پیرو میں 8 شدت کا زلزلہ

جنوبی امریکی ملک پیرو میں  8 شدت کا زلزلہ آیا ہے۔

امریکی محکمہ ارضیات کے مطابق، یہ  زلزلہ  لاگوناس   سے 80 کلومیٹر دور جنوب مشرق میں  زیر  زمین 115 کلومیٹر گہرائی میں آیا ۔

  البتہ  اس زلزلے سے کسی قسم کے  جانی یا مالی نقصان نہیں اطلاع نہیں ملی ۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

"ہواوے اور گوگل میں معاہدہ ختم "اینڈرائیڈ ایپس کی بندش کا امکان

امریکی انٹرنیٹ سرچ انجن” گوگل” نے چینی ٹیلی کام کمپنی” ہواوے” کے ساتھ اپنے رابطے ختم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔

 موبائل ٹیلی فونز میں استعمال ہونے والا ایک آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ گوگل ہی کی ملکیت ہے جبکہ  خود اینڈرائڈ نامی ادارے نے بھی چینی کمپنی سے تعلق ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

گوگل اور اینڈرائڈ نے یہ فیصلہ واشنگٹن حکومت کی جانب سے ہواوے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے کے بعد کیا ہے ۔

ٹرمپ انتظامیہ مختلف چینی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کو بھی ممنوع قرار دے چکی ہے جبکہ  ان کمپنیوں سے کاروباری روابط اب واشنگٹن کی اجازت سے ہی قائم کیے جا سکیں گے۔

البتہ  گوگل نے یہ رابطے مکمل طور پر منجمد کر دینے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

پاپوا نیو گینی میں 7٫2 شدت کا زلزلہ،عوام میں خوف و ہراس

جنوب مشرقی ایشیائی  ملک پاپوا نیو گنی میں 7.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

خبر  کے مطابق  زلزلے کا مرکز 33کلو میٹر شمال مغرب میں شہر بلولو تھا جب کہ امریکی ارضیاتی  سروے کے تحت  زلزلے کی گہرائی 127کلو میٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی۔

ابتدائی طور پر کسی نقصان کی اطلاع  نہیں ملی ہے  جبکہ زلزلے کے باعث سونامی  کا الارم  بھی نہیں دیا گیا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

5 سال سے کم عمر بچوں کےلیے زیادہ ٹی وی دیکھنا خطرناک ہے: ادارہ صحت

اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارہ برائے صحت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی    ہدایات گزشتہ روز   جاری کی گئیں۔

ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو ٹیلی وژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اس کا دورانیہ کسی بھی طرح ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق، شیر خوار یا بہت چھوٹے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنا وقت اسکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے اور یہ وقت پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے بھی جتنا کم ہو گا، اتنا ہی یہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو گا۔

مزید یہ کہ اگر دو سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن یا کسی کمپیوٹر اسکرین پر کوئی معیاری تعلیمی پروگرام دیکھیں، تو اول تو اس کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ والدین میں سے کسی نہ کسی کو اس وقت بچے کے ساتھ بیٹھا ہونا چاہیے تاکہ بچے کی بہتر سمجھ کے لیے اس بات کی وضاحت بھی کی جا سکے کہ وہ کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی ان ہدایات میں اس امر کی کھل کر وضاحت نہیں کی کہ ٹی وی یا کسی دوسری اسکرین کو بہت زیادہ دیکھنے سے کسی کم سن بچے کی صحت پر کیا کیا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم،  ادارے  نے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی کافی جسمانی مصروفیات اور ورزش کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لیے ہر روز کافی حد تک لمبی نیند کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

ماہرین نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی اور سستی ان میں موٹاپے کی وجہ بنتی ہے  جو کہ آج کل کے بچوں کے صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

لندن، پرانی اور ڈیزل گاڑیوں کو شہر کے مرکز میں جانا اب کے بعد بڑا مہنگا پڑے گا

ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنےو الی گاڑیاں لندن کے مرکزی علاقوں میں با معاوضہ داخل ہوسکیں گی۔

لندن بلدیہ نے ماحولیاتی آلودگی پیدا کرنے والی گاڑیوں کے شہری مرکز میں داخلے کا سدِ باب کرنے کے زیرِ مقصد “Ultra Low Emission Zone(ULEZ) ”  عمل درآمد کو شروع کیا ہے۔

اس کی رُو سے تعین کردہ گیسوں کے اخراج   کے معیار کے مطابق نہ ہونے والی گاڑیوں کو شہر کے ویسٹ منسٹر اور سٹی علاقوں  کو جانے کے لیے یومیہ ساڑھے 12 اسٹرلنگ کی ادائیگی کرنی پڑے گی۔

واضح رہے کہ لندن میں نجی گاڑیاں اسوقت دورانِ ہفتہ صبح 7 تا شام 6 بجے شہری مراکز کو جاتے وقت  ساڑھے 11 سٹرلنگ کی ادائیگی کرتی ہیں۔

ماحولیاتی آلودگی  کا سد باب کرنے کے زیر مقصد  اب کے بعد 2007 سے قبل کے ماڈلز کے موٹر سائیکلز، 2006 سے قبل کی  پیٹرول سے چلنے والی گاڑیاں اور 2015 سے قبل کی ڈیزل گاڑیوں پر ULEZ کا اطلاق ہو گا۔

اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو 160 پاؤنڈ کا جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے کہ بلدیہ لندن نے  اس عمل درآمد کی بدولت مضر گیسوں کے اخراج میں  2 برسوں کے اندر 45 فیصد تک گراوٹ لانے کا ہدف  مقرر کر رکھا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu