راتوں کی نیند اڑنے کی وجہ یہ عادت تو نہیں

کینیڈا(مانیٹرنگ ڈیسک) دن بھر میں صرف ایک گھنٹہ سوشل میڈیا کا استعمال ہی رات کی میٹھی نیند اڑانے کے لیے کافی ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ کینیڈا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ چلڈرنز ہاسپٹل ایسٹرن اونٹاریو ریسرچ انسٹیٹوٹ کی تحقیق میں جائزہ لیا گیا تھا کہ آج کے دور میں نوجوانوں کو سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کیوں ہوتا ہے۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کی جڑ سوشل میڈیا کا استعمال ہے۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ دن بھر میں ساٹح منٹ بھی واٹس ایپ، فیس بک یا کوئی اور سوشل میڈیا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں، انہیں اس سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں نیند کے مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ لوگ ان ایپس یا سائٹس کا استعمال کرتے ہیں، اتنی ہی ان کی نیند بھی کم ہوجاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ لڑکیاں سوشل میڈیا کی زیادہ عادی ہوتی ہیں اور ان میں ہی نیند کی کمی کا مسئلہ سب سے زیادہ سامنے آتا ہے، تاہم لڑکے بھی کچھ زیادہ پیچھے نہیں۔ یہ بھی پڑھیں : رات کو کتنی نیند صحت کے لیے ضروری ہے؟ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ سوشل میڈیا بہت تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے، بچے اور نوجوان اس نئی ٹیکنالوجی کو زیادہ استعمال کرتے ہیں اور ان میں ایسی بری عادات پیدا ہوجاتی ہیں جو وہ درمیانی عمر تک اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ نیند کی کمی کا مسئلہ نوجوانوں میں گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بہت زیادہ سے ابھر کر سامنے آیا ہے، جس کی وجہ ڈیوائسز کی مصنوعی روشنی، کیفین کا استعمال، سونے کا کوئی مخصوص وقت نہ ہونا اور نئی ٹیکنالوجی تک رسائی میں اضافہ وغیرہ اس کے بنیادی عوامل ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایکٹا پیڈیاٹرکس میں شائع ہوئے۔

The post راتوں کی نیند اڑنے کی وجہ یہ عادت تو نہیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

ہلدی کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ہلدی ایسی چیز ہے جو ہر پاکستانی پکوان کا لازمی حصہ ہے اور اس کا استعمال درمیانی عمر میں یاداشت کی کمزوری اور دماغی تنزلی سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ کیلیفورنیا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال درمیانی عمر میں یاداشت اور مزاج کو بہتر بنا کر الزائمر امراض کا خطرہ کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں ہلدی کے سپلیمنٹ کے یاداشت کی کارکردگی کا ایسے افراد میں جائزہ لیا گیا جو دماغی تنزلی سے محفوظ تھے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ طاقتور ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس خصوصیات کی بناءپر ہلدی الزائمر امراض کا خطرہ کم جبکہ ذہنی افعال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق ہلدی میں پائے جانے والا زرد رنگ کا مرکب یا curcumin ممکنہ طور پر دماغی ورم کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ الزائمر امراض اور ڈپریشن جیسی بیماری کا باعث بنتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران پچاس سے نوے سال کی عمر کے 40 افراد کو دیکھا گیا جنھیں یاداشت کی معمولی کمزوری کا سامنا تھا۔ ان افراد کو دو گروپس میں تقسیم کرکے ایک کو ادویات جبکہ دوسرے کو نوے ملی گرام curcumin اٹھارہ ماہ تک روزانہ دوبار استعمال کرائی گئی۔  نتائج سے معلوم ہوا کہ ہلدی کے جز کے استعمال سے لوگوں کی یاداشت اور توجہ کی صلاحیتیں ڈرامائی حد تک بہتر ہوئیں جبکہ ادویات استعمال کرنے والے گروپ کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہلدی کے جز کو استعمال کرنے والے افراد کے مزاج پر بھی خوشگوار اثرات مرتب ہوئے جبکہ دماغ کے یاداشت اور جذباتی افعال کنٹرول کرنے والے حصوں میں نقصان دہ سرگرمیاں کم ہوگئیں۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے امریکن جرنل Geriatric Psychiatry میں شائع ہوئے۔

The post ہلدی کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پاکستان درآمد کی جانے والی چائے میں مضر صحت کیمیکل Aflotoxin کمپائونڈ اور دیگر مضر کیمیکل موجود ہونے کا انکشاف

کراچی(این این آئی)کینیا سے پاکستان درآمد کی جانے والی چائے میں مضر صحت کیمیکل Aflotoxin کمپائونڈ اور دیگر مضر کیمیکل موجود ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے وزیر تجارت پرویز ملک کو ایک خط تحریر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کینیا سے آنے والی چائے انسانی صحت کے لیے مضر ہے اور اس میں ایفلو ٹاکسن نامی ایک انتہائی مضر صحت جز شامل ہے جو کہ جسمانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوتا ہے۔رائس ایکسپورٹرز ایسوی ایشن کے چیئرمین سمیع اللہ نعیم نے کہا ہے کہ کینیا سے آنے والی چائے میں مضر صحت اجزا کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ ہو نی چاہیے ساتھ ہی گوداموں میں ذخیرہ کی گئی کینیا کی چائے کی بھی جانچ پڑتال کی جائے۔دوسری جانب پاکستانی ٹی ایسوی ایشن کے وائس چیئرمین محمد آصف رحمان نے اس الزام کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں ہے۔آصف رحمان نے کہا کہ چائے کی اسمگلنگ روکی جائے جس سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، ایک پاکستانی سالانہ ایک کلو گرام چائے پی جاتا ہے، پاکستانی سالانہ 50 ملین ڈالر سے زیادہ مالیت کی چائے درآمد کرتے ہیں اور نصف کے قریب اسمگل ہوتی ہے جس سے ملکی آمدنی میں کمی واقع ہورہی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سال ملک میں 51 کروڑ ڈالر مالیت کی 17 ملین کلو گرام چائے درآمد کی گئی جبکہ 10 ملین کلو گرام چائے افغان ٹرانزٹ اور دیگر ذرائع سے اسمگل کی گئی۔ پاکستان میں سالانہ 80 کروڑ ڈالر کی چائے درآمد کی جاتی ہے۔ماہرین صحت کے مطابق ایفلو ٹاکسن نامی جز انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور اس کا مسلسل استعمال کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

The post اس ملک سے آنیوالی چائے کی پتی ہر گز استعمال نہ کریں کیونکہ۔۔پاکستانی ماہرین نے انتباہ جاری کر دیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

چاولوں میں زہر کی موجودگی کے بارے میں جانتے ہیں؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کیا یہ معلوم ہے کہ آپ کے چاولوں میں سنکھیا یا آرسینک ہوتا ہے؟ جی ہاں سنکھیا زہر، جو پھیپھڑوں، جلد اور مثانے کے کینسر سمیت متعدد امراض کا باعث بن سکتا ہے۔ مگر ہاں سنکھیا کی موجودگی کے باوجود آپ چاول کھا سکتے ہیں۔ مگر اس کا مطلب جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سنکھیا ہوتا کیا ہے۔ سنکھیا قدرتی طور پر زمین، ہوا اور پانی میں پایا جاتا ہے۔

تو یہ حقیقت کہ چاول میں بھی وہ موجود ہے، خطرے کی گھنٹی نہیں بجاتا، مگر آرسینک انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے جیسے کان کنی یا مخصوص کیڑے مار ادویات کا استعمال وغیرہ۔ اور یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سنکھیا دو قسم کے ہوتے ہیں، نامیاتی اور غیر نامیاتی، یہ دوسری قسم ہی خطرناک ہوتی ہے جو صحت پر مضر اثرات مرتب کرتی ہے جو چاولوں میں بھی پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کا معتدل استعمال ہی بہتر ہوتا ہے۔ سنکھیا کسی غذا میں اس وقت شامل ہوتا ہے جب پودا اگنے کے دوران یہ اس میں جذب ہوجاتا ہے، کچھ پودے یہ عنصر زیادہ جذب کرتے ہیں جن میں چاول یا دھان کا پودا قابل ذکر ہے۔ تو چاول کی کتنی مقدار کا استعمال صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا؟ تو اس کے لیے خود شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے چاول کے اوپر دیگر اجناس کو شامل کردینا قدرتی طور پر سنکھیا کی مقدار کم کردیتا ہے جیسا کہ دال۔ ایک تحقیق کے مطابق بھورے چاولوں میں سنکھیا کی مقدار سفید چاولوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ اس کی بھوسی ہے جو سفید چاول میں نکال دی جاتی ہے۔ مگر ایک آسان طریقے سے آپ چاول پکاتے ہوئے بھی سنکھیا کی کافی مقدار کو نکال سکتے ہیں۔ یعنی چاول کو بہت زیادہ پانی میں پکانا اس قدرتی زہر کی مقدار 60 فیصد تک کم کردیتا ہے، اس طرح پکانے سے پہلے چاولوں کو دھونا بھی سنکھیا کو کم کرتا ہے۔ تو چاول سے لطف اندوز ہوں، بس معتدل مقدار میں کھائیں اور بہت زیادہ پانی میں پکا کر سنکھیا کے خطرے سے خود کو بچائیں۔

The post چاولوں میں زہر کی موجودگی کے بارے میں جانتے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/health

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی تعلیمات میں پانی بیٹھ کر چند گھونٹ میں پینے کی ہدایات ملتی ہیں جبکہ کھڑے ہوکر پانی پینے سے روکا جاتا ہے بلکہ اکثر اس پر لوگوں کی جانب سے ٹوکا بھی جاتا ہے، مگر کیا یہ عادت کسی قسم کے نقصان کا باعث بنتی ہے؟ طبی سائنس میں تو اس حوالے سے کوئی واضح جواب موجود نہیں یا اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی مگر آیورویدک طریقہ علاج میں اس عادت کو صحت کے لیے ضرور نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔

اس طریقہ علاج کے ماہرین جن نقصانات کا ذکر کرتے ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ مزید پڑھیں : زیادہ پانی پینا جسم پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے؟ نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرے جسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔ گردوں کے افعال پر اثرانداز گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے یا پیشاب کی نالی کی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ جوڑوں کے امراض کھڑے ہوکر پانی پینے کی عادت جسم میں سیال کے توازن کو بگاڑتی ہے اور اضافی سیال جوڑوں میں اکھٹاہوکر جوڑوں کے امراض کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں : سادہ پانی یا ٹھنڈا: صحت کے لیے بہتر کیا؟ معدے کی تیزابیت اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سے گریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔ نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post کھڑے ہوکر پانی پینا صحت کے لیے نقصان دہ؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔