لاہور ۔ 4 اگست (اے پی پی) پاکستان اور انگلینڈ کے مابین تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کا آغاز آج 5 اگست بروز بدھ سے ہورہا ہے، آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں شامل سیریز سے قبل پاکستان کرکٹ کے معروف اسٹارز نے اظہر علی کی قیادت میں انگلینڈ میں موجود قومی ٹیسٹ ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اولڈ ٹریفورڈ مانچسٹر میں شیڈول سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ سے قبل سابق کرکٹرز نے قومی کرکٹ ٹیم کے حوصلے بڑھانے کرنے کے لیے اپنے خصوصی پیغامات جاری کیے ہیں۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل 1992 میں انگلینڈ کا فاتحانہ دورہ کرنے والے قومی اسکواڈ کا حصہ تھے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز سے قبل قومی ٹیسٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہارکرتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہم سب دعاگو ہیں کہ پاکستان ٹیم انگلینڈ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔ قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ 1992 میں انگلینڈ کا فاتحانہ دورہ کرنے والے قومی اسکواڈ کا حصہ تھے،انہوںنے کہا کہ دورہ انگلینڈ، قومی کھلاڑیوں کے لیے ہیرو بننے کا ایک بڑا موقع ہے، بلاشبہ ویسٹ انڈیز سے تین ٹیسٹ میچز پر مشتمل سیریز کے باعث انگلینڈ کو پاکستان پر برتری ہوگی مگر ہوم سائیڈ پاکستان جیسی معیاری ٹیم کے خلاف دباؤ کا شکار رہے گی۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو متحد ہوکر کھیلنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ کرکٹ انہیں اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے مختلف سیشنز کی صورت میں کئی مواقع فراہم کرتی ہے، لہٰذا ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں اور انگلینڈ جیسی کنڈیشنز میں سلپ کیچنگ پر خاص توجہ دیں۔سال 2006 کے کیلنڈر ائیر میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز محمد یوسف نے اْسی سال انگلینڈ میں چار میچوں پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں تین سنچریاں اسکور کی تھیں۔ان کا کہنا ہے کہ پورا ملک قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کی حمایت میں یکجاہے، قوم کو بابر اعظم، اسد شفیق اور اظہر علی سے بہت سی توقعات وابستہ ہیں، وہ دعا گو ہیں کہ اسکواڈ میں شامل سینئرز اور جونیئرز تمام کھلاڑی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گےـقومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان معین خان 1996 میں انگلینڈ کا فاتحانہ دورہ کرنے والے قومی اسکواڈ کا حصہ تھے،انہوں نے کہا کہ ہم سب قومی کرکٹ ٹیم کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، پرامید ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم آج سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز میں مثبت کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جارحانہ انداز ہی پاکستان کرکٹ کی اصل پہچان ہے۔ قومی ٹیسٹ ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے معین خان نے کھلاڑیوں کو ہدایت کی ہے کہ زندگی میں کچھ ناممکن نہیں، صرف پختہ ارادے اورجدوجہد کی ضرورت ہے، قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف 1992 میں انگلینڈ کا فاتحانہ دورہ کرنے والے قومی اسکواڈ کا حصہ تھے،انہوںنے کہا کہ پاکستان کے اسکواڈ میں بابراعظم کی شکل میں ایک عالمی معیار کا کھلاڑی موجودہے، نوجوان فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کے علاوہ تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس، حریف ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بنیں گے۔ سابق کپتان نے کہا کہ عابد علی دو سنچریاں اسکور کرچکے ہیں،ان کے ساتھ اظہر علی ، اسد شفیق اور شان مسعود بھی بیٹنگ کے شعبے میں اہم کردار ادا کریں گے جبکہ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کا فارم میں ہونا بھی خوش آئند ہے۔سابق کرکٹر نے کہا امید ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم، انگلینڈ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔ آلراؤنڈر عبدالرزاق سال 2001 میں انگلینڈ کا دورہ کرنے والی قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا حصہ تھے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم منیجمنٹ میں تجربہ کار نام موجود ہیں، جس کا یقیناََ اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیٹنگ کے شعبے میں پاکستان کے پاس اظہر علی،بابراعظم، اسد شفیق اور عابد علی جیسے تجربہ کاربلے باز موجود ہیں،امید ہے یہ کھلاڑی مشکل کنڈیشنز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ باؤلنگ کے شعبے میں پاکستان کو محمد عباس، سہیل خان ، شاہین شاہ آفریدی ، نسیم شاہ اور فہیم اشرف جیسے باصلاحیت فاسٹ باؤلرز کے ساتھ ساتھ یاسر شاہ اور شاداب خان جیسے اسپنرز کا ساتھ میسر ہے۔انہوں نے کہا وہ پرامید ہیں کہ پاکستان کا یہ دورہ کامیاب رہے گااور پاکستان کرکٹ ٹیم انگلینڈ کے میدانوں میں اچھے کمبی نیشن کے ساتھ شاندار کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔ پانچ اگست سے شروع ہونے والی تین میچوں پر مشتمل یہ سیریز دونوں ٹیموں کے مابین گذشتہ پانچ سالوں میں تیسری ٹیسٹ سیریز ہے۔یہ سیریز 1996 کے بعد پاکستان کو ایک بار انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیتنے کا موقع فراہم کررہی ہے۔ دوسری طرف انگلینڈ،سال 2010 کے بعد سے اب تک پاکستان کے خلاف کوئی بھی ٹیسٹ سیریز جیتنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے سال 2012 (3ـ0) اور 2015 (2ـ0) میں متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی اپنی ہوم سیریز میں انگلینڈ کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ دونوں ٹیموں کے مابین انگلینڈ میں کھیلی گئیں آخری دونوں سیریز ڈرا رہی تھیں۔ یہ سیریز 2016 (2ـ2) اور 2018 (1ـ1) میں کھیلی گئی تھیں۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Leave a Reply