کیا یادداشت بہتر بنانے کے لیے ننگے پاؤں بھاگنا فائدہ مند ہے؟

فلوریڈا (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ جانتے ہیں جوتے پہن کر بھاگنے کی بہ نسبت ننگے پاؤں بھاگنا یادداشت کے لیے فائدہ مند ہے؟ امریکا کی نارتھ فلوریڈا یونیورسٹی کے پروفیسر کے مطابق یادداشت کو فعال رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اگر کوئی چیز ہماری یادداشت میں ہے لیکن جب اس کی ضرورت پڑے اس وقت وہ یاد نہ آئے تو اس کا مطلب ہے آپ کو اپنی یادداشت بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تحقیق کے لیے 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کو ننگے پاؤں اور جوتے پہن کر دوڑایا گیا اور اس دوران ان کی یادداشت

کا جائزہ لیا گیا۔ نتیجے کے مطابق جو لوگ ننگے پاؤں دوڑے تھے ان کی یادداشت نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگی جو اپنی یادداشت کو فعال رکھنے کے لیے کسی آسان طریقے کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر آپ یادداشت بہتر کرنے کے اس طریقے پر عمل کرنے جارہے ہیں تو اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ کسی ایسی جگہ دوڑیں جہاں آپ کے پیروں کو چوٹ نہ لگے ورنہ آپ یادداشت بہتر بنانے کے چکر میں اپنے پاؤں زخمی کروا بیٹھیں گے۔

The post کیا یادداشت بہتر بنانے کے لیے ننگے پاؤں بھاگنا فائدہ مند ہے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

گاجر کا حلوہ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موسم سرما میں پاکستان کے مختلف مقامات میں جو سوغات ہر گھر میں سب کو پسند ہوتی ہے وہ گاجر کا حلوہ ہے۔ انتہائی لذیذ ہونے کے باعث یہ لگ بھگ موسم سرما کی روایت بن چکی ہے۔ گاجر کا حلوہ بنانے کی ترکیب ویسے ہوسکتا ہے کہ لوگ گاجر کا حلوہ میٹھا ہونے کے باعث اسے صحت کے لیے نقصان دہ سمجھیں مگر سردیوں میں خود کو صحت مند رکھنے

کے لیے اس سوغات کو کھانا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔ وٹامن اے کا حصول یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس حلوے کا سب سے اہم جز گاجر ہے، گاجریں وٹامن اے، وٹامن سی، وٹامن کے اور فائبر سے بھرپور سبزی ہے، گاجروں میں موجود وٹامن اے بینائی کو بہتر کرتا ہے اور حلوے کی شکل میں اسے کھانا بھی یہ فائدہ پہنچاسکتا ہے۔ کیلشیئم کا حصول گاجر کے حلوے میں اکثر افراد دودھ کو بھی شامل کرتے ہیں اور اس وجہ سے یہ سوغات کیلشیئم سے بھرپور ہوجاتی ہے جبکہ اس میں شامل کیے جانے والے خشک میوہ جات کی بدولت پروٹین اور اینٹی آکسائیڈنٹس بھی جسم کو حاصل ہوتے ہیں۔ اس حلوے میں شامل دودھ انسولین کے صحت مند سطح کو سپورٹ کرتا ہے جس سے خلیات کے لیے بلڈگلوکوز کو جذب کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ میٹھے کی خواہش کم ہوتی ہے۔ انفیکشن سے تحفظ گاجر کے حلوے میں صحت کے لیے فائدہ مند فیٹ بھی جسم کو ملتا ہے جو کہ سردیوں میں ہونے والے جسمانی درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم بہت زیادہ گھی شامل کرنے سے گریز کرنا چاہئے بلکہ دیسی گھی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔ اسی طرح گاجر میں موجود وٹامن اے جسمانی مدافعتی نظام کو بھی بہتر کرکے مختلف انفیکشنز سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ گاجر کی برفی کھائیں گے؟ جلد کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند گاجر بیٹا کیروٹین سے بھرپور سبزی ہے جو کہ سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے میں مدد دیتا ہے اور یو وی ریز سردیوں میں زیادہ متحرک ہوتی ہیں، تو گاجر کا حلوہ اس مسئلے سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ بس یہ ذہن میں رکھیں کوئی بھی غذا اسی وقت صحت بخش ثابت ہوتی ہے جب اسے اعتدال میں رہ کر کھایا جائے تو گاجر کا حلوہ بہت زیادہ کھانا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post گاجر کا حلوہ صحت کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سردی میں اضافہ ہوتے ہی ملک بھر میں انفلوئنزا سر اُٹھانے لگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سردی میں اضافے پر ملک میں انفلوئنزا سر اٹھانے لگا، قومی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ بر وقت احتیاطی تدابیر نہ کی گئیں تو شہری انفلوئنزا اور اس سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق قومی ادارۂ صحت

نے صوبوں کو ہنگامی ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سردی کے اضافے پر ملک بھر میں انفلوئنزا سر اٹھانے لگا ہے جس سے بچنے کے لیے بر وقت احتیاطی تدابیر کی جائیں۔ قومی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ انفلوئنزا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں، بچے، بزرگ اور حاملہ خواتین انفلوئنزا کا بہ آسانی شکار بن سکتے ہیں۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ شوگر کے مریض، موٹے افراد اور دل کے مریض بھی انفلوئنزا کا آسان شکار ہیں، سانس کے مریضوں کو انفلوئنزا ہونے سے پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔ قومی ادارۂ صحت نے متعلقہ اداروں کو انفلوئنزا پر قابو پانے کے لیے بر وقت اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بر وقت احتیاطی تدابیر اپنا کر انفلوئنزا سے بچا جا سکتا ہے۔ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ زکام، بخار کے مریضوں سے میل جول میں احتیاط برتی جائے، بیمار افراد سے ملنے کے بعد ہاتھ، منہ، آنکھوں کو مت چھوئیں، اور ہاتھ صابن سے دھوئیں۔

The post سردی میں اضافہ ہوتے ہی ملک بھر میں انفلوئنزا سر اُٹھانے لگا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

فضائی آلودگی چھاتی کے بڑھتے سرطان کی وجہ قرار

ایڈن برگ(مانیٹرنگ ڈیسک) طبی ماہرین نے خواتین میں بڑھتے ہوئے چھاتی کے سرطان کی وجہ فضائی آلودگی کو قرار دے دیا۔ یہ بات اسکاٹ لینڈ کی جامعہ یونیورسٹی آف اسٹرلنگ میں ہونے والی تحقیق کے دوران سامنے آئی۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے تجزیہ کیا کہ روزانہ گھروں سے باہر نکلنے والی خواتین سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کے دھوئیں سے بہت تیزی کے ساتھ متاثر ہورہی ہیں۔

ماہرین نے بڑھتے ہوئے ٹریفک اور گاڑیوں سے نکلنے والے دھوئیں کو فضائی آلودگی کی وجہ بھی قرار دیا اور متنبہ کیا کہ اگر ان معاملات پر قابو نہ پایا گیا تو بہت ساری خواتین چھاتی کے سرطان جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوسکتی ہیں۔  چھاتی کے سرطان سے محفوظ رہنا ہے تو صبح‌ جلدی اٹھیں، تحقیق مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق میں شمالی امریکا سے تعلق رکھنے والی ایسی خواتین کو شامل کیا گیا جو گزشتہ 20 برس سے بسوں میں سفر کررہی تھیں یا اُن کا روزانہ گھروں سے باہر نکلنا ہوتا تھا۔ ماہرین کے مطابق تحقیق میں شامل کی گئی ہر پانچ خواتین میں سے ایک کو کینسر کا مرض تھا یا اس کی علامات واضح تھیں۔ تحقیقاتی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’فضائی آلودگی کے سبب 30 ماہ کے اندر ہی چھاتی میں سرطان کا وائرس بننا شروع ہوجاتا ہے‘۔ تحقیق میں شامل دوسرے گروپ کی ہرساتویں خاتون میں بیماری کے اثرات پائے گئے۔ پروفیسر مچل گلبرٹسون کا کہنا ہے کہ ’سینے کے سرطان کا مرض رات کو مسلسل دیر تک جاگنے یا ملازمت کرنے اور فضائی آلودگی سمیت دیگر وجوہات کی وجہ سے لاحق ہوسکتا ہے‘۔ وٹامن ڈی بریسٹ کینسر کی شدت میں کمی کے لیے معاون اُن کا کہنا تھا کہ خواتین بہت تیزی کے ساتھ چھاتی کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہورہی ہیں، ہماری تحقیق میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ اس موذی مرض کے پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ فضائی آلودگی اور گاڑیوں کا بڑھنا ہے۔ جرنل نیوسلوشن نامی سائنسی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ گاڑیوں کے دھوئیں سے کینسر کی نئی قسم بھی پیدا ہوئی جسے طبی ماہرین نے BRCA1 اور BRCA2کا نام دیا۔

The post فضائی آلودگی چھاتی کے بڑھتے سرطان کی وجہ قرار appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پیٹ کے بھاری پن سے نجات دلانے میں مددگار نسخے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بہت زیادہ کھالیا جائے تو پیٹ میں گرانی یا بوجھ محسوس ہونے لگتا ہے جو کہ کچھ اچھا نہیں لگتا۔ اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ لوگ اکثر زیادہ کھالیتے ہیں خصوصاً اس وقت جب کسی تقریب میں شریک ہوں، جس کے نتیجے میں پیٹ کا بھاری پن طبعیت پر بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس مسئلے کا حل بھی آپ کے کچن میں ہی موجود ہے۔

پیٹ کے درد سے نجات دلانے میں مددگار نسخے۔ دہی میں موجود پروبائیوٹک پیٹ کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دیتی ہے، خصوصاً بہت زیادہ کھانا کھالینے کے بعد۔ دہی میں موجود فائدہ مند بیکٹریا نقصان دہ بیکٹریا کو کم کرتا ہے جبکہ گیس اور ہیضے کو کنٹرول کرتا ہے۔ کیلے زیادہ نمکین غذا کھانے سے بلڈپریشر بڑھ گیا ہے؟ تو کیلے کا ایک لقمہ کھالیں، اس میں موجود پوٹاشیم زیادہ نمک والی غذا کے اثرات زائل کرتا ہے اور بلڈپریشر لیول مستحکم ہوتا ہے۔ سبز چائے ایک کپ سبز چائے فلیونوئڈز سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔ گریاں بہت زیادہ کھانے کی عادت امراض قلب کا خطرہ بڑھاتی ہے تو کچھ مقدار میں گریاں کھانا اس سے بچانے میں مددگار ہوتا ہے۔ بادام، اخروٹ، مونگ پھلی اور دیگر گریاں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، ان سچورٹیڈ فیٹس اور وٹامن ای سے بھرپور ہوتی ہیں جو کہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی اور خون کی شریانوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ انڈے انڈے صحت بخش غذائی اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں، ان میں پروٹین، وٹامن بی 12 اور ڈی، ریبوفلیوین اور فولیٹ جیسے اجزا موجود ہیں جو کہ امراض قلب کا خطرہ کم کرتے ہیں جو کہ بسیار خوری کے باعث لاحق ہوسکتے ہیں۔ سرکہ سلاد میں کچھ مقدار میں سرکے کو شامل کرنا بلڈشوگر لیول کی سطح کو معمول پر لاتا ہے، خصوصاً بہت زیادہ کھانے پر پیٹ کی گرانی کو بھی کم کرتی ہے، مگر سرکے کی مقدار کم ہونی چاہئے، زیادہ سرکہ بھی معدے کے لیے بھاری ثابت ہوسکتا ہے۔ پیٹ کے امراض سے بچنے کا آسان حل ادرک زیادہ کھانے پر گیس کے نتیجے میں پیٹ پھولتا ہے، ادرک غذائی نالی کے مسلز کو ریلیکس کرتی ہے، تو ادرک کی چائے پی لیں۔ مالٹے یہ مزیدار ترش پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتا ہے جو کہ میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور چربی ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ پانی زیادہ کھانے کے اثرات کو زائل کرنے کے یے پانی بھی ایک اچھا ذریعہ ہے، یہ نہ صرف کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ قبض سے بھی بچاتا ہے۔

The post پیٹ کے بھاری پن سے نجات دلانے میں مددگار نسخے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔