نیند نہ آنے کے مسئلے کے حل کے لیے مدد دینے والا طریقہ

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) اکثر افراد کو رات کو سونے کے لیے لیٹنے کے بعد نیند نہ آنے کے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے اور وہ کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، مگر اس کا حل سامنے آگیا ہے۔ درحقیقت 1930 کی دہائی میں ایک امریکن فزیشن ایڈمنڈ جیکبسن نے ایک تیکنیک متعارف کرائی تھی۔

ان کا ماننا تھا کہ جسمانی سکون پرسکون ذہن کا باعث بنتا ہے جس سے نیند آجاتی ہے۔ وہ غذائیں جو جلد اور اچھی نیند میں مدد دیں اس تیکنیک پر عملدرآمد کا طریقہ درج ذیل ہیں۔ اپنے بازﺅں کو 5 سیکنڈ کے لیے اکڑائیں اور پھر 10 سیکنڈ کے لیے ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اپنی پیشانی کو چند سیکنڈ کے لیے اکڑائیں پھر ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اپنی آنکھوں اور گالوں کو اکڑائیں اور ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اپنے منہ اور چہرے کو اکڑائیں اور ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اپنی گردن کو اکڑائیں اور ڈھیلا چھوڑ دیں۔ اس تیکنیک کو جسم کے دیگر حصوں پر اس وقت تک دہرائیں جب تک پیروں کی انگلیاں پرسکون نہ ہوجائیں اور وہ بھی اس وقت اگر آپ اس دوران سو نہ چکے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ ابتدا میں یہ طریقہ زیادہ کامیاب نہ ہو مگر مشق کے ساتھ یہ جلد نیند میں مدد دینے لگے گا۔ اکثر افراد کو دوپہر کی نیند کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟ ویسے عام طور پر بے خوابی کی ایک عام وجہ ذہنی بے چینی ہوتی ہے تو ذہن میں کسی پرسکون مقام کا تصور لانے کی کوشش کریں جس سے خیالات اور تشویش کا دھیان بھٹک جائے گا، جس سے آپ چند منٹوں میں نیند کے مزے لے سکیں گے۔

The post نیند نہ آنے کے مسئلے کے حل کے لیے مدد دینے والا طریقہ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

شوگر کے مریضوں کیلئے بڑی خبر،چوبیس گھنٹے سے زائد اثر انگیز جدید ترین انسولین پاکستان میں متعارف کرادی گئی

اسلام آباد (این این آئی)بین الاقوامی دوا ساز ادارے صنوفی نے جدید ترین بنیادی انسولین (انسولین گلارگین یو300 ) پاکستان میں متعارف کرادی۔ ادارے کی جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا۔ مذکورہ انسولین ایک سائنسی تقریب میں متعارف کرائی گئی جس میں ملک کے ممتاز ماہرین طب شریک ہوئے۔ ذیابیطس کے زیرِ علاج متعدد مریضوں میں علاج کے باوجود خون میں شوگر کی سطح معمول پر لانے میں ناکامی ہوتی ہے۔

صنوفی کی چوبیس گھنٹے تک اثر رکھنے والی نئی متعارف کردہ انسولین شوگر کے بالغ مریضوں میں اس پچیدگی کے حل کے لیے تیار کی گئی ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے 2015 میں اس کی منظوری دی تھی جس کے بعد اسے امریکہ، کینیڈا، روس، جاپان اور انڈیا سمیت کئی ممالک میں متعارف کرایا گیا۔ انسولین گلارگین یو300 انسانی جسم کی قدرتی انسولین کی طرح کام کرتے ہوئے ورزش اور خوراک کے ساتھ خون میں شوگر کی مناسب مقدار برقرار رکھتی ہے۔ نئی انسولین خون میں شوگر کی مناسب مقدار کو یقینی بناتے ہوئے مریضوں کو دوا کی خوراک میں سہولت اور شوگر کی مقدار پر اختیار دیتی ہے۔ صنوفی پاکستان کے کنٹری چیئر اور جنرل منیجر عاصم جمال نے کہا: “صنوفی کے لیے ذیابیطس پر ایک صدی پر محیط تحقیق اور تخلیق کی تاریخ قابلِ فخر ہے۔ ہم پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کا ادویہ کے ذریعے پچاس سال سے اور انسولین کے ذریعے ایک عشرے سے زائد عرصے سے علاج فراہم کر رہے ہیں۔ ہم مریضوں کی صحت میں بہتری کے لیے جدید طریقہ علاج کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ذیابیطس سے متعلق معمولات فراہم کرنے والے ہمارے منفرد اراکین کی ذیابیطس کے شکار مریضوں کے علاج اور انہیں صحت مند اور فعال زندگی میں شرکت کو یقینی بنانے کی جدوجہد بھی جاری ہے۔ ہم پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے صحت کے بہترین نتائج کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین طریقہ علاج متعارف کرانے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔

” مقامی ماہرینِ طب کو متعدد عوامل زیرِ غور لاتے ہوئے مریضوں کے لیے علاج تجویز کرنے کے لیے ذیابیطس کے بین الاقوامی ماہرین نے اپنے تجربات سے مثالیں پیش کرتے ہوئے مشورے دیے۔ پولینڈ میں واقع وارساء میڈیکل یونیورسٹی میں شعبہ ڈیابیٹالوجی اور انٹرنل میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر لیسڑیک ڑْپرینیاک (Leszek Czupryniak) نے ‘ایک مستحکم کل کے لیے آج کی ایک انسولین’ کے عنوان سے اپنی تقریر میں کہا، “ذیابیطس کے شکار افراد میں تقریباّ پچاس فیصد کے خون میں شْگر کی مقدار قابو میں نہیں رہتی۔

انسولین کی آزمائی ہوئی تاثیر کے باوجود شْگر کی مقدار کی مناسب سطح کو برقرار رکھنے کی کوششوں کے دوران عموماّ ہائیپوگلیسیمیا یعنی خون میں شْگر کی کم مقدار کے خطرے کے باعث آزمائش کا سامنا ہوسکتا ہے۔ آج متعارف کرائی جانے والی انسولین ایک نیا انتخاب فراہم کرتی ہے۔ انسولین گلارگین یو300 انسولین کے جدید ترین فوائد فراہم کرتے ہوئے معالج کو اپنے مریض کے علاج کے دوران خون میں شْگر کی کم مقدار کے خطرے سے محفوظ رہتے ہوِئے گلوکوز کو قابو میں رکھنے کا محفوظ ترین ذریعہ ہے۔” جرمنی میں واقع صنوفی کی ‘انسولین سٹی’ میں تیار کی جانے والی جدید ترین انسولین ڈاکٹر کے نسخے پر ملک بھر میں دستیاب ہے۔

The post شوگر کے مریضوں کیلئے بڑی خبر،چوبیس گھنٹے سے زائد اثر انگیز جدید ترین انسولین پاکستان میں متعارف کرادی گئی appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کیا کھجور کو کھانا ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کی روک تھام یں مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس ایسا مرض ہے جس میں میٹھے کھانے کو نقصان دہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ کس حد تک درست ہے؟ بیشتر طبی تحقیقی رپورٹس میں اس تاثر کی نفی کی گئی ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ حالیہ دور میں ذیابیطس سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والے امراض میں سے ایک ہے جو کہ دیگر طبی پیچیدگیوں کا باعث بھی بنتا ہے۔ اگرچہ ذیابیطس کے مریضوں کو

اپنی غذا سے میٹھے کو مکمل طور پر نکالنے کی ضرورت نہیں مگر اس کی ایک حد ضرور ہوتی ہے۔ تو اگر ذیابیطس کے مریضوں کو میٹھے کی طلب ہو تو وہ کیا کریں؟ کھجور اس کا بہترین حل ہے۔ کھجور کھانے کے یہ فوائد جانتے ہیں؟ کھجور ایسا پھل ہے جو میٹھاس سے بھرپور پوتا ہے اور حیران کن طور پر اس میں گلیسمک انڈیکس کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنی اس میں موجود گلیسمیک انڈیکس (جی آئی)۔ جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس لیول کو کنٹرول میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق کھجور کھانے سے بلڈ شوگر لیول نہیں بڑھتا بلکہ یہ جسم کے لیے بہت زیادہ فائدہ مند ہے کیونکہ اس میں اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں۔ کیا کھجوریں موٹاپے سے نجات کے لیے مددگار ہیں؟ مگر ایک یا 2 کھجوروں سے زیادہ کھانا ضرور نقصان پہنچاسکتا ہے اور کھجور کھانے کے ساتھ ساتھ صحت بخش متوازن غذا کا استعمال بھی ضروری ہے۔ اور اگر ہوسکے تو Medjool کھجوریں اس حوالے سے زیادہ فائدہ مند ہیں جو کہ انتہائی نرم، حجم میں بڑھی اور شیریں ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق میں ان کھجوروں کے اثرات کا جائزہ لیا گیا جس کے دوران 10 صحت مند افراد کو 4 ہفتے تک سو گرام کھجوریں

استعمال کرائی گئیں۔ چار ہفتے بعد محققین نے دریافت کیا کہ ان کھجوروں کو کھانے سے لوگوں کے بلڈ گلوکوز لیول میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جبکہ کولیسٹرول لیول بھی مستحکم رہا۔ اسی طرح عجوہ کھجور بھی امراض کی روک تھام کی جادوئی خصوصیات رکھتی ہے اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اس کھجور کو کھانا ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کی روک تھام یں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post کیا کھجور کو کھانا ذیابیطس سے جڑی پیچیدگیوں کی روک تھام یں مددگار ثابت ہوسکتا ہے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ذیابیطس سے نجات کے لیے مددگار غذائیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) زندگی کس کو پیاری نہیں ہوتی مگر اچھی صحت کے بغیر جینا آسان نہیں ہوتا اور وہ جہنم جیسی لگنے لگتی ہے اور موجودہ عہد میں جو مرض انسانوں کے لیے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہو رہا ہے وہ ذیابیطس ہے۔ ذیابیطس وہ مرض ہے جو دیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ جاتا ہے اور اگر اس کے بارے میں بروقت معلوم نہ ہوسکے

تو یہ بینائی سے محرومی سے لے کر گردوں کے فیل ہونے اور دیگر لاتعداد طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔ موجودہ عہد میں طرز زندگی خاص طور پر غذائی عادات ایسی ہیں، جو اکثر افراد کو اس جان لیوا مرض کا شکار بنا دیتی ہیں، جس کی تشخیص اگر بروقت ہوجائے تو کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اسے پھیلنے سے روکتی ہیں اور اس بارے میں جاننا آپ کے لیے یقیناً دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ انڈے انڈے جسمانی پٹھوں کی نشوونما کے لیے بہترین غذا ہے کیونکہ ان میں پروٹین کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے، اگر انڈے کی سفیدی کا زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کو روکنے کا بہترین آپشن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس میں بہت زیادہ پروٹین اور کاربوہائیڈریٹس کی تعداد کم ہوتی ہے۔ سبز چائے مختلف طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ بہت زیادہ چربی والی غذائیں، ورزش سے دور اور پھلوں و سبزیوں کا بہت کم استعمال جسم میں بلڈ شوگر کو جذب کرنے کی صلاحیت کو ختم کردیتا ہے اور اس ایک آسان حل سبز چائے کا استعمال ہے، یہ مشروب فلیوونوئیڈ سے بھرپور ہوتا ہے جو جسم میں انسولین کی سرگرمی کو بڑھاتا ہے دن بھر میں اس کی ایک پیالی ذیابیطس کی روک تھام میں مفید ثابت ہوتی ہے۔ بیج (کسی بھی قسم کے) اب یہ دال ہو، لوبیا یا کوئی اور، بیجوں میں گلیسمک انڈیکس کی سطح بہت کم ہوتی ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں کھانے کے بعد جسم میں کاربوہائیڈریٹس کا اخراج بتدریج ہوتا ہے اور بلڈ شوگر لیول بڑھنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک کپ بیجوں کو تین ماہ تک روزانہ کھانا ذیابیطس سے بچنے یا اس کے شکار افراد میں بلڈ شوگر لیول کنٹرول میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ سیب ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد کا خیال ہو کہ سیب جیسا میٹھا پھل ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہو، مگر یہ درست نہیں۔

ایسے افراد ان پھلوں کو کھا سکتے ہیں جن میں گلیسمک انڈیکس کی سطح کم یا متوازن ہو اور پھل ان میں سے ایک ہے۔ روزانہ ایک سیب کھانے کے دیگر متعدد فوائد بھی ہیں کیونکہ یہ پھل فائبر، وٹامن سی اور دیگر اجزا سے بھرپور ہوتا ہے۔ بادام یہ مزیدار میوہ میگنیشم سے بھرپور ہوتا ہے، یہ ایسا منرل ہے جو جسم کو انسولین کو زیادہ موثر طریقے سے استعمال کرنے میں مدد فراہم کرسکتا ہے۔

کچھ مقدار میں بادام روزانہ کھانا بلڈ شوگر لیول کو متوازن رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، اس کے علاوہ بادام اپنے پروٹین، فائبر اور فیٹی ایسڈز کی بدولت ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک اچھا آپشن ہے۔ پالک پالک ان چند سبزیوں میں سے ایک ہے جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جو لوگ روزانہ کچھ مقدار میں پالک کا استعمال کرتے ہیں۔

ان میں ذیابیطس کا خطرہ اس سبزی سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں 14 فیصد کم ہوتا ہے۔ اس سبزی میں وٹامن کے، میگنیشم، پوٹاشیم، زنک اور دیگر منرلز بھی موجود ہوتے ہیں جو عام صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ تخ ملنگا تخ ملنگا ذیابیطس ٹائپ ٹو کی روک تھام میں بہتر سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ یہ جسمانی میٹابولزم کی رفتار سست کرتا ہے۔

اور کاربوہائیڈریٹس کو گلوکوز میں بدلنے کے عمل کو کنٹرول کرتا ہے۔ ناشتے میں دودھ کے ایک گلاس میں تخ ملنگا کو ملائیں اور پی لیں۔ بلیو بیریز بیریز کی نسل کا یہ نیلا پھل فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو آپ کے جسمانی نظام سے فالتو چربی کو باہر کرنے کے ساتھ ساتھ ہاضمے اور بلڈ شوگر کو بھی بہتر بناتا ہے۔ امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق روزانہ بلیو بیریز کے جوس کے

2 کپ کا استعمال خون میں گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ ساتھ یاداشت کو عمل کو بھی بہتر بناتا ہے۔ بلیو بیری میں موجود قدرتی اجزاء چربی کے خلیات کو سکڑنے میں مدد دیتے ہیں اور ایک ایسے ہارمون کو خارج کرنے میں مدد دیتے ہیں جو خون میں گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے اس طرح بلڈ شوگر کی سطح معمول پر رہتی ہے اور انسولین کی حساسیت بڑھتی ہے۔

جو کا دلیہ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے دلیے کا استعمال بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے، جو کے دلیے میں پائے جانے والے اجزاء ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند اثرات رکھتے ہیں، یہ دلیہ دل کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے اور روزمرہ کی خوراک میں موجود گلوکوز کے جسم میں جذب ہونے کی رفتار کو بھی سست کردیتا ہے، تاہم چینی ڈالنے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔

ہلدی برصغیر کے کھانوں میں عام استعمال کی جانے والی ہلدی نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کے نتیجے میں خوراک میں شامل ایسے اجزاء جلد ہضم ہوجاتے ہیں جو بلڈ شوگر کی سطح کو ڈرامائی حد تک بڑھا سکتے ہیں۔ اس زرد مصالحے کو اکثر سالن وغیرہ میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے بلڈ شوگر پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ اس کا اہم جز

کرکومین جسمانی میٹابولزم کی کارکردگی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں چربی کے خلیات کی مقدار بڑھنے نہیں پاتی جبکہ لبلبے ، گردوں اور پٹھوں کے خلیات کی کارکردگی بھی بڑھ جاتی ہے۔ دار چینی متعدد طبی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ یہ مزیدار مصالحہ بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار افراد جو روزانہ

دار چینی کی معمولی مقدار کا استعمال کرتے ہیں ان کے بلڈ شوگر کی سطح میں 30 فیصد کی نمایاں بہتری دیکھنے میں آتی ہے۔اس کے علاوہ یہ کولیسٹرول کی سطح کو بڑھنے سے بھی روکتا ہے جبکہ اس میں شامل ایک جز کرومیم انسولین کے اثرات کو بڑھاتا ہے اور دیگر قدرتی منرلز خون میں موجود مضر صحت اجزاء کو پاک کرتے ہیں جس سے کینسر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ اخروٹ دنیا بھر میں پسند کیے

جانے والے اخروٹ مختلف قدرتی اجزاء اور وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ ذیابیطس اور امراض قلب وغیرہ سے تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شکار افراد میں بیماری کی شدت کو کم کرنے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ اخروٹ کھانے کے نتیجے میں آپ کے جسم کو زیادہ طاقت کم کیلیوریز کے استعمال سے مل جاتی ہے جبکہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی زیادہ دورانیے تک برقرار رہتا ہے۔

مچھلی مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مچھلی کا استعمال انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے میں مددگار ہوتا ہے کیونکہ اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں، جس سے جسم میں گلوکوز کی مقدار میں کمی سے ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اسی طرح اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کے نتیجے میں جسم کم پھولتا ہے یا سوجن کا عارضہ لاحق نہیں ہوتا جو کہ ذیابیطس و وزن کے مسائل کو مزید بدتر بنانے کا باعث بنتا ہے۔ زیتون کا تیل ایک ہسپانوی طبی تحقیق کے مطابق اگر تو آپ کی

غذا زیتون کے تیل میں تیار ہوتی ہے تو ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بھی 50 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عام گھی، کنولا آئل، مکھ وغیرہ کے مقابلے میں زیتون کے تیل میں تیار کیے گئے پکوان پیٹ بھرنے کے احساس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس تیل میں شامل صحت بخش چکنائی اسے خلیات کو نقصان سے تحفظ دینے مٰں مدد فراہم کرتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post ذیابیطس سے نجات کے لیے مددگار غذائیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

گاڑی کے نیچے آنے سے کیسے بچا جائے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کل کی تیز رفتار زندگی میں تیز دوڑتی گاڑیوں سے بچنا بے حد مشکل ہوجاتا ہے، خصوصاً ایسی صورت میں جب آپ خود بھی جلدی میں سڑک پار کر رہے ہوں۔ ایک پروفیشنل اسٹنٹ وومین ٹیمی بیئرڈ ایک ایسا طریقہ بتاتی ہیں جس میں گاڑی کے ایکسیڈنٹ میں کم سے کم نقصان

ہو سکتا ہے۔ گاڑی سے تصادم صرف چند سیکنڈز یا لمحوں کا کھیل ہوتا ہے اور اس مختصر سے عرصے میں بہت کم لوگ فوری طور پر اپنے بچاؤ کی تدبیر کر پاتے ہیں۔ ویسے تو سامنے سے آتی تیز رفتار گاڑی کے سامنے سے ہٹ جانا ہی بچاؤ کا سب سے بہترین حل ہے تاہم ایسے موقع پر حواس کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور سامنے کھڑا شخص کچھ بھی نہیں کر پاتا۔ ٹریفک حادثے کی صورت میں کیا کیا جائے؟ ٹیمی بیئرڈ کا کہنا ہے کہ جب بھی آپ خود کو سامنے سے آتی گاڑی کی زد میں پائیں اور تصادم یقینی ہو تو ایسی صورت میں گاڑی کے قریب آتے ہی اچھل کر اس کے بونٹ پر سوار ہوجائیں۔ گو کہ اس طریقے میں بھی چوٹ لگے گی تاہم یہ اس سے کم ہوگی جو گاڑی سے تصادم کی صورت میں لگے گی اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روڈ ایکسیڈنٹ کی صورت میں اگر آپ خود کو بالکل ٹھیک ٹھاک محسوس کریں تب بھی ڈاکٹر کے پاس ضرور جائیں۔ ہوسکتا ہے ایکسیڈنٹ میں آپ کو کوئی اندرونی زخم لگا ہو جو کچھ دیر بعد ظاہر ہو۔ ایسا اندرونی زخم جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

The post گاڑی کے نیچے آنے سے کیسے بچا جائے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔