پتے میں پتھری کا خطرہ کم کرنے والی غذائیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کا پِتہ درست کام نہ کررہا ہو تو پتھری کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت، گیس، متلی، قے اور معدے میں درد جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پِتہ کیا ہے؟ پِتہ آپ کے پیٹ میں جگر کے بالکل نیچے دائیں جانب ہوتا ہے اور امرود کی شکل کے اس عضو میں ایک سیال (کیمیکل) بائل یا صفرا ہوتا ہے۔ یہ سیال جگر میں بنتا ہے جو کہ چربی اور مخصوص وٹامنز کو ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے۔

جب آپ کھاتے ہیں تو جسم اسے خارج کرنے کا سگنل دیتا ہے۔ تاہم اگر وہ صحیح طرح کام نہ کرسکے تو پتھری کے ساتھ ساتھ معدے میں تیزابیت، گیس، متلی، قے اور معدے میں درد جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تاہم کچھ غذائیں ایسی ہوتی ہیں جو پتے کو اپنے افعال درست طریقے سے سرانجام دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں، جبکہ دیگر اس کے لیے کام کرنا مشکل بناتی ہیں۔ غذا میں شامل یہ مصالحہ پتے میں پتھری کا خطرہ بڑھائے دالیں گوشت کم کھا کر زیادہ توجہ دالوں، بیج وغیرہ پر دینا پتے کے افعال کے لیے بہتر ثابت ہوتا ہے، کیونکہ چربی والا سرخ گوشت پتے میں ورم کا باعث بن سکتا ہے (اگر بہت زیادہ کھایا جائے)۔ چربی والی غذائیں جیسے تلے ہوئے پکوان، پنیر، آئسکریم اور گوشت کا معتدل استعمال کرنا بھی پتے کی صحت کے لیے بہتر ہے۔ مالٹے مالٹے بھی جسم کے لیے بہترین پھلوں میں سے ایک ہے، وٹامن سی سے بھرپور ترش پھل بھی صحت مند پتے کے لیے اچھا انتخاب ہے، طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن سی پتے کی پتھری سے تحفظ دینے میں کردار ادا کرتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ اضافی وٹامن سی کو جسم کا حصہ بنانا پتے میں پتھری کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتا ہے اور مالٹے جیسے مزیدار پھل کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پتے میں پتھری کی علامات اور وجوہات بھنڈی بھنڈی ایک ایسی بہترین سبزی ہے جس کے فوائد کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو، جیسا کہ یہ صحت مند چربی کو ہضم ہونے میں مدد دیتی ہے۔ جب پِتہ مناسب مقدار میں صفر بنا نہیں پاتا یا اس کا اخراج بلاک ہوجائے تو بھنڈی کو کھانا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اچار والی ادرک، کریلوں اور ایسے ہی کچھ تلخ ذائقے والی سبزیاں فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں کیونکہ یہ معدے میں موجود سیال کو حرکت میں لاکر

صحت مند صفرا کی پیداوار میں بہتری لاتی ہیں۔ سبز پتوں والی سبزیاں پالک، ساگ یا دیگر سبز پتوں والی سبزیاں میگنیشم سے بھرپور ہوتی ہیں، جو پِتے کے لیے فائدہ مند جز ہے، ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر پتے میں پتھری عام طور پر کیلشیئم سے بنتی ہیں اور میگنیشم، کیلشیئم کو جمع ہونے سے روکنے میں مدد دینے والا جز ہے اور اس طرح پتے میں پتھری کے خطرے سے بچا جاسکتا ہے۔

پانی ویسے پانی کو غذا تو نہیں قرار دیا جاسکتا مگر یہ جسم کو ڈی ہائیڈریشن سے بچانے سمیت صحت کے لیے کئی فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے، اور زیادہ پانی پینے کا ایک فائدہ پتے کے افعال کو بہتر بنانا بھی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق پانی کی ضرورت تو جسم کے ہر حصے کو ہوتی ہے جن میں پتہ بھی شامل ہے اور اس سے بھی پتھری کے خطرے کو کسی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

چقندر چقندر کھانے کے کچھ فوائد میں یہ فائدہ بھی شامل ہے کہ اس میں بیٹائن نامی جز موجود ہوتا ہے جو جگر کو تحفظ فراہم کرکے صفرا کے بہاﺅ کو حرکت میں لاکر چربی گھلانے میں مدد دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اسے پتے کی صحت کے لیے اچھا انتخاب قرار دیتے ہیں، جسے جوس کی شکل میں نوش کریں یا سلاد میں کھائیں، فائدہ ہر صورت میں ہوتا ہے۔ السی کے بیج فائبر نظام ہاضمہ کو صحت مند بناتا ہے۔

جس سے زہریلا مواد اور صفرا کی پرانی مقدار کو جسم خارج کرنے میں مدد ملتی ہے، اگر فائبر کی مقدار مناسب نہ ہو تو یہ مواد اور بائل جمع ہونے لگتا ہے، جس سے صفرا کا بہاﺅ متاثر ہوتا ہے ، خواتین کو روزانہ 25 گرام جبکہ مردوں کو 38 گرام فائبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ السی کے بیج اس کے حصول کے لیے بہترین ہے جسے پانی میں ڈال کر پی لیں یا کسی چیز میں ڈال کر کھالیں۔

بیج بیجوں کے متعدد طبی فوائد ہیں اور پتے کے لیے بھی یہ بہترین ثابت ہوتے ہیں۔ زیادہ فیٹ والی غذا سے بائل بھی زیادہ خارج ہوتا ہے مگر جب غذا یں چربی بہت زیادہ ہو تو وہ بائل میں جمع ہوکر پتے کی پتھری کا باعث بن سکتی ہے، تو گوشت کا استعمال کم کرکے نباتاتی غذا پر زیادہ توجہ مرکوز کریں تاکہ کولیسٹرول لیول بہتر ہوسکے اور پتے کی پتھری کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوسکے۔ بند گوبھی ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم ہو کہ معدے میں موجود بیکٹریا کا توازن برقرار رکھنا صحت کے لیے

کتنا ضروری ہے اور اگر معدے میں نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار بڑھ جائے تو ایسی متعدد علامات سامنے آتی ہیں جن میں سے بیشتر پتے کو متاثر کرتی ہیں، اس معاملے میں بندگوبھی آپ کی مدد کرتی ہے جو کہ بیکٹریا کے توازن کو بحال کرکے پتے کی صحت بھی بہتر کرسکتی ہے، اگرچہ دہی میں پروبائیوٹیکس کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے مگر وہ پتے کے لیے دوست نہیں ہوتا۔  یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے تاہم قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post پتے میں پتھری کا خطرہ کم کرنے والی غذائیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

جسم میں وٹامن سی کی کمی کی نشانیاں اور علامات جانئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وٹامن سی کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ آخر یہ جسم کے لیے ضروری کیوں ہوتا ہے؟ ویسے تو جسم میں اس کی سنگین کمی کا امکان بہت کم ہوتا ہے مگر پھر بھی ہماری کچھ عادتیں جسم کو ضرورت کے مطابق اس وٹامن سے محروم کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ ہمارے جسم کو متعدد افعال کے لیے اس کی ضرورت ہوتی ہے جو چربی گھلانے کا کام بھی کرتا ہے۔

وہ علامات جو ضروری وٹامنز کی کمی ظاہر کریں چونکہ ہمارا جسم اسے نہیں بناتا تو اس کی کمی کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے، جسے پورا کرنے کے لیے وٹامن سی سے بھرپور غذاؤں کے استعمال کی ضرورت ہوتی ہے، جیسے مالٹے، اسٹرابری، پپیتا، ٹماٹر، گوبھی اور شملہ مرچ سمیت متعدد۔ تاہم اگر اس کی کمی ہوجائے تو یہ علامات آپ کو خبردار کرتی ہیں کہ اسے پورا کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ بے وقت جھریاں  کولیگن جلد کو لچکدار رکھنے کے ساتھ جھریوں سے پاک رکھتا ہے، تو یہ حیران کن امر نہیں کہ وٹامن سی کی کمی آپ کو جوانی میں ہی بوڑھا بنا سکتی ہے کم از کم دکھا تو سکتی ہے جس کی وجہ چہرے پر موجود جھریاں ہوں گی۔ اسی طرح وٹامن سی کی مناسب مقدار درمیانی عمر میں بھی شخصیت میں جوانی کا تاثر برقرار رکھتی ہے۔ وٹامن سی سورج کی شعاعوں سے جلد کو ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے، جبکہ اس کا زیادہ استعمال جلد کی ملائمت طویل عرصے تک برقرار رکھتا ہے۔ بال آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں وٹامن سی کی شدید کمی کے نتیجے میں بالوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے اور وہ عجیب طریقے سے نظر آنے لگتے ہیں، جو کہ بہت نازک اور آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں، اگر آپ کے بال ماضی میں گھنے تھے مگر اب نازک اور کمزور ہوچکے ہیں تو یہ وٹامن سی کی شدید کمی کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ مسوڑوں سے خون آنا  اگر جسم میں وٹامن سی کی کمی ہو تو مسوڑے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، ان میں زیادہ خون بہنے لگتا ہے کیونکہ وٹامن سی زخم بھرنے میں مدد دیتا ہے جس کی کمی کے باعث مسوڑے جلد ٹھیک نہیں ہوپاتے، اسی طرح وٹامن سی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس مسوڑوں کو سوجن سے بچاتے ہیں۔ دانتوں کی فرسودگی  وٹامن سی تیزابیت کو جذب کرتا ہے اور دانتوں کے ارگرد جھلی ہوتی ہے جو کہ اسے

مضبوط بنانے کا کام کرتی ہے، اس جھلی یا ٹشو کو وٹامن سی کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ صحت مند رہ سکے، اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں دانت جوانی میں ہی ٹوٹ سکتے ہیں۔ آپ کے جسم کو وٹامن سی کی ضرورت کیوں ہے؟ جلد آسانی سے چھل جانا  آسٹریلین طبی ماہرین نے ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ جلد معمولی رگڑ سے بھی چھل جانا وٹامن سی کی کمی کی علامت ہے۔

جریدے یوایس نیشنل لائبریری آف میڈیسین نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ میں شائع تحقیق کے مطابق وٹامن سی سپلیمنٹ کا استعمال اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ علامت جسم میں وٹامن سی کی شدید کمی ظاہر کرتی ہے۔ زخم جلد نہ بھرنا  جسم کے زخم بھرنے کا میکنزم کسی حد تک وٹامن سی پر انحصار کرتا ہے، یہ وٹامن کولیگن کی پیداوار بھی بڑھاتا ہے جو ان ٹشوز کو مضبوط کرتا ہے۔

جو زخم کے اوپر بنتے ہیں، اس کی کمی یہ عمل سست کردیتی ہے۔ جوڑوں کی تکلیف اور سوجن  جوڑوں کی کرکری ہڈیوں کا بڑا حصہ کولیگن سے بنتا ہے تو وٹامن سی کی کمی جوڑوں کی تکلیف کا باعث سکتی ہے جبکہ سوجن بھی زیادہ ہونے لگتی ہے۔ عام معمول سے زیادہ تھکاوٹ طاری ہونا ہر وقت تھکاوٹ متعدد امراض اور اجزا کی کمی کی علامت ہوسکتی ہے، مگر اس کے ساتھ اگر مزاج میں

چڑچڑا پن بھی طاری ہو تو یہ وٹامن سی کی کمی کی نشانی ہوسکتا ہے، وٹامن سی جسمانی توانائی اور مزاج کو خوشگوار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کمزور اور بھربھرے ناخن اگر آپ کے ناخن نازک اور آسانی سے ٹوٹ جاتے ہیں تو یہ بھی وٹامن سی کی کمی کی نشانی ہوسکتی ہے، وٹامن سی جسم میں آئرن جذب ہونے کے لیے بہت ضروری ہے، اسی وجہ سے ناخن نازک اور بھربھرے ہوجاتے ہیں۔

آئرن کی کمی  وٹامن سی سبزیوں سے حاصل ہونے والے آئرن کو آسانی سے جذب ہونے میں مدد دیتا ہے اور اس کے بغیر وہ جذب نہیں ہوپاتا، یعنی وٹامن سی کی کمی خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ وزن بڑھنا جب وٹامن سی کی کمی ہو تو اس سے جسمانی توانائی متاثر ہوتی ہے جس سے میٹابولزم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جب اس کی رفتار سست ہوتی ہے تو جسمانی وزن بڑھنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

اکثر بیمار ہونا  وٹامن سی خون کے سفید خلیات کی پیدوار کے عمل کو حرکت میں لاتا ہے جو بیکٹریا اور وائرس کو نشانہ بناتے ہیں، وٹامن سی جسمانی دفاعی خلیات کی صحت کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ عام موسمی بیماریوں کے خلاف وہ موثر طریقے سے کام کرسکیں۔ اگر آپ اکثر فلو یا گلے کی خراش کا شکار رہتے ہیں تو یہ کمزور جسمانی دفاعی نظام کا عندیہ ہے جس کا حل وٹامن سی کا زیادہ استعمال ہے۔

The post جسم میں وٹامن سی کی کمی کی نشانیاں اور علامات جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سردیوں کا پھل نارنگی آپ کی صحت کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟ پڑھیے تفصیلات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی فضا میں خشک پتوں اور نارنگی کی خوشبو پھیل جاتی ہے۔ وٹامن سی سے بھرپور یہ پھل جو صرف سردیوں میں ہی دستیاب ہوتا ہے اپنے اندر بےشمار فوائد رکھتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں اس پھل سے ہمیں کیا کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیب کی طرح اگر آپ روز ایک نارنگی کھائیں تو آپ متعدد بیماریوں سے بچے

رہنے کے ساتھ ساتھ صحت مند بھی رہیں گے۔ نارنگی وٹامن سی سے بھرپور ہوتی ہے اور ان کے روزانہ استعمال سے جسم کا مدافعتی نظام فعال اور مضبوط ہوتا ہے۔ نارنگی میں اینٹی آکسیڈنٹ بھی موجود ہوتا ہے جو انسانی جلد کے لیے انتہائی مفید ہے۔ روز نارنگی کھانے سے جلد کے ڈھلکنے کا عمل سست ہوجائے گا اور آپ جوان نظر آئیں گے۔ اس میں پوٹاشیم، وٹامن اے اور سی ہوتے ہیں جو آنکھوں کے لیے نہایت مفید ہیں۔ نارنگی میں موجود وٹامن سی آپ کو سردیوں کے امراض جیسے نزلہ اور زکام سے بھی حفاظت دیتا ہے۔ اس پھل میں موجود فائبر انسانی معدے کے لیے نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ معدے کے جملہ امراض سے نجات دلاتا ہے۔ یہ قبض اور معدے کے السر سے بھی نجات دلاتا ہے۔ نارنگی کھانے میں تو فائدہ مند ہے ہی لیکن اس کے چھلکے بھی اپنے اندر بے شمار خوبیاں رکھتے ہیں جنہیں مندرجہ بالا طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے چھلکے میں اینٹی بیکٹیریل، فنگل اور کلینزنگ کی خاصیت موجود ہوتی ہے۔ اگر انہیں جلد پر رگڑا جائے تو یہ جلد کو صاف کرتے ہیں۔ اگر گھر میں کسی قسم کی بدبو محسوس ہورہی ہو تو نارنگی کے چھلکے ابال کر ان میں دار چینی یا لونگ شامل کر کے اس کی بھاپ گھر میں دیں۔ اس کی شاندار خوشبو سے آپ کا گھر معطر ہوجائے گا۔ نارنگی کے چھلکوں کی انتہائی معمولی مقدار کو کھانوں میں شامل کر لیا جائے تو کھانوں میں سے شاندار خوشبو آئے گی جبکہ کھانا بھی انتہائی ذائقہ دار ہو جائے گا۔ جن لوگوں کو کولیسٹرول کی شکایت ہے انہیں چاہیئے کہ وہ اپنے کھانے میں نارنگی کے چھلکوں کی ذرا سی مقدار شامل کرلیں۔ یہ بہت جلد جسم کے کولیسٹرول کو معمول کی سطح پر لے آتے ہیں۔ نارنگی کے چھلکوں کو پیس کر پاؤڈر بنا کر کھانے سے نظام انہضام فعال اور بیماریوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ تو پھر ان سردیوں میں خوب نارنگی کھائیں اور اس کے بے شمار فوائد حاصل کریں۔

The post سردیوں کا پھل نارنگی آپ کی صحت کے لئے کتنا فائدہ مند ہے ؟ پڑھیے تفصیلات appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

وٹامن ڈی کی کمی سے لاحق ہونے والے امراض جانئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔ وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ اپنے جسم میں اس وٹامن ڈی کی کمی کو سورج کی روشنی کے ذریعے دور کرسکتے ہیں۔

تاہم مارکیٹ میں اس کی ادویات بھی موجود ہیں۔ یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی آپ کو ان امراض کا شکار بناسکتی ہے۔ ہڈیوں میں درد وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے جبکہ ڈھانچے کے نظام کو مضبوط کرتا ہے، اس کی کمی کے نتیجے میں جسم میں کسی بھی جگہ ہڈیوں میں اور کمر کے زیریں حصے میں انتہائی شدید درد کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کی وجہ ورم ہوتا ہے۔ موسمی بیماریوں کا آسانی سے شکار وٹامن ڈی جسمانی مدافعی نظام کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے جو کہ عام موسمی بیماریوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے، مگر جب اس وٹامن کی کمی ہو تو مدافعتی نظام ٹھیک طرح کام نہیں کرپاتا، جس کے نتیجے میں ہر طرح کی بیماریوں کے لیے آپ کا جسم آسان شکار بن جاتا ہے۔ ہر وقت تھکاوٹ ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ وٹامن ڈی کی کمی بہت زیادہ ہونے پر شدید تھکاوٹ اور سردرد جیسی علامات سامنے آتی ہیں، یہاں تک کہ اس وٹامن کی معمولی کمی بھی جسمانی توانائی میں کمی اور تھکاوٹ کے احساس کا باعث بنتی ہے، خصوصاً اگر خواتین پر ہر وقت تھکاوٹ طاری رہتی ہو تو اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ انہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہے۔

اسی طرح اس وٹامن کی کمی کے نتیجے میں نیند کے مختلف عارضے بھی لاحق ہوسکتے ہیں۔ ہڈیوں کی کمزوری جیسے اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ وٹامن ڈی ہڈیوں کی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کو کیلشیم جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، تو مناسب مقدار میں وٹامن ڈی کا حصول انتہائی اہمیت رکھتا ہے تاکہ عمر بڑھنے سے ہڈیوں کا حجم برقرار رہے۔

اور وہ آسانی سے فریکچر کا شکار نہ ہوسکیں۔ ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے وٹامن ڈی کے ریسیپٹر دماغ کے متعدد حصوں میں موجود ہوتے ہیں، خصوصاً وہ دماغی حصے، جن کا تعلق ڈپریشن سے جوڑا جاتا ہے، اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر ماہرین کے مطابق وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔ خطرناک انفیکشن کا امکان بڑھتا ہے وٹامن ڈی جسمانی مدافعتی نظام

کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کی کمی کے نتیجے میں لوگوں میں نظام تنفس کے انفیکشن کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جو کہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے، اس وٹامن کی کمی کے باعث ہمارا جسم بیکٹریا اور وائرسز کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کرپاتا۔ خون کی شریانوں کے امراض وٹامن ڈی کی جسم میں مناسب مقدار فشار خون کا خطرہ کم کرتی ہے یعنی اس کی کمی آپ کو بلڈپریشر کا شکار بناسکتی ہے، تاہم طبی ماہرین کے مطابق اس بارے میں مزید

تحقیق کی ضرورت ہے۔ ذیابیطس کا شکار ہوسکتے ہیں مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ وٹامن ڈی انسولین کے حوالے سے جسمانی حساسیت کو بہتر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ کم ہوتا ہے، چاہے آپ کا جسمانی وزن جتنا بھی ہو۔ بانجھ پن اگر تو آپ بچوں کے خواہشمند ہیں تو یہ جان لیں کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی بانجھ پن کا شکار بھی کرسکتی ہے، یہ وٹامن اولاد کے لیے مردوں اور خواتین دونوں میں انتہائی ضروری ہے۔

The post وٹامن ڈی کی کمی سے لاحق ہونے والے امراض جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

خبردار!سوتے وقت اپنا موبائل فون قریب رکھنے والے افراد کن خطرناک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،جدید تحقیق میں ماہرین کے انتہائی تشویشناک انکشافات

کراچی(این این آئی)طبی ماہرین نے موبائل فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ سونے سے قبل اپنا موبائل فون خود سے فاصلے پر رکھیں، کیوں کہ خاص طور پر یہ اسمارٹ فونز، معلومات کے تبادلے کیلیے کم فریکوئینسی والے ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں، خصوصا اس وقت، جب موبائل فون صارف اسٹریمنگ یا بڑی فائل ڈاون لوڈ کررہا ہو۔

ایسے میں اس سے جو شعائیں خارج ہوتی ہیں، وہ سرطان، بانجھ پن اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتی ہیں، خاص طور پر کم عمر بچوں پر اس کے مضر اثرات بڑوں کی نسبت دو گنا زائد مرتب ہوتے ہیں۔ ماہرینِ صحت نے اس کے مضر اثرات سے محفوط رہنے کے لیے مشورہ دیا ہے کہ سونے سے ایک گھنٹے قبل موبائل فون کا استعمال ترک کردیا جائے اور خاص طور پر سوتے وقت اسے کم سے کم3سے4فٹ کے فاصلے پر رکھ کر سویا جائے۔نیز، کھانا کھاتے ہوئے بھی فون استعمال کرنے سے گریز کیا جائے کہ اس سے دماغی صحت متاثر ہوتی ہے اور ذہنی کم زوری کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر آپ موبائل فون اپنے سرہانے رکھتے ہیں یا پھر کھانا کھاتے ہوئے بھی اس کا استعمال جاری رکھتے ہیں، تو فورا سے پیش تر اپنی اس عادت کو ترک کردیں۔ طبی ماہرین نے موبائل فون صارفین کو خبردار کیا ہے کہ سونے سے قبل اپنا موبائل فون خود سے فاصلے پر رکھیں، کیوں کہ خاص طور پر یہ اسمارٹ فونز، معلومات کے تبادلے کیلیے کم فریکوئینسی والے ریڈیو سگنلز استعمال کرتے ہیں، خصوصا اس وقت، جب موبائل فون صارف اسٹریمنگ یا بڑی فائل ڈاون لوڈ کررہا ہو۔ایسے میں اس سے جو شعائیں خارج ہوتی ہیں، وہ سرطان، بانجھ پن اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتی ہیں

The post خبردار!سوتے وقت اپنا موبائل فون قریب رکھنے والے افراد کن خطرناک بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں،جدید تحقیق میں ماہرین کے انتہائی تشویشناک انکشافات appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔