اسلام آباد ۔ 19 جون (اے پی پی) آئی ٹی ایف ٹیوٹر کوچ کامران خلیل نے کہا ہے کہ پاکستان کے ہر کونے کونے سے ٹینس کا کھلاڑی چیمپئن بن سکتا ہے لیکن کھلاڑیوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ گذشتہ روز اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹینس کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور ان کھلاڑیوں میں کھیلنے کی زبردست صلاحیت بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ برسوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ملک کے ہر حصے سے چیمپ?ن تیار ہوتا رہا ہے۔ ٹینس کے کھیل کو بہتر بنانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ٹینس کے کلبوں کی حمایت کرنی چاہئے جہاں کھلاڑی اصل میں سیکھتے ہیں اور حکومت اور فیڈریشن کو ان کلب کی مالی مدد بھی کرنی چاہئے تاکہ مختلف علاقوں میں کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں باصلاحیت کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا چاہئے اور انہیں مفت ٹیسٹنگ کے لئے قومی ٹینس سینٹر میں مفت بھیجنا چاہیئے۔ کامران خلیل نے کہا کہ ہمیں کلب لیگز کو پروموٹ کرنا چاہیئے اس پلیٹ فارم سے کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع ملے گا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کھیلوں کے لئے سافٹ ویئر ایپلی کیشن تیار کرنا چاہئے تاکہ والدین کھیلوں / تربیت تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں۔ جسمانی تندرستی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہر کلب کو ایک لازمی فٹنس ٹرینر رکھنا چاہیئے اور اگر فیڈریشن یا ایسوسی ایشن مالی مدد فراہم کرتی ہے تو یہ کلبوں کے لئے آسان تر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن کو مزید ٹینس کورٹ تیار کرنے / مدد کرنے والے کلبوں / منسلک یونٹوں پر کام کرنا چاہئے اور ان کے ذریعے ہی نیا ٹیلنٹ سامنے آتا ہے۔ کامران خلیل نے کہا کہ میں لیول تھری کوچ اور آئی ٹی ایف سے تصدیق شدہ ٹیوٹر کوچز ایجوکیشن پروگرام ہوں، اور پاکستان کا جونیئر نمبر ون بھی رہ چکا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد ٹینس کورٹ بھی چلا رہا ہوں اور کھلاڑیوں کو ٹینس کی تربیت فراہم کر رہا ہوں۔ کورونا وائرس کی وباء کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا پریشان ہے اور اس سے بچنے کے لئے کھلاڑی گھروں میں رہ کر اپنی فزیکل فٹنس اور تیکنیک پر زیادہ سے زیادہ توجہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کھلاڑیوں کے لئے جسمانی طور پر فٹ ہونے اور اپنی صلاحیتوں کو درست کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Leave a Reply