اسلام آباد ۔ 3 اگست (اے پی پی) پاکستان کرکٹ بورڈ نے رجسٹریشن کے عمل میں سہولت اور تیزی لانے کے مقصد کے تحت اپنے عملے کو چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز میں عارضی اور انتظامی اقدام کے طور پر شامل کیا ہے، عبوری کمیٹیاں تشکیل پاتے ہی یہ عملہ مستعفی ہوجائے گا۔ پی سی بی اس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ پی سی بی کے آئین 2019 کے تحت ایسی کوئی پابندی نہیں جو اس کے ملازمین کوکسی بھی کرکٹ ایسوسی ایشن کو رجسٹر کروانے کے لئے سوسائٹی کا بانی رکن بننے سے روکتی ہو۔پیر کو پی سی بی کے ترجمان نے کہا کہ یہ انتظامی طور پر عارضی بندوبست ہے جو اس لئے اپنایا گیا کیونکہ تمام چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی رجسٹریشن کے لئے یہ وقتی اعتبار سے انتہائی مو¿ثر، قابل اعتبار اور رسد کے لئےبے حد آسان طریقہ کار تھا۔ پی سی بی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے عملے میں شامل کوئی بھی شخص عبور ی کمیٹیوں کا رکن نہیں ہوگا۔ منتخب عہدیداران کے معمالات سنبھالنے تک عبوری کمیٹیاں ہی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے روزہ مرہ امور چلائیں گی۔ یہ اہم ہے کیونکہ پی سی بی کانظریہ ہے کہ یہ تمام چھ تنظیمیں اپنی کرکٹ کو مکمل خودمختاری سے چلائیں گی، جہاں پی سی بی ایک ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے نگرانی کرے گا اور ضرورت پڑھنے پر مددگار ثابت ہوگا۔ پیدا کئے جانے والے اس گمراہ کن تاثر کے برخلاف، پی سی بی سختی سے تردید کرتا ہے کہ پی سی بی کے عملے کے لئے کرکٹ ایسوسی ایشنز کوکوئی بھی فنڈز مختص یا جاری کئے گئے۔ فنڈز کا تعین پی سی بی کے آئین 2019 کی شق 16(9) کے تحت کیا جاتا ہے۔”پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ کی سالمیت، قابلیت اور پیشہ وارانہ مہارات اور کامیابیوں کا احترام کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ یہ نظام ڈومیسٹک کرکٹ سے مرکزیت ختم کرنے اور اسے جمہوری بنانے کا عمل ہے۔ یہ وہی دور ہے جہاں پی سی بی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کوڈ آف ایتھکس کو متعارف کروایا گیا۔”اسی طرح، پی سی بی کا ماننا ہے کہ غلط، گمراہ کن اور نامکمل معلومات کی بنیاد پر پی سی بی اور ماڈل آئین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرنااوراسے تنقید کا نشانہ بنانا، غیرمنصفانہ اور بلاجواز ہے۔ پی سی بی شفافیت اور قابلیت پر پختہ یقین رکھتا ہے اور اپنے اعمال اور کارکردگی سے اس کا مظاہرہ بھی کرتا رہے گا۔” اگلا قدم عبوری کمیٹیوں کی تشکیل ہے، جس کی ذمہ داری: ماڈل دستور کو اپنانا اورمنتخب عہدیداران کے عہدے سنبھالنے تک ایسوسی ایشنز کے معمالات چلانا ہے۔عبوری کمیٹی کو پہلے عہدیداران کے انتخاب سے قبل چند معقول اقدامات مکمل کرنے ہوں گے، جن میں کلبوں کی سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز سے رجسٹریشن، جنرل باڈی کا سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے عہدیداران کا انتخاب شامل ہے اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز کے منتخب نمائندے کرکٹ ایسوسی ایشنز کی جنرل باڈی تشکیل دیں گے، کرکٹ ایسوسی ایشنز کے قیام کے لئے اٹھائے جانے والے معقول اقدامات میں رکاوٹ پی سی بی کو کرکٹ ایسوسی ایشنز اور سٹی کرکٹ ایسوسی ایشنز پر مشتمل ایک آزادانہ طویل مدتی ڈھانچے کے قیام سے دور لے جائے گی۔ کرکٹ ایسوسی ایشنز کے رجسٹریشن عمل کو جاننے کے لئے عمومی سوالات کے جوابات پر مشتمل دستاویز موجود ہے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Leave a Reply