امریکہ: خسرے کی وجہ سے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا

امریکہ کے شہر نیویارک میں خاص طور پر یہودی رہائشی آبادی کے علاقوں سے پھیلنے والی متعدی بیماری خسرے کی وجہ سے ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

نیو یارک کے بلدیہ مئیر بِل ڈی بلاسیو  نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ برکلین میں خسرہ الٹرا۔اورتھوڈوکس یہودی کمیونٹی کے رہائشی علاقوں ولئیمز برگ اور بارو پارک  سے پھیلا ہے اور اس کی روک تھام کے لئے ویکسین لگوانے کو ضروری قرار دے دیا گیا  ہے۔

انہوں نے کہا  ہے کہ ولئیمز برگ خسرے  کی پھیلاو  میں مرکز کی حیثیت رکھتا ہے اور اس پریشان کن صورتحال پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خسرے کی ویکسین  پہلے استعمال کی جا چکی ہے اور قابل بھروسہ اور موئثر دوا ہے لہٰذا اس ویکسین کو نہ لگوانے والے افراد  اور اسکولوں کو جرمانہ کیا جائے گا۔

ڈی بلاسیو نے صحت کے معاملے میں حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے والے بروکلین کے یشیوا نامی یہودی دینی اداروں کو عارضی طور پر بند کرنے کی وارننگ بھی دی ہے۔

نیویارک کے ہیلتھ کمیشنر ڈاکٹر اوکسیریس  باربوٹ  نے بھی کہا ہے کہ یہ متعدی بیماری ان محّلوں میں مقیم ویکسین مخالف گروپوں کی وجہ سے قابو میں نہیں آ رہی۔ یہ گروپ ویکسین کے بارے میں بے بنیاد سائنسی  معلومات پر مبنی اور خطرناک افواہیں پھیلا رہے ہیں۔

اطلاع کے مطابق موسم سرما میں خسرے کے پھیلاو کے بعد سے اب تک 285 افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں اور مریضوں کی اکثریت کا تعلق  انہی یہودی رہائشی علاقوں ولئیمز برگ اور بارو پارک سے  ہے۔

بیماری  کے کنٹرول مراکز کی طرف سے جاری کردہ بیان میں ملک بھر میں بھی 465 خسرے کے مریضوں کی نشاندہی  کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ نیویارک کے علاقے راک لینڈ میں خسرے کی ویکسین نہ لگوانے بچوں کا اسکول جانا ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

نسل پرستی پر مبنی پیغامات ممنوع ہونگے: فیس بک کا اعلان

سماجی رابطوں کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بُک کا کہنا ہے کہ اگلے ہفتے سے فیس بُک اور انسٹاگرام پر سفید فام قوم پسند اور علیحدگی پسند عناصر کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

فیس بُک نے عہد کیا ہے کہ وہ دہشت گرد  تنظیموں  کی جانب سے فیس بُک پرجاری  کیے جانے والے مواد کی شناخت کرنے اور اس پر پابندی لگانے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گا۔

فیس بک کے وہ صارفین جو ویب سائٹ پر قابل اعتراض الفاظ اور جملوں کی تلاش کر رہے ہوں انھیں فیس بک اُس تنظیم کی ویب سائٹ پر لے جائے گا جو انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کام کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد کی جانب سے حملوں کی لائیو ویڈیو فیس بُک پر چلانے کے بعد فیس بُک کو کافی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

استنبول کی آبادی نے بیشتر ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا

ترکی کے گنجان آباد شہر استنبول کی آبادی   ڈیڑھ کروڑ 67 لاکھ 724 افراد ہو گئی ہے  جو کہ یورپ کے بیشتر ممالک سے زیادہ ہے ۔

 ترک محکمہ شماریات اور اقوام  متحدہ  کے آبادی فنڈ  کے مطابق ، گزشتہ سال ترکی کی مجموعی آبادی  8 کروڑ 20 لاکھ   3  ہزار 882 افراد  پر مشتمل تھی جس کا 18 اعشاریہ 4 فیصد استنبول میں مقیم تھا۔

 گزشتہ 5 سالوں کے دوران استنبول کی آبادی  90 لاکھ 7 ہزار 257 افراد بڑھ چکی ہے  جس کی  اس وقت آبادی  ڈیڑھ کروڑ 67 ہزار 724 افراد ہے  جس نے  ساڑھے 11 ملین  کے ساتھ بیلجیئم،11اعشاریہ1 ملین کے ساتھ یونان ،  8 اعشاریہ 8 ملین کے ساتھ آسٹریا، ساڑھے 8 ملین کے ساتھ سویٹزر لینڈ اور 7 ملین آبادی کے ساتھ بلغاریہ کو  پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

موزمبیق اور زمبابوے میں" ایڈائی" کی تباہ کاریاں،127 افراد ہلاک

افریقی ممالک زمبابوے اور موزمبیق میں سمندری طوفان” ایڈائی” سے ہونے والی ہلاکتیں 127 تک پہنچ گئی ہیں۔

 ان میں 65 افراد زمبابوے میں اور 62 موزمبیق میں ہلاک ہوئے ہیں۔

 لاپتہ افراد کی تعداد بھی  درجنوں میں بتائی گئی ہے۔

 سمندری طوفان” ایڈائی” گزشتہ ہفتے کے اختتام پر پہلے موزمبیق سے ٹکرایا تھا اور بعد میں اِس کے ساتھ آنے والے تیز رفتار جھکڑوں اور شدید موسلا دھار بارش نے زمبابوے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

موزمبیق کی حکومت کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے ساتھ ساتھ امدادی بھی  سرگرمیاں جاری ہیں۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

انڈونیشیا :مون سون بارشوں نے تباہی مچا دی،درجنوں ہلاک و زخمی

مون سون   بارشوں کے باعث  انڈونیشیا میں اب تک 77 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہو چکےہیں۔

 انڈونیشیا  کے صوبے  پاپوا  میں دو روز سے جاری  بارشوں  سے سیلابی کیفیت پیدا ہو چکی ہے  جس کے باعث  متعدد  درخت جڑوں سے اکھڑ گئے اور مکانات کیچڑ تلے دب گئے۔

 بتایا گیا ہے کہ زیادہ ترک ہلاکتیں کیچڑ میں دبنے سے ہوئی ہیں ۔

متاثرہ علاقوں سے   افراد کو  محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ تاحال متعدد افراد لاپتہ ہیں۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu