کراچی۔ 23 دسمبر (اے پی پی) چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) احسان مانی نے کہا ہے کہ ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی بہت بڑا لینڈ مارک ایونٹ ہے، سری لنکا کو پاکستان لانا ہمارے لئے ہائی رسک تھا مگر انہوں نے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا، راولپنڈی اور کراچی ٹیسٹ میچ پاکستان کرکٹ کا ٹرننگ پوائنٹ ہے، ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کا کریڈیٹ منصوبہ سازی کرنے والوں سمیت میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور شائیقین کرکٹ کو بھی جاتا ہے، ہوم سیریز پاکستان میں ہی کھیلی جائے گی، امید ہے کہ بنگلہ دیش کی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لئے پاکستان آئے گی، سرفراز احمد باصلاحیت کرکٹر ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈومیسٹک کرکٹ میں کامیاب کرلے گا اور کارکردگی دکھانے کے بعد ٹیم میں واپس آجائے گا۔ سری لنکا سے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے دوسرے میچ میں کامیابی کے بعد نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پیر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں کرکٹ کی بحالی سب سے بڑا کام تھا، ملک میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز کھیلے گئے اور یہاں پر مختلف ممالک کی بی ٹیمز بھی آئیں لیکن ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی بہت بڑا سنگ میل ہے جسے آج ہم نے حاصل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شائقین کرکٹ کے لئے ملک میں ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی بہت بڑا لینڈ مارک ایونٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام ممالک کو معلوم ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ واپس آگئی ہے اور پاکستان بلکل محفوظ ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھیلی جانے والی ٹیسٹ کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی حادثہ یا واقعہ نہیں ہوا۔ احسان مانی نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لئے کئے جانے والے اقدامات سے سری لنکن کھلاڑی بہت خوش ہوئے اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ انہیں پاکستان میں سیر و تفریح کی بھی آزادی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت بھی جلد آئے گا جب پاکستان میں کھلاڑی آزادی سے گھوم پھر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اور کراچی ٹیسٹ میچ پاکستان کرکٹ کا ٹرننگ پوائنٹ ہے۔ احسان مانی نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی کا کریڈیٹ منصوبہ سازی کرنے والوں سمیت میڈیا سے وابستہ صحافیوں اور شائقین کرکٹ کو بھی جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ کی بحالی میں شائقین کرکٹ سے ملنے والی سپورٹ سے بڑی کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ عرصے قبل آسٹریلین کرکٹ کے چیف ایگزیکیٹیو کیون رابرٹ اور ای سی بی کے چیف ایگزیکیٹیو ٹام ہیریسن بھی یہاں آئے تھے اوران دونوں مہمانوں نے واپس جاتے ہوئے کہا تھا کہ کھلاڑیوں کی جتنی سیکورٹی برطانیہ میں ہوتی ہے اتنی ہی پاکستان میں بھی ہے۔ احسان مانی نے بتایا کہ پی ایس ایل کی ڈرافٹنگ سے پہلے پی سی بی نے غیر ملکی کرکٹرز مانگے تھے جس کے جواب میں 425 غیر ملکی کرکٹرز نے پاکستان آکر پی سی بی کے میچ کھیلنے کا عندیہ دیا ہے جن میں سے مختلف فرنچائزڈ نے 30 سے 35 کرکٹرز کو منتخب کیا ہے۔ بنگلادیش کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے حوالے سے احسان مانی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈ سے بات چیت جاری ہے، ہوم سیریز پاکستان میں ہی کھیلی جائے گی، کسی بھی ملک سے کرکٹ کے تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے پاس پاکستان نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ہے، احسان مانی نے کہا کہ بنگلہ دیش کی سیکورٹی ٹیم پاکستان آئی تھی اور ہمیں ان سے کوئی منقی تاثر نہیں ملا بلکہ مثبت تاثر ملا ہے۔ انہوں اس امید کا بھی اظہار کیا کہ بنگلہ دیش ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کے لئے پاکستان آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا کو پاکستان لانا ہمارے لئے ہائی رسک تھا مگر سری لنکن بورڈ اور کھلاڑیوں نے پاکستان پر اعتماد ظاہر کیا اور پاکستان آکر ٹیسٹ کرکٹ کھیلی۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر سرفراز احمد کو قومی ٹیم کی کپتانی سے ہٹانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں احسان مانی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور قومی ٹیم کی سلیکشن کے معاملات میں مجھ سمیت کسی کی کوئی مداخلت نہیں ہے، مصباح الحق کے ساتھ چھ دیگر سلیکٹرز قومی ٹیم کے لئے کھلاڑیوں کی سلیکشن کرتے ہیں، پی سی بی کی جانب سے بنائی جانے والی 6 ایسوسی ایشنز کے چیف کوچ سلیکشن کمیٹی کے پینل پر ہیں جبکہ ندیم خان ان کے کوآرڈینیٹر ہیں اور ان سب کی کریڈیبیلیٹی ہے، سلیکشن کمیٹی کے اراکین کے فیصلے کے مطابق سرفراز احمد اچھی کارکردگی کے لئے جدوجہد کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد باصلاحیت کرکٹر ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے آپ کو ڈومیسٹک کرکٹ میں کامیاب کرلے گا اور کارکردگی دکھانے کے بعد ٹیم میں واپس آجائے گا۔ ایک اور پوچھے گئے سوال کے جواب میں احسان مانی نے کہا کہ میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ سرفراز احمد کپتان ہوں گے، البتہ میں نے یہ ضرور کہا تھا کہ سرفراز احمد ورلڈ کپ تک کپتان ہوں گے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Post here