بڑے دماغ کے بڑے فوائد سامنے آگئے

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور نیدر لینڈز کے ماہرین نے کہا ہے کہ بڑا انسانی دماغ کارکردگی اور یادداشت کے حساب سے دیگر کے مقابلے میں بہتر ہوتاہے۔ تفصیلات کے مطابق امریکا اور نیدر لینڈز کے ماہرین نے انسانی دماغ کے سائز اور اس کی کارکردگی سے متعلق تحقیق کی۔

جس میں 13 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا۔ تحقیق میں شامل ہونے والے تمام لوگوں کی ایم آر آئی اسکینگ کی گئی جس کے دوران کچھ لوگوں کے دماغوں کا سائز دیگر کے مقابلے میں بڑا نظر آیا جبکہ اسی دوران ماہرین نے 200 سال کا سب سے بڑا دماغ بھی دریافت کیا۔ دماغ کو دھوکہ دے کر شفایاب کرنے والا خطرناک زہر ماہرین کے مطابق بڑے دماغ والے افراد تعلیم سمیت دیگر میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا بہترین طریقے سے منواتے ہیں اور اُن کی یادداشت بھی دیگر کے مقابلے میں بہت بہتر ہوتی ہے۔ جرنل فزیکولوجیکل سائنس جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بڑے دماغ کے فوائد بھی بیان کیے گئے ہیں۔ پروفیسر گیدون کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چھوٹے سائز کے مقابلے میں بڑا دماغ زیادہ بہتر کارکردگی دیتا ہے۔ دماغ کو دھوکہ دے کر شفایاب کرنے والا خطرناک زہر نیدر لینڈز سے تعلق رکھنے والے پرفیسر فلپ کا کہنا تھا کہ ’قدرتی طور پر ہر انسان کے دماغ کا سائز علیحدہ علیحدہ ہے، مگر لوگ اس کو استعمال نہیں کرتے‘۔

The post بڑے دماغ کے بڑے فوائد سامنے آگئے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

چینی کمپنی کا ملازمین کو یومیہ 6 ہزار قدم چلنے کا ہدف ورنہ جرمانہ

چین (مانیٹرنگ ڈیسک) یوں تو پیدل چلنا صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور یہ انسانی جسم کو متعدد امراض سے بچانے میں بھی مددگار ہوتا ہے لیکن چین میں حال ہی میں پیدل چلنے کاہدف طے کرنا اور اسے پورا نہ کرنے پر جرمانہ عائد کرنے کا دلچسپ واقعہ سامنے آیا۔ چین کی ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی نے ملازمین کو ورزش کرنے پر آمادہ کرتے ہوئے ماہانہ ہدف طے کیا ہے جس کے حوالے سے

کمپنی کے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ ان کا ماہانہ ہدف ایک لاکھ 80 ہزار قدم چلنا ہے۔ ملازمین نے بتایا کہ اگر وہ یہ ہدف پورا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو انہیں ہر نامکمل قدم کے بدلے میں اعشاریہ صفر ایک (0.01) یو آن جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ چین میں روزانہ طے شدہ قدم چلنا ایک مشکل امر بنتا جارہا ہے، صحت کے حوالے سے بعض بیمہ کمپنیاں اپنے صارفین کی روزمرہ واک کی نگرانی کے لیے مختلف ایپس کا استعمال کرتی ہیں اور اہداف پورا کرنے پر مستقبل میں ڈسکاؤنٹ کی پیش کش بھی کرتی ہیں۔ اسی طرح کچھ اسکول اپنے طالب علموں کی روزمرہ ورزش کے لیے روزانہ ان کے موبائل فونز پر پیڈومیٹر ایپس چیک کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ نجی کمپنیاں بھی اپنے ملازمین کو ماہانہ ایک طے شدہ قدم چلنے کا ہدف طے کرتی ہیں لیکن حال ہی میں سامنے والی اس خبر نے تہلکہ مچا دیا ہے کہ ایک کمپنی اپنے ملازمین کو طے شدہ ہدف پورا نہ کرنے پر جرمانہ بھی عائد کر رہی ہے۔ چین کے اخبار ’ انفارمیشن ٹائمز ‘ کی رپورٹ کے مطابق ملک کے گوانگ ژوا کے جنوبی شہر میں واقع نامعلوم رئیل اسٹیٹ کمپنی نے اپنے ملازمین کو کم از کم ایک لاکھ 80 ہزار قدم ماہانہ چلنے کا ہدف دیا ہے۔ اس کمپنی کے قوانین کے تحت مذکورہ قدم چلنے کا ہدف پورا کرنے پر صحت مند ہونے کے علاوہ کوئی انعام نہیں ملےگا لیکن اگر ملازمین یہ ٹارگٹ پورا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ہر قدم کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ کمپنی کی ایک ملازم زائیو سی نے انفارمیشن ٹائمز کو بتایا کہ وہ گزشتہ ماہ اس ہدف میں سے 10 ہزار قدم پورے نہیں کرسکی تھیں جس کی وجہ سے ان کی تنخواہ سے 100 یوآن جرمانے کے طور پر کاٹ لیے گئے تھے۔ یوں تو 100 یوآن صرف 15 ڈالرز کے برابر ہیں لیکن ملازمت پیشہ افراد کے لیے ہر ایک یوآن بھی اہمیت رکھتا ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ’یہ

بہت تکلیف دہ امر ہے کہ ماہانہ ایک لاکھ 80 ہزار قدم چلنا ہمارا ہدف ہے جو کہ 30 دن کے حساب سے 6 ہزار قدم یومیہ بنتے ہیں ‘۔ چہل قدمی موٹاپے سمیت کئی بیماریوں کا علاج ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر تو یہ اتنا زیادہ نہیں لگتا لیکن میرے جیسے افراد کے لیے یہ واقعی ایک سنگین مسئلہ ہے‘۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ کمپنی کے ہیومن ریسورسز ڈپارٹمنٹ میں کام کرتی ہیں اور اپنے دن کا زیادہ تر حصہ ڈیسک پر گزارتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ سب وے اسٹیشن ان کی کمپنی کے قریب قائم ہے جس کی وجہ سے یہ ہدف پورا کرنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب روزانہ چلنے والے قدم کی گنتی کی تو وہ محض ڈھائی ہزار بنے جو کہ یومیہ 6 ہزار قدم چلنے کے ہدف کے نصف سے بھی کم ہے۔ زائیو سی کا کہنا تھا کہ ’میں سمجھ سکتی ہوں کہ کمپنی چاہتی ہے کہ ان کے ملازمین زیادہ ورزش کریں اور صحت مند ہوں لیکن ہم کام کے اوقات میں نہیں چل سکتے اور ہمیں شام میں اوور ٹائم میں

بھی کام کرنا ہوتا ہے‘۔ روزانہ کچھ دیر چہل قدمی ہارٹ اٹیک سے بچائے ان کا کہنا تھا کہ گھر پہنچ کر رات کا کھانا کھانے تک 9 بج چکے ہوتے ہیں، جس کے بعد روزانہ چلنے کا ہدف ایک اضافی بوجھ ہے اور اس کی وجہ سے نیند کا شیڈول بھی متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کمپنی نے ایک لاکھ 80 ہزار قدم لینے کا ہدف طے کیا تو انہیں یہ چیز مثبت لگی لیکن یہ تو اس سوچ سے زیادہ مشکل ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ ہدف بہت مشکل ہے جس کے عوض کوئی انعام بھی نہیں ہے‘۔

The post چینی کمپنی کا ملازمین کو یومیہ 6 ہزار قدم چلنے کا ہدف ورنہ جرمانہ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پاکستان میں ایڈز کا مرض وبائی شکل اختیارکرگیا،صرف ایک صوبے میں مریضوں کی تعدادکہاں تک پہنچ گئی،اس سے کیسے بچا جاسکتاہے؟پڑھئے تفصیلات

اسلام آباد(سی پی پی) پاکستان سمیت دنیا بھر میں ورلڈ ایڈز ڈے منایا گیا، جس کا مقصد اس جان لیوا، لاعلاج مرض کے خلاف آگاہی پیدا کرنا تھا۔اس سال ایڈز ڈے کی تھیم’’اپنا اسٹیٹس جانیے‘‘ تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں 94 لاکھ افراد ایسے ہیں جو ایڈز کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن وہ خود اس بارے میں نہیں جانتے۔ پاکستان میں بھی ایڈز کا مرض وبائی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے اور اگر اس طرف جلد ہی توجہ نہ دی گئی تو اس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد تقریباً 5 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ صوبے کی مختلف جیلوں میں موجود 71 قیدیوں میں ایڈز کا مرض پایا گیا ہے، جبکہ کوئٹہ میں 10 خواجہ سراؤں میں بھی ایڈز کے وائرس کا انکشاف ہوا ہے، اس کے علاوہ صوبے میں ایڈز کے مریضوں میں 26 بچے بھی شامل ہیں۔بلوچستان ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت رجسٹرڈ مریضوں کی تعداد ایک ہزار 334 ہے۔ ایڈز کے مریضوں میں سے ایک ہزار 33 مریض کوئٹہ جبکہ 301 تربت میں رجسٹرڈ ہیں۔ان میں زیادہ تر منشیات کے عادی افراد شامل ہیں، جن میں سے 911 مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔صوبے کے دیگر اضلاع قلعہ سیف اللہ، ژوب، شیرانی، گوادر، لورالائی، لسبیلہ، نوشکی، قلعہ عبداللہ اور پشین میں بھی ایڈزکے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر صوبے میں ایڈز کے مریضوں میں 70 فیصد مرد اور 30 فیصد خواتین شامل ہیں۔ایڈز کنٹرول پروگرام بلوچستان کے صوبائی منیجر ڈاکٹر افضل زرکون نے میڈیا کو بتایا کہ بلوچستان میں ایڈز کی صورت حال تشویشناک ہے اور جیلوں میں بھی یہ مرض پھیل رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ کوئٹہ، گڈانی، مچھ اور تربت سمیت صوبے کی دیگر جیلوں میں 4 ہزار سے زائد مریضوں کا ایچ آئی وی ٹیسٹ کیا گیا، تو ان میں سے 71 قیدیوں میں ایڈز کا مرض پایا گیا، ان قیدیوں میں زیادہ تعداد گڈانی جیل کے شامل ہیں۔

ڈاکٹر افضل زرکون کے مطابق بلوچستان میں اب تک ایڈز کا شکار ہو کر مرنے والے مریضوں کی تعداد 231 ہے، اس کے علاوہ کوئٹہ میں خواجہ سراؤں کا بھی ایچ آئی وی ٹیسٹ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 10 خواجہ سراؤں میں ایڈز کے وائرس کا انکشاف ہوا ہے۔محکمہ صحت کے حکام کے مطابق کوئٹہ اور تربت میں ایڈز کے طبی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سال سے صوبے کے تمام اضلاع میں ایڈز کی اسکریننگ کی سہولت بھی مہیا کی گئی ہے جو پہلے دستیاب نہیں تھی۔

اب وہاں بھی روزانہ یا ہر دوسرے دن اسکریننگ کے لیے مریض آتے ہیں جبکہ صوبے کے اضلاع لورالائی، گوادر، ژوب اور لسبیلہ میں ایڈز مراکز کے قیام کا منصوبہ بھی زیرغور ہے۔ڈپٹی منیجر ایڈز کنٹرول پروگرام ڈاکٹر داد اچکزئی نے میڈیاکو بتایا کہ ایچ آئی وی وائرس کے تیزی سے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ لوگوں میں آگہی کی کمی اور بے احتیاطی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے عادی وہ افراد جو ایک انجکشن کا بار بار استعمال کرتے ہیں، خواجہ سرا یا خواتین سیکس ورکرز، جیلوں، کوئلہ کانوں اور سمندر میں کام کرنے والے اور گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں کام کرنے والے وہ مزدور، جو بہت عرصے سے گھروں سے باہر ہوتے ہیں۔

احتیاط نہ ہونے کی وجہ سے ان میں یہ مرض زیادہ پھیل رہا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق ایڈز کی علامات میں وزن میں تیزی سے کمی، ایک ماہ تک مسلسل بخار، شدید تھکن، ایک ماہ سے زیادہ متواتر خشک کھانسی اور دم گھٹنا، ایک ماہ سے زیادہ مسلسل جاری رہنے والے دست، بغلوں اور ٹانگوں کے جوڑ یا گلے میں غدود کی سوجن، یادداشت کی کمزوری، ڈپریشن اور دوسری اعصابی بیماریاں شامل ہیں۔ایڈز کنٹرول پروگرام کے حکام کے مطابق بلوچستان میں اب تک ایڈز کے 231 مریض انتقال کرچکے ہیں۔ایڈز سے بچنے کے لیے آگہی کے ساتھ ساتھ احتیاط کی بھی ضرورت ہے۔ خاص طور پر انتقالِ خون، ایک سرنج کے بار بار استعمال، غیر محتاط جنسی تعلقات اور حجامت اور جراحی کے متاثرہ آلات کے استعمال میں احتیاط ضرور کرنی چاہیے۔

The post پاکستان میں ایڈز کا مرض وبائی شکل اختیارکرگیا،صرف ایک صوبے میں مریضوں کی تعدادکہاں تک پہنچ گئی،اس سے کیسے بچا جاسکتاہے؟پڑھئے تفصیلات appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

سردیوں میں خشک جلد سے نجات پانے کے لئے آسان نسخہ

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موسمِ سرما کا آغاز ہوتے ہی جلد کی خشکی میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے بعض حالات میں جلد پر پپڑیاں سی بھی جمنے لگتی ہیں, خاص کر خشک جلد والوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کا نتیجہ مہنگے ترین موئسچرائزر، کریم اورلوشن کی صورت میں نکلتا ہے لیکن وہ بھی بعض حالات میں وقتی اثر انگیز ثابت ہوتے ہیں۔ ایسی صورتحال سے

نمٹنے کے لیے ہم آپ کو آسان سا نسخہ بتا رہے ہیں جس سے سردیوں میں بھی آپ کی جلد نرم و ملائم رہے گی اور آپ کی جیب پر غیر ضروری بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔ زیتون کے تیل کا استعمال منفرد اور اہم خصوصیات کے حامل زیتون کے تیل کے بیش بہا فائدے ہیں، اسے نہ صرف کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے بلکہ درد کی شکایت میں اس کا مساج بھی آرام پہنچاتا ہے۔ لیکن یہاں ہم نرم و ملائم اور چمکدار جلد کے حصول کے لیے اس تیل کے استعمال کے بارے میں بتا رہے ہیں، اس کے لیے آپ کو صرف ایک سے 2 چائے کے چمچ زیتون کے تیل کی ضرورت پڑے گی۔  نزلے زکام سے پاک سردیاں یقینی بنائیں قدرتی طریقوں سے رات میں سونے سے قبل ہلکے سے نیم گرم زیتون کے تیل سے روزانہ اپنے چہرے اور ہاتھ پیروں پر مساج کرنے کی عادت بنالیں آپ کی سردیاں جلد کی خشکی کے مسائل کے بغیر آرام سے گزر جائیں گی۔ اس کے علاوہ آپ نہانے سے قبل زیتون کے تیل سے کمر اور جسم کے دیگر حصوں کا مساج بھی کرسکتے ہیں جس سے نہ صرف خون کی روانی بہتر ہوگی بلکہ سردیوں میں جلد کی نمی بھی برقرار رہے گی۔ لیکن اگر آپ کی جلد زیادہ خشک ہے تو زیتون کے تیل میں تھوڑا سا کھوپرے کا تیل شامل کرلیں اور کچھ دن تک روزانہ اپنی جلد پر استعمال کریں اس سے جلد کو بہتر نمی ملے گی۔ موسم سرما میں چہرے کی جلد مرجھا سی جاتی ہے، اس مرجھائی ہوئی جلد کو ترو تازہ بنانے کے لیے تھوڑا سا زیتون کا تیل اور کافی کے بیجوں کا پاؤڈر لےکر پیسٹ بنالیں اور دائرے میں اس کا مساج کریں، اس سے نہ صرف مرجھائی ہوئی جلد نکھر جائے گی بلکہ جلد میں قدرتی نمی بھی بحال رہے گی۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post سردیوں میں خشک جلد سے نجات پانے کے لئے آسان نسخہ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کیا آپ 9 گھنٹے کام کرنے کے نقصانات جانتے ہیں؟

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر کے دفاتر میں عالمی اصولوں کے مطابق 8 گھنٹے کام کرنا ضروری ہے تاہم کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو اپنے ملازمین سے 8 کے بجائے 9 گھنٹے کام لیتے ہیں۔ کیا آپ کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے جو دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرتے ہیں۔

تو پھر دیکھیں کہ آپ کن خطرناک طبی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ایک امریکی ادارے کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد پر مندرجہ ذیل منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔ تنہائی محسوس کرنا دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرنے والے 66 فیصد افراد اپنی زندگی کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور تنہائی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کسی کی ضرورت محسوس کرنا تحقیق کے مطابق 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جس سے وہ اپنی زندگی کے مسائل کے بارے میں بات کر سکیں۔ جذبات سے دوری تحقیق میں بتایا گیا کہ 57 فیصد ملازمین 9 گھنٹے تک کام کرنے کے بعد جذباتی طور پر سرد ہوجاتے ہیں کیونکہ ان کے دن کا بیشتر حصہ ٹیکنالوجی کی اشیا کے ساتھ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان میں مختلف احساسات و جذبات جیسے خوشی، غم، دکھ، پرجوشی وغیرہ آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جاتی ہے۔ ہمیشہ کام کرنے کی خواہش ماہرین کے مطابق طویل عرصے تک 9 گھنٹے کام کرنے والے افراد کام کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ وہ زندگی میں کبھی ریٹائر نہیں ہونا چاہتے۔ ڈپریشن دفاتر میں 9 گھنٹے کام کرنے والے 42 فیصد ملازمین ہر وقت بلا سبب ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔ اگر آپ بھی اپنے دفتر میں 9 گھنٹے کام کرتے ہیں تو جان جائیں کہ آپ کام کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

The post کیا آپ 9 گھنٹے کام کرنے کے نقصانات جانتے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔