کتا آپ کو کون سے جان لیوا مرض سے بچا سکتا ہے ؟

سوئیڈن(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا کتا آپ کا پسندیدہ جانور ہے، اور آپ کے گھر میں ایک پالتو کتا بھی موجود ہے جو آپ کو بالکل اپنے گھر کا ایک حصہ لگتا ہے؟ تو پھر خوش ہوجائیں کیونکہ کتا آپ کو امراض قلب سے بچا سکتا ہے۔ سوئیڈن میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق کتا پالنے والے افراد میں امراض قلب میں مبتلا ہونے کا امکان کم ہوجاتا ہے نتیجتاً ان کی جلد موت کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کتا پالنے والے افراد جسمانی طور پر متحرک ہوتے ہیں کیونکہ وہ باقاعدگی کے ساتھ کتے کو

ٹہلانے کے لیے لے کر جاتے ہیں، جسمانی طور پر فعال رہنا امراض قلب میں کمی کرتا ہے۔ تحقیق میں دیکھا گیا کہ تنہا رہنے والے وہ افراد جن کے پاس کتا موجود تھا، ان میں امراض قلب کے خطرے میں 11 فیصد جبکہ قبل از وقت موت کے خطرے میں 33 فیصد کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق اکیلے رہنے والے افراد میں امراض قلب سمیت مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی کہا گیا کہ کتا اپنے مالک کی قوت مدافعت پر بھی مثبت طور پر اثر انداز ہوتا ہے اور اس میں اضافہ کرتا ہے۔

The post کتا آپ کو کون سے جان لیوا مرض سے بچا سکتا ہے ؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سائنسدانوں نے دماغ کا چھپا ہوا حصہ دریافت کرلیا

آسٹریلیا (مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں نے دماغ کے ایسے ننھے حصے کو دریافت کرلیا ہے جو صرف انسانوں میں پایا جاتا ہے اور یہی انہیں دیگر جانداروں کے مقابلے میں منفرد بناتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس حیرت انگیز دریافت سے رعشے کے امراض (پارکنسن) اور موٹر نیورون امراض کے علاج میں مدد مل سکے گی۔ 30 سال سے اس تحقیق میں مصروف سائنسدانوں کو شک تھا کہ دماغ میں ایسا حصہ موجود ہے۔

مگر وہ دیکھنے سے قاصر تھے۔ نیورو سائنسز آسٹریلیا کے محققین نے دماغ کے اس چھپے ہوئے حصے کو دریافت کیا۔ انہوں نے اسے Endorestiform Nucleus کا نام دیا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ یہ حصہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دیگر جانداروں میں یہ کہیں نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دماغ کے بڑے حجم سے ہٹ کر یہ حصہ انسانوں کو دیگر جانداروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ حصہ دماغ اور اسپائنل کورڈ جنکشن کے قریب دریافت کیا گیا ہے، یہ وہ حصہ ہے جو سنسر اور موٹر انفارمیشن کو جوڑتا ہے جو کہ جسمانی توازن، کھڑے بیٹھنے کا انداز اور موٹر موومنٹ کا کام کرتا ہے۔ محققین کے خیال میں دماغ کا یہ دریافت ہونے والا حصہ فائن موٹر کنٹرول کے میکنزم کا حصہ ہے۔ اس دریافت سے محققین کو پارکنسن اور موٹرنیورون امراض کے علاج تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔ پارکنسن امراض میں مسلز اکڑ جاتے ہیں، حرکت سست، نیند متاثر، شدید تھکاوٹ اور زندگی کا معیار متاثر ہوتا ہے جو بتدریج معذوری کا باعث بن جاتا ہے۔ موٹرنیورون امراض میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے عصبی خلیات ٹھیک طریقے سے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

The post سائنسدانوں نے دماغ کا چھپا ہوا حصہ دریافت کرلیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ہاضمہ خراب ہونے کے بعد کیلے کھانا درست؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہمیشہ سے سنتے آرہے ہیں کہ اگر پیٹ خراب ہو تو ایک کیلا کھا لینا چاہیے، لیکن اگر قبض کی کیفیت ہو تو 2 کیلے کھا لینا اس مسئلے کو حل کردے گا۔ پیٹ خراب ہونا (دست آنا) اور قبض یہ دو ایسی کیفیات ہیں جن کا سامنا ہر شخص کو کسی نہ کسی موقع پر کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ پیٹ کے 2 عام مسائل ہیں جن سے لاکھوں افراد یومیہ بنیادوں پر نبرد آزما ہوتے ہیں۔ لیکن بہت سے افراد ان مسائل پر کھل کر بات نہیں کرپاتے۔ متعدد افراد ان مسائل کے لیے ڈاکٹرز سے بھی رجوع نہیں کرتے، البتہ وہی روایتی ٹوٹکے اپنا کر گھر میں علاج کرلیتے ہیں۔ ان میں ایک کیلے کھانا بھی ہے۔ کیلا ایک ایسا پھل ہے جو ہر موسم میں دستیاب ہوتا ہے۔ لیکن کیا واقعی کیلے پیٹ خراب ہونے کی صورت میں مدد دیتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ کیلوں میں فائبر موجود ہوتا ہے، جو پیٹ صاف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جبکہ اس میں موجود پوٹاشیم بھی نظام ہاضمہ کو درست کرتا ہے اور ماہرین بھی کسی حد تک اس بات کو مانتے ہیں اور وہ اپنے مریضوں کو کیلے ہی تجویز کرتے ہیں۔ ڈاکٹرز کا ماننا ہے کہ جب پیٹ خراب ہوتا ہے تو کئی افراد کو کمزوری ہوجاتی ہے اور ایسے میں کیلے کھانا سب سے بہترین حل مانا جاتا ہے۔ کیلے میں اتنی غذائیت موجود ہے کہ یہ پیٹ خراب ہونے کے بعد کمزوری نہیں ہونے دیتے۔ کیلے کو دہی میں ملا کر کھانا بھی پیٹ کی خرابی کا بہترین حل مانا جاتا ہے جبکہ اسے ناریل کے پانی کے ساتھ بھی کھایا جاسکتا ہے۔

The post ہاضمہ خراب ہونے کے بعد کیلے کھانا درست؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کمر کے درد سے نجات کے 5 آسان طریقے جانئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کمر کا درد دنیا بھر کا مسئلہ ہے اور لگ بھگ ہر کسی کو زندگی میں کبھی نہ کبھی اس کا سامنا ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ درد پسلی سے نیچے شروع ہوتا ہے اور نیچے تک پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے جو کہ کافی تکلیف دہ ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ کمر درد دنیا کے ہر پانچ میں سے چار افراد کو زندگی کے کسی حصے میں اپنا شکار بناتا ہے۔ اونچی ایڑیوں کے سینڈل بلخصوص

خواتین اور بلعموم مردوں کے کمر میں درد کی بڑی وجہ اونچی ایڑیوں والے جوتے بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو سینڈل یا جوتے آپ پہن رہے ہیں ان کی ایڑیاں بظاہر ٹھیک لگ رہی ہوں لیکن ان کی غیرہمواری سے آپ کے کمر میں درد ہوتا ہو۔ اس حوالے سے طبی ماہرین متفق ہیں کہ جب اونچی ایڑی والے جوتے پہنیں جائیں تو کمر کا سارا زور اوپر سے نیچے کی جانب سرایت کرتا ہے جس کے باعث کمرے کی ہڈی اور پٹھے مسلسل دباؤ کی زد میں ہوتے ہیں۔ یوں تو اونچی ایڑی والے جوتے پہننے سے گریز کریں لیکن آپ نے پہننے کا فیصلہ ہی کرلیا تو اپنے سینے کو تھوڑا باہر نکال کر چلیں اس طرح نصف دباؤ تقسیم ہو کر گھٹنے پر منتقل ہوجائےگا۔ بستر کا جادو ہمارا بستر یقیناً راحت اور سکون پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہے لیکن خیال رہے کہ اگر آپ کے استعمال میں غیرمعیاری میٹرس (گدے) ہے تو درحقیقت آپ اپنی کمرے کے لیے متعدد مسائل کو دعوت دے رہے ہیں۔ ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے جو لوگ سخت میٹرس کا استعمال کرتے ہیں انہیں نرم میٹرس پر راحت محسوس نہیں ہوتی۔ محققین کے نزدیک جو لوگ درمیانی درجے (یعنی زیادہ سخت اور نہ ہی زیادہ نرم) کا میٹرس اپنے سکون کے لیے استعمال کرتے ہیں وہ کمر کے درد سے بہت حد تک دور رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے زیر استعمال میٹرس کا جائزہ لیں۔ نشست و برخاست کمر جھکا کر بیٹھنا کمر درد کو بدتر بناتا ہے خاص

طور پر اگر زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، تو کمپیوٹر استعمال کرتے کی بورڈ کی جانب جھکنے سے گریز کریں اور بالکل سیدھا بیٹھیں جبکہ کندھوں کو پرسکون رکھیں۔ 20 منٹ کی ورزش سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ مختلف قسم کی ورزشوں کے عادی ہوتے ہیں ان میں ایک سال کے اندر کمر درد کی شکایت میں 35 فیصد تک کمی آجاتی ہے۔ اسی طرح جو مریض ورزش کے ساتھ ساتھ بھاری چیزوں کو اٹھانے اور بیٹھنے کے

مناسب طریقے کو اپناتے ہیں، ان میں اس درد کا خطرہ 45 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ کم از کم 7 گھنٹےکی نیند جب کمر میں درد ہو تو سونا مشکل ہوجاتا ہے، مگر اکثر یہ کمر درد ناکافی نیند کی وجہ سے بدتر ہوتا ہے۔ آپ کے سونے کا خراب انداز کمردرد کو بڑھا دیتا ہے، اگر آپ اکثر کمردرد کا شکار رہتے ہیں تو پہلو کے بل لیٹنے کی کوشش کریں، آپ گھٹنے کے درمیان تکیہ رکھ لیں تاکہ ریڑھ کی ہڈی قدرتی پوزیشن میں رہے اور کمر کو دباﺅ سے ریلیف ملے۔

The post کمر کے درد سے نجات کے 5 آسان طریقے جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

یہ میوہ صحت کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ، جانئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موسم گرما میں متعدد پھل بازاروں میں ملتے ہیں، جن میں سے بیشتر ہی لوگوں کو پسند بھی ہوتے ہیں اور ایسا ہی ایک پھل خوبانی ہے۔ مگر خوبانی ہر موسم میں خشک حالت میں بھی دستیاب ہوتی ہے اور وہ بھی صحت کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اگر اعتدال میں کھایا جائے۔ خشک خوبانی کیلشیئم، پوٹاشیم، فاسفورس، وٹامن اے، آئرن اور وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے۔

جبکہ اس میں موجود فائبر بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔ ہر موسم میں دستیاب اس سوغات کے فائدے اسے استعمال کرنے پر مجبور کردیں گے۔ انیمیا سے نجات دلائے خشک خوبانی آئرن کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے جو کہ انیمیا سے لڑنے میں مدد دیتا ہے، جس سے جسم میں خون کی کمی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس میں موجود کاپر آئرن کو جذب کرتا ہے، اسی طرح روزانہ چند دانے خشک خوبانی کھانے سے ہیموگلوبن بننے میں مدد ملتی ہے۔ قبض سے نجات دلائے خشک خوبانی میں پیکٹین نامی جز موجود ہوتا ہے جبکہ سیلولوس بھی ہوتا ہے جو کہ جلاب کش اثر رکھتا ہے جو کہ قبض سے نجات دلاتا ہے۔ سیلولوس حل نہ ہونے والے فائبر کی طرح کام کرتا ہے جبکہ پیکٹین قبض کے دوان جسم میں پانی کے لیول کو متوازن کرتا ہے۔ نظام ہاضمہ بہتر کرے خشک خوبنی کو کھانے سے قبل کھانا ہاضمہ حرکت میں لاتا ہے جس سے کھانا جلد ہضم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بخار کی شدت کم کرے خشک خوبانی بخار کی شدت کم کرنے میں بھی مددگار ہے، اس سیال شکل بنائیں یا پانی میں شہد ملاکر اس میں ڈبو کر پی لیں۔ اس سے پیاس سے بھی ریلیف ملتی ہے۔ جلد کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند خشک خوبانی کا جوس سورج کی شعاعوں سے ہونے والی جلن، چنبل وغیرہ کے علاج میں مدد دیتا ہے، یہ کیل مہاسوں کے ساتھ متعدد دیگر جلدی مسائل کو بھی حل کرتا ہے۔ دل کی دھڑکن کو معمول پر لائے خشک خوبانی کا ایک بڑا فائدہ دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنا ہے، خشک خوبانی جسم کے لیے پوٹاشیم کے حصول کااچھا ذریعہ ہے، پوٹاشیم ایک منرل ہے جو کہ جسم میں سیال کے توازن کو ریگولیٹ کرتا ہے، جس سے مسلز فنکشنز ٹھیک کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن ریگولیٹ ہوتی ہے۔ بینائی کو بہتر کرے خشک خوبانی میں وٹامن اے موجود ہے جو کہ اچھی بینائی

کے لیے ضروری جز ہے، وٹامن اے ایسا طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہے جو کہ جسم میں گردش کرنے والے فریڈ ریڈیکلز کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ خلیات اور ٹشوز کی صحت بہتر کرتا ہے۔ فری ریڈیکلز انسانی قرینے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر کنٹرول کرے خشک خوبنی میں کیلے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ پوٹاشیم موجود ہے جبکہ نمک نہ ہونے کے برابر، جو کہ اسے بلڈ پریشر صحت مند سطح میں

رکھنے میں مدد دینے والی سوغات بناتی ہے۔ مسلز بنائے پوٹاشیم میٹابولزم کو بہتر بنانے کے ساتھ ٹشوز کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے، یہ عمل مسلز بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے، اس سوغات سے جسم میں ایسڈ کی سطح کو ریگولیٹ کرنے میں بھی مدد ملتی ہے جو کہ پروٹین کے جذب ہونے کا عمل بہتر کرتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post یہ میوہ صحت کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ، جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔