انگلینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ مسکراتے ہوئے چہرے پر پڑنے والے گڑھے یا ڈِمپل اچھے لگتے ہیں؟ لیکن ایسا کیوں ہے کہ آخر بہت کم لوگوں کے چہروں پر یہ ڈِمپل مسکراہٹ کے دوران نظر آتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس حوالے سے سائنس خود بھی کوئی واضح رائے نہیں رکھتی بلکہ منقسم ہے۔ انسانی جِلد کے یہ دلچسپ حقائق جانتے ہیں۔

ویسے آپ نے کبھی غور کیا ہو تو واقف ہوں گے کہ اکثر چھوٹے بچوں کے گالوں یہ گڑھا مسکراتے ہوئے نظر آتا ہے تاہم جب وہ بڑے ہوتے ہیں تو ڈِمپل غائب ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ بچپن میں چہرے پر موجود چربی غائب ہونا ہے۔ ویسے تصور کیا جاتا ہے کہ یہ ڈِمپل جینیاتی اثر کے باعث ہوتے ہیں، یعنی اگر والدین کے چہروں پر یہ ڈمپل ہوں تو بچے کی خوبصورتی بھی اس سے بڑھ جاتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ ڈِمپل منہ کے ارگرد دیگر افراد کے مقابلے میں مسلز مختصر ہونے کی وجہ سے نمایاں ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں جب کوئی مسکراتا ہے تو چھوٹا سا گڑھا گوشت میں پڑجاتا ہے۔ مگر کیا ایسے افراد جن کے ڈِمپل نوجوانی میں نہ ہو مگر عمر بڑھنے کے ساتھ چہرے پر یہ گڑھا نمایاں ہوجائے تو کیا یہ ممکن ہے؟ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ جو بچے آئس لولی کھانے کے عادی ہوتے ہیں، ان میں ڈِمپل بننے کا امکان بڑھ جاتا ہے، اس عمل کو Cryolipolysis یا چربی منجمند ہونا کہا جاتا ہے، جس کے دوران چربی کے ٹشوز ٹھنڈے درجہ حرارت کے باعث مرجاتے ہیں۔ انسانی جسم کے 8 عجیب افعال جو بہت ضروری ہیں تحقیق کے مطابق آئس پیکس اور ٹھنڈی ہوا سے بھی ایسے اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ہارورڈ میڈیکل اسکول کے محققین نے ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ شدید سرد درجہ حرارت کے حوالے سے چربی دیگر جسمانی ٹشوز کے مقابلے میں بہت زیادہ حساس ہوتی ہے۔ تاہم اگر آپ اس طریقہ کار یعنی آئس لولی یا آئس پیک کو استعمال کرنے کا سوچ رہے ہیں تو یہ اتنا آسان نہیں بلکہ کافی مشکل کام ہے اور بچوں میں ہی اس کی کامیابی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق اس طریقہ کار کو ابھی بڑے پیمانے پر آزمایا نہیں گیا تو کچھ کہنا مشکل ہے کہ جوانی یا درمیانی عمر میں یہ کس حد تک کارآمد ثابت ہوسکتا ہے۔

The post کیا چہرے پر پڑنے والے گڑھے یا ڈِمپل اچھے لگتے ہیں؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

Leave a comment

Leave a Reply