اقوام متحدہ کے  ذیلی ادارہ برائے صحت کی تاریخ میں اپنی نوعیت کی پہلی    ہدایات گزشتہ روز   جاری کی گئیں۔

ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ایک سال سے کم عمر کے شیر خوار بچوں کو ٹیلی وژن بالکل نہیں دیکھنا چاہیے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے اس کا دورانیہ کسی بھی طرح ایک گھنٹہ روزانہ سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق، شیر خوار یا بہت چھوٹے بچوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنا وقت اسکرین کے سامنے نہیں گزارنا چاہیے اور یہ وقت پانچ سال کی عمر تک کے بچوں کے لیے بھی جتنا کم ہو گا، اتنا ہی یہ ان کی آنکھوں کے علاوہ ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی صحت کے لیے بہتر ہو گا۔

مزید یہ کہ اگر دو سال سے کم عمر کے بچوں کے والدین یہ چاہیں کہ ان کے بچے ٹیلی وژن یا کسی کمپیوٹر اسکرین پر کوئی معیاری تعلیمی پروگرام دیکھیں، تو اول تو اس کا دورانیہ بھی زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور دوسرے یہ کہ والدین میں سے کسی نہ کسی کو اس وقت بچے کے ساتھ بیٹھا ہونا چاہیے تاکہ بچے کی بہتر سمجھ کے لیے اس بات کی وضاحت بھی کی جا سکے کہ وہ کیا اور کیوں دیکھ رہا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اپنی ان ہدایات میں اس امر کی کھل کر وضاحت نہیں کی کہ ٹی وی یا کسی دوسری اسکرین کو بہت زیادہ دیکھنے سے کسی کم سن بچے کی صحت پر کیا کیا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں تاہم،  ادارے  نے ساتھ ہی یہ بات بھی زور دے کر کہی ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی کافی جسمانی مصروفیات اور ورزش کا خیال رکھنے کے علاوہ ان کے لیے ہر روز کافی حد تک لمبی نیند کو بھی یقینی بنانا چاہیے۔

ماہرین نے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ چھوٹے بچوں میں جسمانی بھاگ دوڑ کی کمی اور سستی ان میں موٹاپے کی وجہ بنتی ہے  جو کہ آج کل کے بچوں کے صحت اور زندگی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔

 

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

Leave a comment

Post here