بچوں میں دوڑنے کا رجحان کیسے پیدا کریں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) رننگ یا دوڑنا ہر عمر کے فرد بالخصوص بچوں کے لیے ایک بہت ہی زبردست کھیل ہے۔ دوڑنے سے بچوں کو موجود نہ صرف اضافی توانائی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کی یادداشت اور سیکھنے کے عمل میں بھی تیزی آتی ہے۔ یہ بہت ہی سستا کھیل ہے اور ہر انسان اس میں حصہ لے سکتا ہے۔ دوڑنا دل اور خون کی نالیوں کے لیے بھی کافی مفید ہے۔

جب بچوں کی بات آئے تو یہ خیال رکھیں کہ دوڑنے کو بورنگ نہیں بلکہ مزیدار بنانا ہے۔ آئیے ہم آپ کو چند تجاویز دیتے ہیں جس کی مدد سے آپ دوڑنے کو بچوں کے لیے ایک مزیدار کھیل بنا سکتے ہیں۔بچوں کے لیے مزیدار ریس سیریز مختلف کھیل کے کلبوں کے ساتھ مل کر بچوں کے لیے مخصوص ریس سیریز کا انعقاد کیا جائے۔ ہر ہفتے بچوں کے لیے 100 میٹر یا ایک میل تک ریسنگ ٹریک کا اہتمام کیا جائے۔ ہر ہفتے ریس سے قبل کسی گیسٹ اسپیکر کو مدعو کیا جائے اور ریس سے قبل وارم اپ کا اہتمام کیا جانا چاہیے تاکہ بچوں میں کھیل کود کے ساتھ صحت کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوسکے۔ ریس کے دوران یہ بھی خیال رکھیں کہ بچوں کو ان کی عمر کے مطابق کم اور زیادہ فاصلے والے ریسنگ ٹریک پر دوڑایا جائے اور ہر بچے کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ کلب کا حصہ بنیں بچوں کو دوڑنے کی طرف مائل کرنے کے لیے مقامی سطح پر کلب تشکیل دیے جائیں۔ کلب کی جانب سے ایسے پروگرامز کا انعقاد کیا جائے جہاں بچوں کو اپنے اہداف بنانے اور اپنی صلاحیت کے مطابق انہیں حاصل کرنے کے بارے میں تعلیم دی جائے۔ ساتھ ساتھ اہداف کے حصول کے لیے ان کی مختلف طریقوں سے حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔ اس طرح کے پروگرامز بچوں کو متحرک کرنے کے ساتھ یہ بھی سکھائیں گے کہ کس طرح کم وقت اور آسان اقدامات سے بڑے بڑے مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ ان پروگراموں میں بچوں کے ساتھ اگر ان کے والدین بھی شریک ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔ اپنے بچوں کو دیگر بچوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے مل جل کر اور تعاون کے ساتھ کھیل کود میں حصہ لینے کی تلقین کریں۔ اپنے بچوں کے ساتھ دوڑ لگائیے آپ کو دیکھ کر آپ کے بچے میں بھی دوڑنے کی خواہش اور طلب پیدا ہوگی لہٰذا کوشش کیجیے کہ بچوں کے ساتھ دوڑ لگانے کے منصوبے بنائیں۔ دوڑنے سے بچوں کو جسمانی و ذہنی فائدے حاصل ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسا کھیل ہے جس سے وہ نہ صرف اپنے بچپن میں بلکہ اپنی بالغ زندگی میں داخل ہونے کے بعد بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا بچوں کو ریس ٹریک پر لائیں اور دوڑنے کے لیے حوصلہ افزائی کیجیے۔

The post بچوں میں دوڑنے کا رجحان کیسے پیدا کریں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پاکستانی سائنسدان کا پانی سے آرسینک ختم کرنے والا دنیا کا سستا فلٹر تیار کرلیا

فیصل آباد (این این آئی)فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ایک سائنسدان نے پانی میں شامل انہتائی خطرناک مرکب آرسینک کو پانی سے الگ کرنے کیلئے دنیا کا سستا ترین فلٹر تیار کرنیکا دعویٰ کیا ہے۔فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے ڈاکٹر نبیل نیازی نے تربوز کے چھلکے کی مدد سے پانی سے آرسینک کو الگ کرنے کے لیے دنیا کا کم قیمت ترین فلٹر تیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

آرسینک ایسا زہر ہے جو قدرتی طور پر زیر زمین پانی میں موجود ہے، اس پانی کے استعمال سے پیٹ کے امراض،گردوں اور جگر کی بیماریوں سے ہر سال 43 ہزار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔آرسینک کو پانی سے الگ کرنے والے دستیاب طریقوں پر ہر چار ماہ بعد 20 سے 25 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے تاہم ڈاکٹر نبیل خان نیازی نے تربوز کے چھلکے سے صرف 5 ہزار روپے میں 8 ماہ کے لیے قابل استعمال ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے۔ڈاکٹر نبیل کے مطابق واٹر میلن کا چھلکا مفت میں دستیاب ہے، ہم نے اس کو پیسا اور زینٹھیٹ نامی ٹیکنالوجی کے ذریعے اس میں تھوڑی سی ترمیم کی، اس کا فائدہ یہ ہوا کہ یہ نا تو پانی میں حل ہو گا اور نا ہی خراب ہو گا، اسے لیبارٹری میں ٹیسٹ کیا کہ یہ آرسینک کو نکالتا ہے یا نہیں تو ہمیں بڑے اچھے رزلٹ ملے، تقریبا 95 سے 98 فیصد آرسینک پانی سے ختم ہو گیا۔ڈاکٹر نبیل نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی میں بجلی کا استعمال نہیں ہے، اس فلٹر سے ملک کے پسماندہ علاقوں میں غریب آبادی کیلئے آرسینک سے پاک پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔فیصل آباد یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا ہے کہ تھوڑے سے فنڈز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں یہ ٹیکنالوجی انتہائی کم قیمت میں پہنچائی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق ملک میں پانی کو آرسینک سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ اس ٹیکنالوجی کو آرسینک کے مسائل سے دوچار دوسرے ملکوں کو فروخت کر کے پاکستان زرمبادلہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔

The post پاکستانی سائنسدان کا پانی سے آرسینک ختم کرنے والا دنیا کا سستا فلٹر تیار کرلیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

گردوں میں خطرناک انفیکشن کی علامات

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) انسانی جسم میں گردوں کا بنیادی کام کچرے اور خون میں اضافی پانی کی صفائی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ عضو پیشاب کی نالی سے جڑا ہوتا ہے جو کچرے کو خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔ عام طور پر مثانے یا پیشاب کی نالی میں بیکٹریا کے نتیجے میں سوزش ہوتی ہے جس کا علاج نہ ہو تو وہ گردوں کے انفیکشن میں تبدیل ہوجاتی ہے، جس سے گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یا دوران خون کے ذریعے پھیل کر جان لیوا انفیکشن کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق گردوں میں انفیکشن کا مرض آج کل بہت تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ گردوں کے امراض کی 9 نشانیاں وجوہات جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ گردوں میں انفیکشن عام طور پر مثانے میں انفیکشن سے ہوتی ہے اور یہ بیکٹریا ای کولی کے باعث ہوتا ہے مگر کچھ اور بیکٹریا بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔ یہ مرض خواتین اور مردوں دونوں کو لاحق ہوسکتا ہے تاہم خواتین میں اس کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح گردوں میں پتھری یا پیشاب میں رکاوٹ بننے والی کوئی وجہ بھی اس کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ گردے فیل ہونے کی یہ علامات جانتے ہیں؟ علامات زیادہ پیشاب آنا گردوں میں انفیکشن کی ابتدائی علامت عام طور پر معمول سے زیادہ ٹوائلٹ کے چکر لگانے کی شکل میں سامنے آتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں مثانے کو خارج زیادہ ہوتی ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے پیشاب کے اخراج کا سہارا لیتا ہے۔ پیشاب میں خون آنا اکثر گردوں میں انفیکشن ایسے بیکٹریا سے ہوتا ہے جو پیشاب کی نالی سے سفر کرکے مثانے اور پھر گردوں میں پہنچتے ہیں، جب جسم اس انفیکشن کے خلاف مزاحمت کرتا ہے تو خون کے سرخ خلیات پیشاب کے راستے خارج ہونے لگتے ہیں۔ کمر درد گردے اگر انفیکشن سے متاثر ہو تو سوجن کا شکار ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کمردرد کی شکایت ہوتی ہے۔

کیونکہ وہ کمر کے بہت قریت ہوتے ہیں، یہ تیز درد کمر کے نچلے حصے میں محسوس ہوتا ہے۔ پیشاب کرتے ہوئے تکلیف چونکہ گردوں میں انفیکشن پیشاب کی نالی میں سوزش کی ایک قسم ہوتی ہے تو اس کا اثر مثانے کے نظام پر بھی ہوتا ہے۔ یہ بیکٹریا پیشاب کی نالی کے ٹشو اور اعصاب کو بھی متاثر کرتاہ ے جس کے باعث پیشاب کرتے ہوئے تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

پیشاب میں جھاگ گردوں میں انفیکشن کے نتیجے میں پیشاب جھاگ دار ہوسکتا ہے، طبی ماہرین کے مطابق اس انفیکش سے لڑنے کے لیے جسم خون کے سفید خلیات کو بھیجتا ہے، جو کہ پیشاب میں جھاگ کی شکل میں نظر آتا ہے۔ بدبو دار پیشاب پیشاب میں انتہائی ناگوار بو محسوس ہو تو یہ بھی گردوں میں انفیکشن کی ایک علامت ہوسکتی ہے، درحقیقت یہ بیکٹریا کا اجتماع ہوتا ہے تاہم اس کا فیصلہ ڈاکٹر پر چھوڑ دیں۔

کیونکہ ایسا جسم میں پانی کی کمی کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے۔ پیپ آنا سنگین معاملات میں پیشاب سے پیپ کا اخراج بھی ہوسکتا ہے۔ سر چکرانا اگر گردوں میں انفیکشن کا علاج نہ کرایا جائے تو یہ دوران خون تک پھیل جاتا ہے جس کے نتیجے میں پورا جسم متاثر ہوسکتا ہے، اس انفیکشن کا باعث بننے والے بیکٹریا سے ہونے والا ورم خون کی شریانوں کو پھیلا سکتا ہے جس سے بلڈ پریشر کی سطح اچانک کم ہوتی ہے اور سرچکرانے لگتا ہے۔ بخار گردوں میں انفیکشن کے نتیجے میں اکثر جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے۔

یعنی بخار جیسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے، یہ بنیادی طور پر جسم کا ردعمل ہوتا ہے۔  پیشاب کی نالی میں سوزش کی عام وجوہات بچاﺅ کے لیے کیا کریں؟ زیادہ مقدار میں پانی پینا عادت بنالیں تاکہ پیشاب کے راستے بیکٹریا خارج ہوجائیں۔ زیادہ آرام کریں۔ پیشاب نہ روکیں۔ کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟ اگر اوپر دی گئی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں کیونکہ گردوں میں شدید انفیکشن جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے، خصوصاً اگر پیشاب میں خون آئے یا قے کرتے ہوئے نکلنے والے مواد میں خون کی آمیزش نظر آئے۔

The post گردوں میں خطرناک انفیکشن کی علامات appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں

نیویارک(سی ایم لنکس)سبزیاں، مچھلی، گریاں اور زیتون کے تیل وغیرہ پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ سبزیاں، مچھلی اور زیتون کے تیل پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال ایسے نقصان دہ اجزاء کو دماغ جمع ہونے کا خطرہ 15 فیصد تک کم کردیتا ہے جو جان لیوا الزائمر امراض کا باعث بنتے ہیں۔

اس غذا کا 3 سال تک استعمال دماغی سرگرمیوں کو محفوظ بناتا ہے۔تحقیق کے مطابق طرز زندگی دماغی صحت پر اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً اوپر درج کی گئی غذا کی ورم کش خصوصیات دماغی شریانوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتی۔محققین کا کہنا تھا کہ اس غذا کے استعمال 11 سو افراد کو 12 سال سے زائد عرصے تک کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس سے الزائمر کے خطرے کو ساڑھے 3 سال تک ٹالا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ سبزیوں، مچھلی، گریوں اور زیتون کے تیل کی غذا پر ٹکے رہتے ہیں، ان کا دماغ لمبے عرصے تک صحت مند رہتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیورولوجی میں شائع ہوئے۔اس سے قبل کینیڈا کی میک ماسٹر یونیورسٹٰ کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ پھلوں، سبزیوں اور مچھلی پر مشتمل غذا کا زیادہ استعمال نہ صرف جسم کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ دماغ کو بھی تیز بناتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سبز سبزیوں، نٹس، مچھلی، پھل اور زیتون کے تیل کا زیادہ جبکہ سرخ گوشت کو متعدل استعمال دماغ کو تنزلی کا شکار نہیں ہونے دیتا یا یوں کہہ لیں کہ بھولنے کا مرض لاحق نہیں ہوتا۔اس تحقیق میں محققین نے 5 سال تک 40 ممالک میں 27 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 55 سال یا اس سے زائد تھی جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ درمیانی عمر میں ہم جو خوراک استعمال کرتے ہیں وہ دماغی افعال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ درمیانی عمر میں غذا اور دماغی تنزلی کے درمیان تعلق موجود ہے۔تحقیق کے مطابق سبزیوں، پھلوں اور مچھلی وغیرہ سے بھرپور غذا دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ کم کردیتا ہے جبکہ یاداشت بھی بڑھاپے میں جوانی کی طرح تازہ دم رہتی ہے۔

The post دماغ کو ہر عمر میں صحت مند رکھنے میں مددگار غذائیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

کم کھانا کھانے کے کیا فائدے ہیں؟ جدید طبی تحقیق میں حیران کن انکشاف

نیویارک (یو این پی)ایک نئی طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ خوراک میں حراروں کی مقدار کم استعمال کرنا غیرمتوقع طور پر لمبی عمر کا ذریعہ بنتا ہے اور بڑھاپے کو روکتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کو شامل کیا گیا ہے جو کم سے کم حرارے استعمال کرتے ہیں۔ ایسے افراد کے ہاں بڑھاپا دیر سے آتا اور بال جلدی سفید نہیں ہوتے۔

اس تحقیق میں 200 افراد کو شامل کیا گیا جو دو سال تک کم خوراک کا استعمال کرتے رہے۔ میڈیکل ٹیسٹوں کے نتائج سے پتا چلا کہ وزن کم ہونے سے بالوں میں سفیدی کی رفتار کم ہوئی۔ ان افراد نے اوسط نو کلو گرام وزن کم کیا تھا۔بلند فشار خون، شوگر اور الزھائمر کے شکار افراد کے ہاں بھی کم کھانے سے ان کی عمر میں اضافے کے اثرات ملے۔

The post کم کھانا کھانے کے کیا فائدے ہیں؟ جدید طبی تحقیق میں حیران کن انکشاف appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔