے کو آدھے چائے کے چمچ پانی میں ملائیں، اس کے بعد آدھا چائے کا چمچ شہد بھی 2 کھانے کے چمچ عرق گلاب اور زیتون کے تیل کے ساتھ شامل کریں۔ اسے جلد کے خشک حصوں پر لگائیں اور 10 منٹ بعد دھولیں۔ اس کی جراثیم کش خوبیاں کیل

مہاسوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں جبکہ جلد کو نرم اور لچکدار بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔ گھی دیسی گھی میں نمی بحال کرنے کی خصوصیت موجود ہے، یہ نہ صرف جلد کی خشکی کم کرتا ہے بلکہ ہونٹ پھٹنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بھی موثر ہے۔ اسے چہرے پر لگائیں اور رات بھر کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ عمل ہر رات دہرائیں۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post سردیوں میں خشک جلد کے مسئلے کا حل آپ کے کچن میں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کوئی بھی شخص دوسرے کو نام کے مقابلے میں شکل سے جلدی پہچانتا ہے : تحقیق

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں ہونے والی ایک دلچسپ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ عام طور پر انسان دوسروں کو نام سے نہیں بلکہ انہیں شکلوں سے پہچانتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف یارک میں ماہرین نے ایک دلچسپ تحقیق کی جس کے نتائج Experimental Psychology میں جاری کیے گئے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ

عام طور پر لوگ دوسروں کو شکل سے پہچانتے ہیں یا پھر اُن کے نام یاد رکھتے ہیں؟، اس ضمن میں انسان کا بصارتی اور سماعتی سسٹم کا مشاہدہ کیا گیا۔ مطالعے میں ایک ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا جن کو پہلے ایک شخص کی تصویر دکھا کر اُن کا نام بتایا گیا، ماہرین نے جب اُس تصویر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے درست جواب دیا۔ بعد ازاں ماہرین نے مذکورہ شخص کی ہی دوسری تصویر تحقیق میں شامل ہونے والے فرد کو دکھائی گئی تو اُس کو نام یاد نہیں تھا البتہ وہ اسے شکل و صورت سے ضرور پہچان گیا تھا۔ تحقیق کے دوران 85 فیصد افراد نے پہلی تصویر کو نام سے جبکہ 73 فیصد سے شکل سے پہچانا بعد ازاں 64 فیصد افراد نے دوسری تصویر دیکھ کر یہ بولا کہ وہ مذکورہ شخص کو نام سے تو نہیں جانتے البتہ شکل کہیں دیکھی ضرور ہے۔ ماہرین نے حالیہ تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ’عام طور پر انسانوں کا بصارتی نظام قوت سماعت سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور ہے کیونکہ یہ دماغ سے جڑا ہوا ہے اور کچھ بھی دیکھنے کی صورت میں دماغ کے خلیات مطلوبہ معلومات فوراً فراہم کرتے ہیں۔ پروفیسر جین کن کا کہنا تھا کہ ’یہ مطالعہ ہمارے لیے حیران کن تھا کیونکہ ماہرین آج تک یہی سمجھ رہے تھے کہ انسان کے سننے کی صلاحیت دیکھنے سے کہی زیادہ ہوتی ہے‘۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’ہماری روز مرہ کی زندگی میں کئی ایسی چہرے ہوتے ہیں جنہیں ہم بعد میں دیکھ کر پہچان تو جاتے ہیں مگر اُن کا نام یاد نہیں رہتا، یہی بات اس تحقیق میں ثابت بھی ہوئی‘۔

The post کوئی بھی شخص دوسرے کو نام کے مقابلے میں شکل سے جلدی پہچانتا ہے : تحقیق appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پاکستان بھر میں ٹی بی مریضوں کی تعداد16 لاکھ سے تجاوز،سرکاری طور پر علاج معالجے کے کتنے مراکزہیں؟افسوسناک صورتحال

اسلام آباد(آن لائن)ملک بھر میں ٹی بی جیسی مہلک بیماری کی تشخیص کیلئے جدید لیبارٹریاں اور علاج معالجہ کی سہولت نہ ہونے پر مریضوں کی تعداد 16لاکھ سے تجاوز کرگئی،4لاکھ سے زائد مریض تاحال علاج معالجہ کی سہولیات فراہم نہ ہونے کے باعث رجسٹرڈ ہی نہ ہوئے،نئے پاکستان کی نئی حکومت نے بائیوسیفٹی لیبارٹریاں فی الفور قائم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔معلومات کے مطابق ملک بھر میں سرکاری طور پر علاج ومعالجہ کیلئے1340مراکز ہیں جبکہ دور دراز علاقوں میں

سہولیات نہ ہونے کے باعث لاکھوں مریض ایسے بھی ہیں،جن کی بیماری کی تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔معلومات کے مطابق16لاکھ61ہزار961 مریض رجسٹرڈ جبکہ ان میں سے 11لاکھ95ہزار 247مریضوں کا علاج شروع ہے۔معلوم ہوا ہے کہ آزاد جموں وکشمیر میں 63،بلوچستان 122،فاٹا27،جی بی44،خیبرپختونخوا241،پنجاب564،سندھ270اور اسلام آباد میں 9 ٹی بی کے علاج ومعالجہ کیلئے مراکز بنائے گئے ہیں۔

The post پاکستان بھر میں ٹی بی مریضوں کی تعداد16 لاکھ سے تجاوز،سرکاری طور پر علاج معالجے کے کتنے مراکزہیں؟افسوسناک صورتحال appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ناریل کا تیل صحت کیلئے کیسا ہے؟ سب اندازے غلط ثابت ہو گئے، دوبارہ استعمال سے پہلے ضرور پڑھ لیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)دنیا بھر کے لوگ غذاؤں کو مزید صحت دوست بنانے کے لیے جہاں زیتون اور پام آئل سمیت دیگر آئل کا استعمال کرتے ہیں، وہیں کئی لوگ ناریل کے تیل کو بھی محفوظ کھانے بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔امریکا کے 72 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ ناریل کا تیل صحت کے لیے اچھا ہوتا ہے، تاہم امریکی ماہرین صحت اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔امریکن ہرٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ناریل کے تیل میں جانوروں کے گوشت، مکھن، مچھلی، اور سویا بین کے تیل سے زیادہ چربی ہوتی ہے،

جو کسی طرح بھی طرح انسانی صحت کے لیے بہتر نہیں۔سائنس جرنل سرکیولیشن میں شائع امریکن ہرٹ ایسوسی ایشن کی رپورٹ میں ڈاکٹر فرینک سیک نے ناریل کے تیل کو کھانوں میں استعمال کرنے کے نقصانات نہیں بتائے، البتہ اسے خطرناک چربی کا تیل قرار دیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ناریل کے تیل میں جانوروں کے گوشت میں موجود چربی، مکھن اور دیگر چربی والی اشیاء کے مقابلے زیادہ چربی ہے، مگر لوگ اسے صحت کے لیے مفید سمجھتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں کی جانب سے ازخود ناریل کے تیل کو صحت کے لیے اچھا تسلیم کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس تحقیقاتی معلومات دستیاب نہیں۔ماہرین نے اپنی رپورٹ میں امریکا کی 7 کلینکس کی جانب سے ناریل کے تیل سمیت دیگر چربی والے تیلوں پر کی جانے والی تحقیق کا حوالہ دیتا ہوئے کہا کہ کوکونٹ آئل میں موجود چربی کی خراب مقدار (ایل ڈی ایل) دل کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔رپورٹ میں امریکا میں ہونے والے ایک سروے کا ذکر بھی کیا گیا ہے، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ امریکا کے 72 فیصد عوام ناریل کے تیل کو صحت کے لیے اچھا سمجھتی ہیں۔سروے میں بتایا گیا تھا کہ 37 فیصد امریکیوں کا خیال ہوتا ہے کہ ناریل کے تیل میں نیوٹریشن پائی جاتی ہے۔ماہرین نے ناریل کے تیل کو خطرناک چربی کا حامل تو قرار دیا ہے،

لیکن اس کے استعمال سے ہونے والے نقصان سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ماہرین نے ناریل کے تیل کا گوشت اور مکھن سمیت دیگر چربی والی چیزوں کے ساتھ موازنہ پیش کرکے صرف یہ بتایا ہے کہ ناریل کے تیل میں زیادہ اور خطرناک چربی پائی جاتی ہے۔ماہرین نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا کہ تیل کے علاوہ اگر ناریل کو استعمال کیا جائے تو وہ صحت کے لیے کتنا خطرناک ہے؟۔

The post ناریل کا تیل صحت کیلئے کیسا ہے؟ سب اندازے غلط ثابت ہو گئے، دوبارہ استعمال سے پہلے ضرور پڑھ لیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔