سائوتھ ہیمپٹن ۔ 26 اگست (اے پی پی) انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے کہا ہے کہ میرے لئے سیریز کا بہترین لمحہ میچ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں کا زیک کرولی کو جا کر مبارکباد دینا تھا۔ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں 1-0 کی شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر غیر ملکی کرکٹ ماہرین اور تجربہ کار کرکٹرز متفق ہیں کہ پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم نے سیریز میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، انہوں نے مجموعی طور پر پاکستان کی کارکردگی کو متاثر کن قرار دیا ہے۔ انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین، آسٹریلیا کے سابق لیگ سپنر شین وارن، جمیکا کے سابق فاسٹ باؤلر مائیکل ہولڈنگ، انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن اور انگلینڈ کی سابق کرکٹر ایشا گوہا نے پی سی بی ڈیجٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سیریز میں اپنے یادگار لمحات، کرکٹ کے معیار اور بائیو سیکیور ماحول میں کھیل کے مختلف مراحل پر اظہار خیال کیا ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین نے کورونا وائرس کے باوجود پاکستان کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ٹیم کی ایک ایسے ماحول میں انگلینڈ آمدکہ جب یہاں کووڈ۔19 کی وبا پھیل رہی تھی، یقیناً ایک قابل ستائش عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سیریز کے دوران پاکستان نے بہت اچھی کرکٹ کھیلی مگر شاہد اس ٹیم میں ایک بیٹسمین کی کمی رہ گئی۔ سابق انگلش کپتان نے کہاکہ ان کے لئے سب سے حسین لمحہ وہ تھاکہ جب آخری ٹیسٹ میچ میں زیک کرولی 267 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تو پویلین واپس لوٹنے پر مہمان ٹیم کے کھلاڑیوں نے جس طرح ان کی حوصلہ افزائی کی، یہاں تک کہ پاکستان ٹیم کی بالکونی میں کھڑے تمام لیجنڈز حتیٰ کہ کمنٹری باکس میں موجود وسیم اکرم نے بھی زیک کرولی کے لئے تالیاں بجائیں۔ ناصر حسین نے کہا کہ مجموعی طور پر سیریز ایک اچھے ماحول میں مکمل ہوئی جس پر انہیں خوشی ہے۔آسٹریلیا کے سابق لیگ سپنر شین وارن کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان کو انگلینڈ میں کھیلتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مہمان ٹیم کو پہلا ٹیسٹ لازمی جیتنا چاہئے تھا مگر مجموعی طور پر اظہر علی کی قیادت میں پاکستان کی شاندار ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا، سپنر یاسر شاہ اور نوجوان فاسٹ باؤلرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ نے متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ شین وارن نے کہا کہ مشکل کنڈیشنز اور انگلینڈ کی مضبوط باؤلنگ لائن اپ کے سامنے بہتر کھیل پیش کرنے والی پاکستان ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کا مستقبل روشن ہے۔ سابق فاسٹ باؤلر مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ اس سیریز میں چند ایسے مواقع آئے جہاں پاکستان نے بہت اچھا کھیل پیش کیا، یہاں تک کہ پاکستان کرکٹ ٹیم پہلا ٹیسٹ جیتنے کی پوزیشن میں تھی مگر وہ فتح سمیٹنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فاسٹ باؤلرز نے انہیں متاثر کیا ہے ، یاد رکھیں کہ ایک فاسٹ باؤلر 17 سال کا تھا اور دوسرا 20 سال کا، اگر ان دونوں کی عمر جمع بھی کرلی جائے تو یہ جیمز اینڈرسن کی عمر سے کم بنتی ہے، لہٰذا انہیں امید ہے کہ یہ دونوں مستقبل میں پاکستان کا اہم اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ وہ کووڈ۔19 کی پھیلتی وبا کے دوران انگلینڈ کا دورہ کرنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران بائیو سیکیور ماحول میں مسلسل رہنا اور بہترین کرکٹ کھیلنا آسان نہیں تھا۔ مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ اس سیریز کے دوران پاکستان کے کئی مثبت پہلو اجاگر ہوئے، جیسا کہ اظہر علی کا آخری ٹیسٹ میچ میں بھرپور مزاحمت کرتے ہوئے شاندار اننگز کھیلنا اور چند بہترین فاسٹ باؤلرز کی نمایاں کارکردگی شامل ہے۔ انگلینڈ کی سابق کرکٹر ایشا گوہا نے کہا کہ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ پاکستان کی فتح یقینی تھی مگر کرس ووکس اور جوز بٹلر کی شاندار اننگز نے اس میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے میچ میں بارش اور خراب موسم کے باوجود پاکستان کے باؤلرز نے متاثرکن کھیل پیش کیا، تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس، نوجوان فاسٹ باؤلر شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اورلیگ اسپنر یاسر شاہ نے بہت اچھا کھیل پیش کیا۔ ایشا گوہا نے کہا کہ تیسرے ٹیسٹ میچ میں اظہر علی کی عمدہ بلے بازی اور اس سیریز میں بابراعظم کی کلاس، محمد رضوان کی کیپنگ گلووز اور بیٹ سے شاندار کارکردگی بھی پاکستان کے مثبت پہلو تھے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Post here