کم کھانا معدے کو سکڑنے پر مجبور کر دیتا ہے؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر آپ کم کھانا شروع کردیں تو کیا معدہ سکڑ جائے گا تاکہ کم غذا سے بھی تسلی ہوسکے؟ ہوسکتا ہے آپ نے یہ سنا ہو کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو سکیڑ دیتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ غذائی مقدار میں کمی کے نتیجے میں خوراک کی اشتہا کم ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ لچکدار معدہ سکڑنے لگتا ہے تاکہ کم غذا سے بھی بھر جائے۔

معدے کی گرمی دور کرنے میں مددگار ٹوٹکے اگر پڑھنے میں مضحکہ خیز لگ رہا ہے تو حقیقت میں یہ واقعی مضحکہ خیز ہی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یقیناً معدہ ربڑ جیسی خصوصیات رکھتا ہے اور اپنا سائز بدل سکتا ہے جو کہ زیادہ کھانے کی صورت می ناسے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اور قحط سالی کے دوران زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سکڑنے کے بعد عام مقدار میں کھانے کے بعد وہ دوبارہ معمول کی شکل می نآجاتا ہے اور ہاں وہ کسی صورت چھوٹا نہیں ہوسکتا چاہے آپ بہت کم ہی کھانا کیوں نہ شروع کردیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یعنی کوئی موٹا اور کوئی پتلا مگر سب کے معدے لگ بھگ ایک ہی حجم کے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق جسم اپنے افعال کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز کو ذخیرہ کرتا ہے چاہے غذا بہت کم ملے۔ معدے کا سائز ایک ہی ہوتا ہے چاہے وزن جو بھی ہو اگر کم کھانے سے معدہ سکڑ سکتا تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ زیادہ کھانے سے وہ پھیل جانا چاہئے، مگر ایسا ہوتا نہیں، طبی جریدے Gastroenterology میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ہمارا وزن جتنا بھی ہو، ہر ایک کا معدہ لگ بھگ یکساں حجم کا ہوتا ہے۔ اگر آپ کو اب بھی شبہ ہے تو تصور کریں کہ آپ کا جسم مناسب مقدار میں کیلوریز کے لیے ڈیزائن ہوا ہے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکے، یہاں تک اس وقت بھی جب کھانا دستیاب نہ ہو۔ پیٹ کا درد بڑھانے والی

غذائیں تو بہتر ہوگا کہ آپ یقین کرلیں کہ کم کھانے سے معدہ سکڑتا نہیں، درحقیقت انسان جب کم کھاتا ہے تو اسے بھوک کا احساس زیادہ ستانے لگتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ غذائی قلت کا شکار ہورہا ہے اور بھوک بڑھانے والے ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے تاکہ غذا کو سامنے دیکھ کر اس سے منہ موڑنا مشکل ہوجائے۔ اسی دوران جسم کا درجہ حرارت اور میٹابولک ریٹ سست ہوجاتا ہے تاکہ قیمتی توانائی کو بچایا جاسکے۔ کھانے کی مقدار میں

اچانک بہت زیادہ کمی کرنا نقصان دہ کیوں؟ طبی ماہرین کا تو کہنا ہے کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو تو نہیں سکیڑتا بلکہ یہ موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جب آپ معمول کی غذا پر واپس آتے ہیں تو جسم کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور انسان معمول سے زیاہد غذا کھانے لگتا ہے۔ اگر ڈائیٹنگ کے ذریعے جسمانی وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے غذائی مقدار میں بتدریج کمی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم اچانک دباﺅ کا شکار نہ ہوجائے۔

The post کم کھانا معدے کو سکڑنے پر مجبور کر دیتا ہے؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

خواتین اور مردوں کی انگلیاں مختلف کیوں ہوتی ہیں؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا آپ کو معلوم ہے کہ عام طور پر مردوں کی شہادت کی انگلی ان کی تیسری انگلی سے چھوٹی جبکہ خواتین میں شہادت کی انگلی تیسری انگلی (رنگ فنگر) سے بڑی ہوتی ہے؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ ایسا واقعی ہوتا ہے مگر اس کی وجہ کیا ہے؟

تو اس کا جواب ہمارے ہارمونز میں چھپا ہے۔ انگلیوں کے ناخنوں پر یہ سفید نشان کیوں ہوتے ہیں؟ جی ہاں واقعی کسی بچے کی پیدائش سے قبل ایسٹروجن اور ٹسٹوسیٹرون نامی ہارمونز جینز کو کنٹرول کرتے ہیں جو انگلی کی لمبائی کا تعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مردوں میں شہادت کی انگلی چھوٹی جبکہ خواتین میں اس سے الٹ ہوتی ہے۔ بنیادی طور پر انگلیوں کی لمبائی مختلف شخصی عادات سے جڑی ہوتی ہے جیسے جارحیت، موسیقی کی صلاحیت اور جنسی تبدیلی سے تعلق رکھتی ہے۔ اسی طرح یہ مختلف طبی مسائل جیسے آٹزم، ڈپریشن، ہارٹ اٹیک اور کینسر کا عندیہ بھی ہوسکتی ہیں۔ 5 امراض جن کی پیشگوئی ہاتھوں سے ممکن طبی ماہرین نے یہ راز 2011 میں دریافت کیا تھا کہ ہارمونز خواتین اور مردوں میں انگلیوں کی لمبائی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ اگر لڑکوں میں ٹسٹوسیٹرون نامی ہارمنز کی کمی ہو تو ان کی شہادت کی انگلی لمبی ہوتی ہے جبکہ ایسٹروجن کی کمی کی صورت میں رنگ فنگر کی لمبائی بڑھتی ہے۔ لڑکیوں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے اور ہارمونز میں کمی بیشی ان کی انگلیوں کی لمبائی کا تعین کرتی ہے۔ انگلیاں ہر وقت ٹھنڈی کیوں رہتی ہیں؟ اس تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہارمونز انسانی شخصیت پر اپنے اثرات پیدائش سے قبل ہی مرتب کرنے لگتے ہیں اور حمل کے تیسرے مہینے سے وہ اپنا کام کرنے لگتے ہیں۔

The post خواتین اور مردوں کی انگلیاں مختلف کیوں ہوتی ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

پر سکون نیند میں مددگار قدرتی مشروب

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)  ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں ایسے بالغ افراد موجود ہیں، جنہیں پر سکون نیند نہ آنے کی شکایت رہتی ہے۔ نیند آنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں سے ہمارا طرز زندگی بھی ایک ہے۔ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی ترقی کے باعث جہاں رات دیر گئے تک بالغ افراد موبائل اور کمپیوٹرز آلات میں مصروف رہتے ہیں، وہیں نوجوان اور کم عمر افراد میں بھی

انٹرنیٹ سرفنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ پڑھائی، نوکری، طرز زندگی اور انٹرنیٹ سرفنگ کی وجہ سے زیادہ تر لوگوں کو نیند کی کمی، نیند نہ آنے یا پھر پر سکون نیند آنے کی شکایت رہتی ہے۔ اگرچہ پر سکون نیند میں مدد دینے کے لیے کئی طرح کی قدرتی غذائیں دنیا میں موجود ہیں، تاہم چند ایسی عام قدرتی چیزیں بھی ہیں، جو ہر جگہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں اور ان کے استعمال سے نیند بھی اچھی آتی ہے۔ پانی پانی کا شمار قدرت کی سب سے انمول اور بہترین چیز میں ہوتا ہے، پانی نہ صرف کئی طرح کے جسمانی مسائل کو کم کرتا ہے، بلکہ اسے بہتر صحت کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال جہاں دن بھر کی تھکاوٹ کو کم کرتا ہے، وہیں وہ جسمانی اعضاء کو بھی نئی زندگی بخشتا ہے۔ سردیوں میں زیادہ تر افراد کم پانی پیتے ہیں، جس وجہ سے انہیں نیند نہ آنے سمیت کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پینے والے افراد پر سکون نیند کرتے ہیں۔ دودھ سونے سے قبل ایک گلاس گرم دودھ بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس میں بھی ٹرپٹوفان موجود ہوتا ہے، جس کی اہمیت اوپر درج کی جاچکی ہے۔ دودھ میں شامل قدرتی ٹرپٹو فان نامی اجزاء نہ صرف انسانی نشو نما اور صحت کے لیے اہم ہوتے ہیں، بلکہ یہ دماغ اور جسم کو پر سکون رکھ کر پر سکون نیند میں بھی مدد دیتے ہیں۔ بابونہ اور سبز چائے سبز چائے کو دماغ کی صحت اور تھکاوٹ کے لیے بہتر سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا ایک اور فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اگر اسے نیند سے ایک گھنٹہ قبل پیا جائے تو پر سکون نیند آتی ہے۔ اسی طرح بابونہ پودے کی چائے بھی پر سکون میں مدد گار ہوتی ہے، یہ ایک خاص قسم کی پھول نما جڑی بوٹی ہے، جس کے پتے سفید اور پیلے رنگ کے ہوتے ہیں۔ چیری کا جوس ماہرین کے مطابق اگرچہ

کئی دیگر قدرتی پھل اور ان سے تیار جوسز جہاں فرحت بخش احساس دیتے ہیں، وہیں وہ تھکاوٹ بھی دور کرتے ہیں، تاہم چیری کا جوس دیگر کے مقابلے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ ایک امریکی طبی تحقیق کے مطابق چیری کے جوس کا ایک گلاس پینا نیند میں مدد دینے والے ہارمون میلاٹونین کی سطح بڑھاتا ہے، اس جوس کے استعمال سے بے خوابی کی شکایت میں کمی آسکتی ہے۔ ملک شیک / ہلدی، زعفران اور خشک میوہ جات ملک شیک

اگرچہ پر سکون نیند اور نشو و نما کے لیے صرف دودھ بھی مدد دیتا ہے، تاہم اگر دودھ میں ہلدی، زعفران، بادام، اخروٹ اور دیگر خشک میوہ جات ملا کر استعمال کیے جائیں تو انسان کو پر سکون اور گہری نیند آتی ہے۔ ان مشروب کے علاوہ دیگر کئی قدرتی غذائیں اور پھل بھی بہتر اور پر سکون نیند میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post پر سکون نیند میں مددگار قدرتی مشروب appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

حکومت نے پارے والے طبی آلات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے صحت کے میدان میں ایک اور انقلابی قدم اٹھا لیا، پاکستان پارہ والے آلات پر پابندی لگانے والے ممالک میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے پارہ والے طبی آلات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، دنیا کے صرف چند ممالک میں

پارہ والے طبی آلات کے استعمال پر پابندی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت نے پارے پر پابندی کے لیے حکمتِ عملی تیار کر لی، وزیرِ صحت نے پارے پر پابندی کا فیصلہ ماہرینِ صحت کی سفارش پر کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مرکری والے آلات کے استعمال پر پابندی بہ تدریج لگائی جائے گی، اور 6 ماہ بعد مرکری والے طبی آلات پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ ذرائع نے کہا کہ پارہ والے تھرمامیٹر اور بی پی اپریٹس کے استعمال پر پابندی ہوگی، دانتوں میں بھرائی کے لیے پارے کے استعمال پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکری اور اس سے تیار شدہ طبی آلات نہ صرف صحت بلکہ ماحول کے لیے بھی دشمن ہیں، پارہ بچوں اور حاملہ خواتین کی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارتِ صحت مرکری پر پابندی سے متعلق صوبوں کو بھی ایک مراسلہ جلد ارسال کرے گی، جس میں صوبوں کو پابندی پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کی ہدایت کی جائے گی۔ طبی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرکری کے متبادل ذرائع والے طبی آلات اب مارکیٹ میں دستیاب ہیں۔ خیال رہے کہ ملک میں بچوں کے دانتوں میں پارہ کی بھرائی پر پہلے ہی پابندی عائد ہے۔ یاد رہے کہ دو دن قبل حکومت پاکستان نے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پینے والوں پر گناہ ٹیکس متعارف کرا دیا ہے، اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ کاربونیٹڈ ڈرنکس پر بھی گناہ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

The post حکومت نے پارے والے طبی آلات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

دوڑنا گھٹنوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک) جاگنگ کرنا یا بھاگنا ورزش کرنے اور جسم کو فعال رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ بعض طبی ماہرین کا خیال ہے کہ روزانہ بھاگنے کی عادت گھٹنوں کے لیے نقصان دہ ہے اور یہ گھٹنوں کی تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ حال ہی میں امریکی ماہرین نے

اس خیال کی حقیقت جاننے کے لیے ایک سروے کیا جس میں حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ اس تحقیق کے لیے ماہرین نے باقاعدگی سے جاگنگ کرنے والے 15 افراد کے خون اور گھٹنوں میں موجود سیال مادے کی جانچ کی۔ ماہرین نے یہ نمونے دو بار لیے۔ ایک اس وقت جب انہوں نے 30 منٹ تک جاگنگ کی اس کے فوری بعد ان کے جسمانی نمونے لیے گئے۔ دوسرے اس وقت جب وہ کافی دیر تک بیٹھے رہے اور انہوں نے کوئی جسمانی حرکت نہیں کی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ 30 منٹ جاگنگ کے بعد ان افراد کے گھٹنوں میں موجود سیال مادے کے مالیکیولز میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہوں گی جو گھٹنوں میں سوزش یا تکلیف کا سبب بن سکتی ہے۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا جس نے ماہرین کو بھی حیران کردیا۔ انہوں نے دیکھا کہ 30 منٹ کی جاگنگ کے بعد گھٹنوں کی تکلیف اور سوزش کا سبب بنے والے عوامل میں واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ ماہرین نے دیکھا کہ مستقل بیٹھے رہنے کے باعث گھٹنوں میں سوزش کا جو امکان تھا وہ بھاگنے دوڑنے کے بعد کم ہوگیا۔ تاہم ماہرین نے چھوٹے پیمانے پر کی گئی اس تحقیق کے نتائج کو حتمی قرار دینے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مصدقہ و حتمی نتائج کے لیے انہیں بڑے پیمانے پر، ہر عمر اور ہر عادات کے افراد کا تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں انہیں علم نہیں کہ مستقل دوڑنے والے افراد جیسے میراتھن کے کھلاڑیوں پر بھی یہی نتائج مرتب ہوتے ہیں یا نہیں، کیونکہ تحقیق میں کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا۔ ماہرین اس امر کے متعلق بھی اندھیرے میں ہیں کہ گھٹنوں کے مختلف امراض اور مسائل کا شکار افراد اس طریقے سے فوائد حاصل کر سکتے ہیں یا انہیں مزید نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

The post دوڑنا گھٹنوں کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔