موٹاپے اور توند سے نجات کیلئے مزیدار مشروبات اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ جسمانی وزن میں کمی کے خواہشمند ہیں تو ورزش اور متوازن غذا کو معمول بنانے کے ساتھ ساتھ ایک مشروب کو آزما کر بھی دیکھیں جو کہ دنوں میں توند کی چربی گھلانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اور وہ ہے لیموں کا عرق۔ لیموں کا عرق جسم کی اندرونی صفائی میں مدد دیتا ہے جبکہ جسم میں پانی کی کمی نہیں ہونے دیتا اور نظام ہاضمہ کو بہتر بناتا ہے۔

موٹاپے سے نجات کے لیے کب اس مشروب کو پینا چاہئے؟ ایک گلاس لیموں پانی صبح نہار منہ، ایک گلاس چٹکی بھر نمک ملا کر ورزش کے دوران جبکہ ایک گلاس دوپہر اور رات کے کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے۔ یہ مشروب کیسے بنائیں؟ ایک لیموں اور ایک گلاس پانی لیں، پانی کو گرم کرلیں اور پھر لیموں نچوڑ کر عرق اس میں شامل کرکے اچھی طرح چمچ سے ہلالیں۔ دیگر مشروبات لیموں اور شہد : ایک کپ گرم پانی، ایک لیموں اور ایک چائے کا چمچ شہد لیں، لیموں کا عرق پانی میں شامل کریں اور اس کے بعد شہد کا اضافہ کرکے چمچ سے اچھی طرح ہلائیں، اس مشروب کو نہار منہ پی لیں۔ لیموں کی طرح شہد بھی جسمانی وزن میں کمی میں مدد دیتا ہے، نہار منہ شہد کو پینا جسمانی توانائی بڑھا دیتا ہے اور دن بھر متحرک رہنے میں مدد ملتی ہے، جتنا زیادہ جسمانی طور پر متحرک ہوں گے اتنا ہی جسمانی وزن بھی کم ہوگا۔ لیموں اور دارچینی: دار چینی نقصان دہ کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ لیموں کے فوائد تو اوپر درج ہوچکے ہیں، اسے بنانے کے لیے ایک گلاس پانی، ایک لیموں اور ایک چائے کا چمچ دار چینی کا سفوف لیں، اس سفوف کو پانی میں ڈال کر رات بھر کے لیے چھوڑ دیں، صبح اس پانی کو اتنا ابالیں کہ اس کی مقدار آدھی رہ جائے، پھر اسے ٹھنڈا کریں اور چھان کر اس مٰں لیموں کا عرق شامل کرکے پی لیں۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post موٹاپے اور توند سے نجات کیلئے مزیدار مشروبات اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پیشاب کی نالی میں سوزش سے نجات دلانے والے گھریلونسخے جانئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیشاب کی نالی میں سوزش کافی تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کافی لوگ ہچکچاتے بھی ہیں۔ اس سوزش یا یو ٹی آئی کی علامات واضح ہوتی ہیں بلکہ انہیں بیماری کے آغاز پہلے ہی پہچانا جاسکتا ہے۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی علامات ویسے تو خواتین میں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے مگر مردوں کو بھی اس کا سامنا ہوسکتا ہے۔

تاہم اس سے بچنا بہت آسان ہے اور چند گھریلو ٹوٹکے اس معاملے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ سیب کا سرکہ دو کھانے کے چمچ سیب کا سرکہ، ایک کھانے کا چمچ شہد، آدھے لیموں کا عرق اور ایک کپ پانی مکس کریں اور اسے پی لیں، اس مشروب کو روزانہ 2 بار اس وقت تک پینا جاری رکھیں جب تک کہ انفیکشن ختم نہیں ہوجاتا۔ زیادہ پانی پینا پانی زیادہ پینے کی عادت پیشاب کی نالی کی سوزش جیسے تکلیف دہ مرض کا خطرہ کم کردیتا ہے، خصوصاً خواتین کے لیے تو یہ عادت بہت ضروری ہے۔ میامی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق زیادہ پانی پینے سے مثانے میں اکھٹا ہونے والے بیکٹریا کو نکالنا آسان ہوجاتا ہے اور ان کا اجتماع نہیں ہوپاتا جو کہ اس مرض کا باعث بنتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بیکٹریا کو جمع ہونے سے روکا جائے۔ بیکنگ سوڈا بیکنگ سوڈا میں اکلائن ہوتا ہے جو کہ پیشاب میں تیزابیت کو متوازن کرتا ہے، اس مقصد کے لیے ایک کھانے کے چمچ بیکنگ سوڈا کو ایک گلاس پانی میں ملائیں اور پی لیں، جس حد تک ممکن ہو اس مشروب کا استعمال کریں۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی عام وجوہات دہی سادہ دہی لیں اور ہر کھانے کے بعد کچھ مقدار میں کھالیں، دہی نہ صرف مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ پیشاب کی نالی کے سوزش سے بھی تحفظ فراہم کرتا ہے۔ وٹامن سی لیموں، مالٹے، پپیتا، شملہ مرچ اور ترش پھلوں سمیت متعدد میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور یہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے علاج کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اگر اس سوزش کا سامنا ہے تو اس وقت تک ترش پھل کچھ مقدار میں روز کھائیں جب تک انفیکشن ختم نہیں ہوجاتا۔ سبز چائے ای کتحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایک کپ سبز چائے روزانہ پینے کی عادت

پیشاب کی نالی میں سوزش کا مقابلہ ہی نہیں کرتی بلکہ اس کے دوبارہ پلٹنے سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے، اگر اس مرض کا سامنا ہے تو صبح شام 2 کپ سبز چائے پینا عادت بنائیں۔ دھنیے کی چائے دھنیے کی 2 گڈیاں اور 4 کپ پانی لیں، دھنیے کو کاٹ کر پانی میں مکس کریں اور پھر اسے پندرہ منٹ تک ابالیں، اس کے بعد چھان کر پی لیں۔ اس چائے میں ورم کش خصوصیات ہوتی ہیں جو کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کو دور کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

لیموں کا عرق لیموں کا عرق روزانہ پینا نہ صرف ہر قسم کے انفیکشن کو ختم کرتا ہے بلکہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس جسم میں گردش کرنے والے مضر اجزا کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔ پیشاب کی نالی میں سوزش کی صورت میں آدھا کپ لیموں کا عرق اور ایک کپ گرم پانی کا لیں اور ان کو مکس کرکے صبح نہارمنہ پی لیں۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post پیشاب کی نالی میں سوزش سے نجات دلانے والے گھریلونسخے جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کیا اکثر غصہ طاری رہتا ہے؟ تو اس کی وجہ جان لیں

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) رات بھر میں صرف 2 گھنٹے نیند کی کمی ہی آپ کو مشتعل مزاج بنانے کے لیے کافی ہے۔ یہ انکشاف ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ امریکا کی آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں پہلی بار نیند کی کمی اور چڑچڑے پن کے درمیان براہ راست تعلق کو دریافت کیا گیا۔

ایسے شواہد پہلے ہی سامنے آچکے ہیں کہ نیند کی کمی ذہنی بے چینی اور اداسی کو بدترین بنادیتی ہے جبکہ خوشی اور جوش و خروش ختم کردیتی ہے۔ اس تحقیق میں سائنسدان نیند کی کمی اور غصے کے درمیان تعلق کی تصدیق کرنا چاہتے تھے۔ اس تحقیق کے دوران 42 رضاکاروں کی خدمات حاصل کی گئیں اور دیکھا گیا کہ نیند کی کمی ان کے مزاج پر کس طرح اثرانداز ہوتی ہے۔ رضاکاروں کے ایک گروپ کو معمول کے مطابق سونے کی اجازت تھی جبکہ دیگر کے نیند کا دورانیہ دو راتوں کے لیے 2 سے 4 گھنٹے تک کم کردیا گیا۔ تجربے سے پہلے اور بعد میں رضاکاروں سے مختلف آوازوں پر رائے بھی لی گئی۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ جن رضاکاروں کی نیند کا دورانیہ کم کیا گیا، ان میں غصہ زیادہ بڑھ گیا، اور وہ مختلف آوازوں میں زیادہ گرمی دکھانے لگے۔ محققین کے مطابق نیند کی کمی سے طاری ہونے والی تھکاوٹ غصے کے اظہار پر اثرانداز ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی وقت کے ساتھ ہر چیز میں ایسے لوگوں کا غصہ بڑھانے کا باعث بن جاتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف ایکسپیرمنٹل فزیولوجی میں شائع ہوئے۔

The post کیا اکثر غصہ طاری رہتا ہے؟ تو اس کی وجہ جان لیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

نہار منہ یہ پینا متعدد امراض سے نجات دلائے

چین(مانیٹرنگ ڈیسک) خالی پیٹ یا نہار منہ نیم پانی پینا صحت کے لیے کس حد تک فائدہ مند ہے؟ درحقیقت یہ چین اور برصغیر کی قدیم روایات کے مطابق دن کا آغاز گرم پانی سے کرنا نظام ہاضمہ کو حرکت میں لاتا ہے جبکہ اس کے دیگر فوائد بھی ہیں۔ اس حوالے سے کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ عام سی عادت صحت کے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

سادہ پانی یا ٹھنڈا: صحت کے لیے بہتر کیا؟ جسمانی وزن میں کمی ویسے تو صرف نیم گرم پانی پینا جسمانی وزن میں کمی نہیں لاتا مگر یہ اس عمل میں مدد ضرور دیتا ہے، دن کا آغاز نیم گرم پانی اور لیموں سے کرنا میٹابولزم کو تیز کرتا ہے جو کہ جسم کو دن بھر میں زیادہ کیلوریز جلانے میں مدد دیتا ہے، یہ پانی آنتوں کی صفائی بھی کرتا ہے جس سے پیٹ نہیں پھولتا۔ نتھوں کی صفائی نزلہ زکام تو بہت عام ہوتا ہے اور آپ اس سے نجات چاہتے ہیں تو نیم گرم پانی کو آزما کر دیکھیں۔ ایک تحقیق کے مطابق نیم گرم پانی نتھوں کی صفائی زیادہ تیزی سے کرتا ہے کیونکہ زیادہ درجہ ھرارت والا پانی بلغم کے سفر کی رفتار بڑھا دیتا ہے۔ دانتوں کے لیے فائدہ مند آپ کے دانت ٹھنڈے پانی کو چھوڑ کر نیم گرم پانی اپنانے پر شکراگزار ہوں گے، یہ پانی دانتوں کے لیے زیادہ بہتر ہوتا ہے جو کہ آسانی سے جذب بھی ہوجاتا ہے۔ ٹھنڈا پانی اکثر دانتوں پر جاکر لگتا ہے جو کہ حساسیت کی شکایت بڑھا سکتا ہے، تو نیم گرم یا سادہ پانی دانتوں کو خوش رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔ روزانہ 8 گلاس پانی پینا صحت کے لیے ضروری؟ نظام ہاضمہ کے لیے بہترین نیم گرم پانی آنتوں کی جانب جانے والی خون کی شریانوں کو کشادہ جبکہ دوران خون کو حرکت میں لاتا ہے، جس کے نتیجے میں نظام ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔ نہار منہ اس پانی کو پینا ہاضمے کی رفتار تیز کرتا ہے جبکہ یہ جسم میں پانی کی کمی بھی دور کرتا ہے۔ زہریلے مواد کا اخراج نیم گرم پانی

جسمانی درجہ حرارت بڑھا کر پسینے کے عمل کو حرکت میں لاتا ہے، جو کہ جسم سے زہریلے مواد کے اخراج کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔ جب نیم گرم پانی میں لیموں کو ملا کر پینا عادت بنالیا جائے تو یہ سیال جسم میں تیزابیت کو متوازن رکھتا ہے۔ گردشی نظام میں بہتری نیم گرم پانی پینا جسم میں خون کی گردش کے نظام کو بھی بہتر بناتا ہے جس سے بلڈ پریشر بہتر جبکہ خون کی شریانوں

کے امراض کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ قبض سے نجات قبض عام طو رپر آنتوں کی حرکت تھم جانے کا نتیجہ ہوتا ہے اور جسم میں پانی کی کمی اس کی بڑی وجہ ہے۔ اگر دن کا آغاز نیم گرم پانی سے کیا جائے تو آنتوں کی حرکت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے او قبض کا خطرہ بہت کم ہوجاتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post نہار منہ یہ پینا متعدد امراض سے نجات دلائے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سانس میں بو آنے کی وجہ کیا ہے؟ اس سے نجات کے نسخے جانئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سانس میں بو کسے پسند ہوسکتی ہے؟ یقیناً اس سے پوری شخصیت کا تاثر خراب ہوجاتا ہے۔ مگر یہ بو پیدا کیوں ہوتی ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟ بنیادی طور پر تمام غذائیں منہ کے اندر ٹکڑوں میں تبدیل ہوتی ہیں اور اگر آپ تیز بو والی غذائیں جیسے لہسن یا پیاز کھاتے ہیں تو دانتوں کی صفائی یا ماوتھ واش بھی ان کی بو کو عارضی طور پر ہی چھپا پاتے ہیں۔

اور وہ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک یہ غذائیں جسم سے گزر نہ جائیں۔ اگر روزانہ دانتوں کو برش نہ کیا جائے تو خوراک کے اجزاءمنہ میں باقی رہ جاتے ہیں، جس سے دانتوں کے درمیان، مسوڑھوں اور زبان پر جراثیموں کی تعداد بڑھنے لگتی ہے جو سانس میں بو کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جو درج ذیل ہیں۔ ڈی ہائیڈریشن دانتوں کی ناقص صفائی سے ہٹ کر جسم میں پانی کی کمی سانس میں بو کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ مایو کلینک کے مطابق مناسب مقدار میں پانی نہ پینا منہ میں بیکٹریا کی تعداد اور نشوونما بڑھاتا ہے،جس کا نتیجہ سانس میں بو کی شکل میں نکلتا ہے، مگر اس مسئلے کا حل بہت آسان ہے بس پانی زیادہ پینا شروع کردیں۔ کوئی سنگین مرض کولوراڈو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق سانس میں بو پیدا ہونا کچھ جان لیوا امراض کی بھی نشانی ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق بہت زیادہ بو جگر اور گردوں کے امراض کی علامت ہوسکتی ہے جبکہ یہ گردے فیل ہونے کی بھی نشانی ہوتی ہے۔ محققین کے مطابق اگر سانس کی بو بہت زیادہ ہو اور کافی دورانیے تک رہے تو آپ کو ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کرالینا چاہئے۔ بہت زیادہ ورزش کرنا ایلتھلیٹس کو نظام تنفس کے مسائل کا سامنا کافی زیادہ ہوتا ہے، ایک تحقیق کے مطابق گھر سے باہر ورزش کرنے والے افراد میں ہر 10 میں سے ایک کو دمہ اور خشک منہ کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق گھر سے باہر کی ہوا سانس میں بو کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ امراض قلب کا خطرہ ایک اور تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مسوڑوں اور دل کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے اور سانس میں بو پیدا ہونا اس کی ابتدائی انتباہی علامت ہوسکتی ہے۔ 5 منٹ میں سانس میں بو سے نجات دلانے والے ٹوٹکے۔ ٹونسل اسٹون یہ چھوٹے سے سفید

ذرات بیکٹریا، خوراک کے ذرات، مردہ خلیات اور ناک کے مواد سے مل کر بنتے ہیں، جو کہ ٹانسلز اور زبان کے پچھلے حصے میں پھنس جاتے ہیں، ویسے تو یہ نقصان دہ نہیں مگر سانس میں بو کا باعث ضرور بنتے ہیں، اکثر یہ خود ہی ختم ہوجاتے ہیں تاہم نمکین پانی سے غرارے کرکے بھی اس عمل کو تیز کیا جاسکتا ہے۔ معدے کا السر جب السر ہوتا ہے تو لوگوں کے خیال میں اس کی علامات

پیٹ میں شدید درد، کھانے میں مسئلہ اور سینے میں جلن ہے، مگر ایک عام علامت کو نظرانداز کردیتے ہیں اور وہ ہے سانس میں بو۔ معدے میں السر کا باعث بننے والا بیکٹریا منہ پر بھی اثرات مرتب کرکے سانس کو بدبو دار بناتا ہے۔ موٹاپا آپ سانس میں بو کی وجوہات میں موٹاپے کو بھی شامل کرسکتے ہیں، جی ہاں موٹاپا نہ صرف دیگر متعدد امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے بلکہ اس مسئلے

کا باعث بھی بنتا ہے۔ نقصان دہ بیکٹریا کی مقدار بڑھنا سانس میں بو کی ایک بڑی وجہ بیکٹریا کی مقدار میں منہ میں بڑھتا ہے اور اس کا حل دہی کی شکل میں موجود ہے۔ یہ عام چیز منہ میں موجود ان جراثیموں کا مقابلہ کرکے ان کی جگہ سانس دوست بیکٹریا کی مقدار بڑھاتی ہے، ایک تحقیق کے مطابق روزانہ کچھ مقدار میں دہی کھانا کچھ عرصے میں اس مسئلے کو حل کرسکتا ہے۔

The post سانس میں بو آنے کی وجہ کیا ہے؟ اس سے نجات کے نسخے جانئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔