پپیتا ضرور کھائیں مگر یہ احتیاطیں مدنظر رکھیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پپیتے کے پھل کو کچا اور پکا دونوں صورتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ہی صورتوں میں انسانی صحت کے لیے بیش بہا فوائد کا حامل ہے۔ وٹامن اے، وٹامن سی اور بے شمار معدنیات سے بھرے اس پھل کی تھوڑی سے مقدار ہی انسانی جسم کو درکار وٹامن سی کی روزمرہ مقدار کو پورا کرسکتی ہے۔ ‘فرشتوں کا پھل’ پپیتا بے شمار فوائد کا حامل سوڈیئم، کیلوریز

اور نشاستہ کی کم مقدار کے باعث اس پھل کے اور بھی متعدد فوائد ہیں، تاہم کچھ صورتوں میں یہ صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ خیال رہے کہ درج ذیل منفی اثرات کا اطلاق ہر فرد پر نہیں ہوتا تاہم بیشتر اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ نظام ہاضمہ کے مسائل پپیتا فائبر سے بھرپور پھل ہے جو کہ قبض کے شکار افراد کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے تاہم اس پھل کا زیادہ استعمال صحت مند افراد کو بدہضمی اور ہیضے کا شکار بناسکتا ہے۔ اسی طرح اس پھل میں لیٹیکس نامی جز ہوتا ہے جو معدے میں جاکر درد کا باعث بن سکتا ہے۔ کچھ ادویات کے ساتھ نقصان دہ یو ایس نیشنل لائبریری آف میڈیسین کے مطابق جو لوگ خون پتلا کرنے والی ادویات استعمال کرتے ہیں، انہیں پپیتا کھانے سے گریز کرنا چاہئے کیونکہ اس سے جریان خون اور خراشوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ موٹاپے سے نجات کے لیے مددگار پھل بلڈ شوگر میں بہت زیادہ کمی کا امکان پپیتا بلڈ شوگر لیول میں کمی کے لیے جانا جاتا ہے بلکہ اچانک بہت زیادہ کم کردیتا ہے جو کہ ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض جو ادویات بھی استعمال کررہے ہوں، اس پھل کو کھانے سے قبل لازمی ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ الرجی کا خطرہ بڑھائے اس پھل میں موجود جز پیپین کسی قسم کی مخصوص الرجی کا باعث بن سکتا ہے، کچھ افراد کو اسے کھانے پر جسمانی سوجن، چکر آنے، سردرد، خارش اور کھجلی جیسے عوارض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ نظام تنفس متاثر ہونے کا امکان اس پھل کا زیادہ استعمال نظام تنفس کے امراض جیسے دمہ، بلغم اور خرخراہٹ وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے ماہرین حاملہ خواتین کو پپیتے کا استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں کیونکہ یہ بچے کی نشوونما کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

The post پپیتا ضرور کھائیں مگر یہ احتیاطیں مدنظر رکھیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔