بھارت: سوائن فلو کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 605 تک پہنچ گئی

بھارت میں رواں سال کے آغاز سے لے کر اب تک سوائن فلو کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 605 تک پہنچ چکی ہے۔

ٹائمز آف انڈیا  کی، بھارت کی وزارت صحت کے حوالے سے، شائع کردہ خبر کے مطابق رواں سال کے دوران ملک بھر میں 19 ہزار 380 سے زائد مریضوں  میںH1N1 وائرس یعنی  سوائن فلو کی تشخیص کی گئی ہے۔

اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 مارچ سے 605 تک پہنچ گئی ہے۔

بیماری  کی سب  سے زیادہ شدت  صوبہ راجھستان میں دیکھنے میں آئی ہے جہاں 4 ہزار 551 افراد وائرس کا شکار ہوئے جن میں 162 کی موت واقع ہو گئی جبکہ صوبہ گجرات میں 3 ہزار 969 افراد میں سوائن فلو کی تشخیص کی گئی  جن میں سے 118 مریض ہلاک ہو گئے تھے۔

نئی دہلی اور اس کے اطراف میں 3 ہزار 362 مریضوں میں سوائن فلو کی تشخیص کی گئی جن میں سے 7 مریض ہلاک ہو گئے تھے۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

بین الاقوامی آٹوموبیل فیسٹیول شروع ہو گیا

بین الاقوامی آٹوموبیل فیسٹیول نے 89  ویں دفعہ اپنے دروازے شائقین کے لئے کھول دئیے ہیں۔

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں منعقدہ اس میلے میں کثیر تعداد میں فرمیں ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت گاڑی کی نمائش کر رہی ہیں۔

فیسٹیول میں نیو جنریشن الیکٹرک ماڈلوں ، کانسیپٹ ماڈلوں اور اسپورٹس ماڈلوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر دلچسپی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی جگہ لینے والی الیکٹرک گاڑیاں رواں سال کی ہر دلعزیز گاڑیاں بن گئی ہیں۔

گاڑیوں کی پیداوار میں ماحولیاتی آلودگی بھی آجرین کے پیش نظر ہونے کی وجہ سے موئثر فیول سسٹم کے استعمال  کو اہمیت دی جا  رہی ہے ۔

فیسٹیول ایک لاکھ 10 ہزار مربع میٹر کے احاطے میں منعقد کیا گیا ہے اور اس میں 180 سے زائد فرموں  کی گاڑیاں نمائش کے لئے پیش کی گئی ہیں۔

فیسٹیول 17 مارچ تک جاری رہے گا۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

چین میں زلزلہ،2 افراد ہلاک

چینی صوبہ سی چوان  میں   4 اعشاریہ 9 شدت کے زلزلے    کے باعث 2 افراد ہلاک ہو گئے۔

 چینی محکمہ آفات  کے مطابق، یہ زلزلہ زگونگ شہر کے قصبے  رانگ شین میں زیر زمین 5  کلومیٹر گہرائی میں آیا ۔

  اس زلزلے میں 2 افراد  ہلاک ہو گئے ۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

یوگنڈا نےموٹر کمپنیوں کی نیندیں اڑا ڈالیں،ہائی برڈ گاڑی بنا ڈالی

مشرقی افریقی ملک یوگنڈا  نے مقامی وسائل سے ہائی برڈ گاڑی تیار کر ڈالی  ہے ۔

 یہ گاڑی حکومت یوگنڈا اور ماکاریرے یونیورسٹی  کے اشتراک سے قائم   کیرا موٹرز کی کاوش ہے  جس کے تمام تجربات کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں۔

اس گاڑی کو  کیرا ایو ی ایس   کا نام دیا گیا ہے جو کہ سیڈان ماڈل ہے۔

اس گاڑی کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے  جو کہ اپنے منفرد ڈیزائن    سے توجہ حاصل کر رہی ہے۔

  متعلقہ موٹر کمپنی نے اب گاڑی کی سلسلہ وار تیاری کےلیے  جنجہ  صنعتی علاقے میں  کارخانہ   بنانےکےلیے  معاہدہ طے کرلیا ہے  جہاں 2 ہزار افراد   کو روزگار ملے گا ۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

بیماری یا درد میں اپنے پیاروں کا ہاتھ تھامیئے اُن کی تکلیف کم کیجیئے

درد اور بیماری میں اپنے عزیز کا ہاتھ تھامنے سے تکلیف میں مبتلا افراد سے آپ کی ذہنی ہم آہنگی بڑھتی ہے اور اس سے درد کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

امریکی ماہرین کی جانب سے ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ بیماری یا تکلیف میں اپنے کسی پیارے کا ہاتھ تھامتے ہیں تو اس سے نہ صرف سانس اور دل کی دھڑکن بھی ایک جیسی ہوجاتی ہے بلکہ دونوں کی دماغی سرگرمیوں کی لہریں بھی ہم آہنگ ہوجاتی ہیں۔

 ماہرین نے اس حیرت انگیز بات کا انکشاف آن لائن تحقیقی جریدے ”پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز“میں شائع شدہ رپورٹ میں کیا ہے۔

یہ مطالعہ یونیورسٹی آف کولوراڈو بولڈر اور یونیورسٹی آف ہائیفا کے ماہرین نے مل کر انجام دیا ہےجس میں دیکھا گیا کہ صرف ہاتھ تھامنے کے عمل سے بھی دوسرے کے درد میں کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ دونوں کی دماغی امواج تک ایک ہی طرز پر کام کرنے لگتی ہیں۔

 ذہنی امواج کی یکسانیت سے تکلیف کم ہوتی جاتی ہے۔

اس مطالعے کے مرکزی مصنف پیول گولڈسٹائن کہتے ہیں کہ لوگ مریضوں سے بات چیت تو کرتے رہتے ہیں لیکن جسمانی طور پر انہیں لمس اور چھونے کا احساس فراہم نہیں کرتے اور ہم انسانوں پر اس کا مثبت اثر ہوتا ہے۔

 اس لیے ہماری تحقیق درد میں مبتلا دوسرے شخص کےلیے چھونے کے احساس کی اہمیت بیان کرتی ہے۔اس عمل میں ایک دماغ دوسرے دماغ سے ہم آہنگ ہوتا ہے جسے ’باہمی یکسانیت‘ کہا جاتا ہے۔

 مثلاً درد کے وقت اگر شوہر بیوی کا ہاتھ تھامے تو اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح اگر خاتون بچے کو جنم دے تو اس دوران مرد کا ہاتھ تھامنے سے بھی درد زہ بہت کم ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے 23 سے 32 سال کے جوڑوں پر اس کے تجربات کیے جو ایک سال تک جاری رہے۔ اس میں مرد اور عورت کو معمولی تکلیف دی گئی اور شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے ہاتھ تھامنے کا کہا گیا۔ اس دوران دیکھا گیا کہ ہاتھ تھامنے کے بعد ہی دونوں کے دماغ میں ”الفا می (Alpha Mu) کہلانے والی خاص سرگرمی ہم  آہنگ ہوتی چلی گئی اور درد محسوس کرنے والے کو اس کا کم احساس ہوا۔

 اسی طرح مرد اور عورتوں کو باری باری معمولی تکلیف سے گزارا گیا اور ان کے ہاتھ تھامنے اور نہ تھامنے کے دوران دماغی سرگرمیوں کو نوٹ کیا گیا۔اس تحقیق سے ظاہر ہوا کہ تکلیف کے موقع پر اگر آپ اپنے عزیز کا ہاتھ تھامتے ہیں تو اس سے درد کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ ماہرین نے اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا ہے کہ ہاتھ تھامنے سے مریض پر مزید حیرت انگیز اثرات مرتب ہوتے ہیں جن پر اگلے مرحلے میں تحقیق کی جائے گی۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu