اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کالا نمک پاکستان بھر میں اکثر عام استعمال ہوتا ہے۔ ویسے اسے کہا تو کالا جاتا ہے مگر اس کی رنگت گلابی مائل خاکستری ہوتی ہے جس کی وجہ اس میں آئرن اور دیگر منرلز کی موجودگی ہے جو اس کے ذائقے کو بھی مختلف بناتی ہے۔ اس نمک کے حوالے سے کوئی سائنسی تحقیق تو نہیں کہ یہ صحت کے لیے کتنا فائدہ مند ہے مگر پاکستان اور بھارت وغیرہ میں لوگ اسے معدے کے امراض کے لیے موثر ٹوٹکے کے طور پر ضرور استعمال کرتے ہیں، ویسے چند ماہرین اس کے درج ذیل فوائد بتاتے ہیں۔

کیا چکن صحت کے لیے فائدہ مند ہے؟ پیٹ پھولنے، گیس اور معدے میں تیزابیت کا علاج پیٹ پھولنا مختلف وجوہات کا نتیجہ وسکتا ہے جن میں حد سے زیادہ کھانا، الرجی، قبض اور دیگر شامل ہیں۔ کالے نمک کی الکلائن خصوصیات معدے میں اضافی تیزابیت کو کم کرتی ہیں اور اس میں موجود منرلز سینے میں جلن سے ہونے والے نقصان کو کم کرتے ہیں۔ یہ جلاب کی طرح کام کرکے معدے کے مسائل سے بھی نجات دلاتا ہے۔ پیٹ پھولنے کا باعث بننے والی غذائیں مسلز کی اکڑن سے ممکنہ نجات کالے نمک میں پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ مسلز کے افعال کو ریگولیٹ کرنے والا جز ہے اور دیگر منرلز کو جذب کرنے میں مدد دیتا ہے، اسی وجہ یہ ممکنہ طور پر مسلز کی اکڑن کی تکلیف سے ریلیف دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔ پانی کا اجتماع کم کرے ٹشوز میں سیال کے اکھٹا ہوجانا یا جسم میں کیویٹیز وغیرہ پانی کے اجتماع کا باعث بنتا ہے جو کہ عام طور پر زیادہ نمک کے استعمال کا نتیج ہوتا ہے۔ کالے نمک میں سوڈیم کی مقدار کم ہوتی ہے اور پانی کے اجتماع کا اچھا علاج ثابت ہوسکتا ہے۔ دوران خون بہتر کرے کالا نمک قدرتی طور پر خون کو پتلا کرکے جسم میں درست دوران خون کی گردش کو یقینی بناتا ہے، اسی طرح یہ خون کا لوتھڑا بننے اور کولیسٹرول کے مسائل کا خطرہ بھی کم کرسکتا ہے۔ جلدی نگہداشت کالا نمک ورم کش خصوصیات رکھتا ہے اور یہ ایڑیوں کے پھٹنے، پیروں کی سوجن وغیرہ کے لیے فائدہ مند ہے۔ اسے کلینزر کے طور پر استعمال کرکے بلاک مسام کو کھولا جاسکتا ہے اور جگمگاتی جلد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

The post کالا نمک کتنا فائدہ مند؟ appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔

Leave a comment

Post here Cancel reply