راولپنڈی ۔ 15 دسمبر (اے پی پی) راولپنڈی ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے عابد علی نے کہاہے کہ پاکستان میں سکیورٹی کا کوئی کو مسئلہ نہیں، دوسری ممالک کی ٹیمیں بھی پاکستان آکر کھیلیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں پاکستان سری لنکا ٹیسٹ میچ کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنچری بنانے پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں انتظامیہ نے جو ہدایات دیں ان پر عمل کیا۔ورلڈ کپ کے بعد اپنی فٹنس پر کام کیا۔ انہوں نیکہا کہ میرے لئے پاکستان میں ڈیبیو کرنا بہت بڑا اعزاز ہے اور ہوم گراونڈ پر سنچری بنانے پر بہت خوشی ہے انہوں نے کہا کہ میں اسلام آباد ریجن کی جانب سے 4 سال کھیلتا رہا ہوں، مجھے یہاں کی کنڈیشنز کا اندازہ ہے شکیل شیخ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مجھے کھیلنے کے موقع فراہم کئے۔انہوں نے کہا کہ مجھے یقین تھا کہ میں سنچری بناوں گا.تاخیر سے موقع ملنے پر کوئی شکوہ نہیں ، اپنے وقت پر ٹیم میں آیا ہوں اور میں اچھے وقت کا انتظار کررہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پی سی بی نے پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پر بہت محنت کی ہے اور پی سی بی بہت محنت کررہا ہے انہوں نے کہا کہ میں امید ہوں کہ تمام ٹیمیں پاکستان آکر کھیلیں گی,مجھے محنت جاری رکھنی ہے کیونکہ اب مقابلہ بہت سخت ہے .میں بابر اعظم سے بہت کچھ سیکھتا ہوں۔حارث سہیل اور اسد شفیق سے بھی نیٹ پریکٹس کو دوران بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، اس موقع پر سری لنکا کے کھلاڑی ڈی سلوا نے کہا کہ پاکستان میں سنچری بنانے پر خوشی ہوئی اور اعتماد ملا ہے میری سینچری ایک تاریخی تھی کیونکہ راولپنڈی میں 15 سال بعد ٹیسٹ کرکٹ ہوئی۔ اگر میں آج کے دن بیٹنگ کر رہا ہوتا تو شاید ڈبل سینچری کر لیتا کیونکہ آسان کنڈیشنز تھی۔ نسیم شاہ بہت اچھا بولر ہے۔ ٹیسٹ میچ تو ڈرا ہوگیا لیکن یہ جیت پاکستان کی ہے پاکستانی کنڈیشنز میں بیٹنگ کرکے اچھا لگا۔ اچھا لگا کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ واپس لانے میں سری لنکا نے اہم کردار ادا کیا اور تمام بولرز نے اچھی بولنگ کی کیونکہ فاسٹ بولرز کے لیے کنڈیشنز سازگار تھیں۔ پنڈی سٹیڈیم کے ہانرز بورڈ پر نام درج کروانا فخر کی بات ہے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Post here