اسلام آباد ۔ 8 دسمبر (اے پی پی)وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ طویل وقفہ کے بعد قومی کھلاڑیوں کی ساؤتھ ایشین گیمز میں عمدہ کارکردگی منتخب حکومت اور حکومتی اداروں کی جانب سے کھلاڑیوں کی بہترین تربیت کے بغیر ناممکن تھی اورپاکستان سپورٹس بورڈ نے فیصلہ کیا تھاکہ نیشنل گیمز کے بعد کھیلوں کے تربیتی کیمپ لگائے جائیں گے۔چونکہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن پچھلے کئی سالوں سے نیشنل گیمز منعقد کروانے میں ناکام رہی۔ اتوار کے روز جاری اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہاکہ اگر پی او اے نیشنل گیمزمارچ/اپریل میں منعقدکرا لیتی توپاکستان سپورٹس بورڈ کھلاڑیوں کیلئے زیادہ لمبے دورانیہ کے کیمپ منعقد کرواتا۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اپنی کوتاہی کو کھلاڑیوں کی پرفارمنس سے چھپا رہی ہے اور الزام سپورٹس بورڈپر لگا رہی ہے۔ سیف گیمز سے قبل قومی کھیلوں کے انعقاد نے کھلاڑیوں کی کارکردگی پراچھے اثرات مرتب کئے اور کھلاڑی ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔ تیرہویں ساؤ تھ ایشین گیمز میں قومی کھلاڑیوں کی جانب سے عمدہ کارکردگی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اب تک 26گولڈ،32سلور،35براونز اور مجموعی طور پر93میڈلزجیتنے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ رواں سیف گیمز میں قومی دستہ کی کارکردگی گزشتہ سیف گیمز میں قومی دستہ کی کارکردگی سے کہیں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سوچ سمجھ کر ان گیمز کیلئے قومی دستہ کی تعداد کا تعین کیا تھا۔ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کو چاہیے تھا کہ وہ دوسرے کھیلوں کو بھی شامل کرتے اور خرچہ برداشت کرتے نہ کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کو موردِ الزام ٹھہرائیں۔ پاکستان سپورٹس بورڈ میں پورے سال سکول، کالجز، یونیورسٹیز اور دوسری تنظیموں کے زیرِ سایہ کھیلوں کے تربیتی کیمپ لگے رہتے ہیں۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کا کہنا تھا کہ حکومتی فنڈز پر جوائے رائیڈنگ کرنے والوں کے لئے حکومت پاکستان کا واضح پیغام ہے کہ نئے پاکستان میں جوائے رائیڈنگ کا باب بند ہو چکا ہے، انکا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ کھلاڑیوں کو سیف گیمز سے قبل کیمپ نہیں دئیے گئے ۔ وفاقی وزیر نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ اور پاکستان سپورٹس بورڈ نے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی تجویز کردہ کھلاڑیوں کی شمولیت جس میں 424کا ذکر ہے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ یہ دستہ نہ لے کر جائیں۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی کوتاہی کی وجہ سے پاکستان فٹ بال اور سائیکلنگ کی ٹیمیں ان کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکیں اور ان کھیلوں کے ساتھ زیادتی کی گئی۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان دونوں فیڈریشزز کے ساتھ پی او اے کے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ جبکہ پاکستان جوڈو ٹیم پاکستان سپورٹس بورڈ کے اصرارپران کھیلوں میں حصہ لے رہی ہے۔اْمید ہے کہ کھلاڑی قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے من مانی کرتے ہوئے فیڈریشن کے منتخب کردہ کوچ جس نے ٹیم کی تربیت کی اْس کا نام دستے سے ڈراپ کر دیا اور اپنے من پسند کوچ کا نام تجویز کیا جس نے ٹیم کی تربیت میں کبھی حصہ ہی نہیں لیا تھا۔ وفاقی وزیر نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے پاکستان سپورٹس بورڈکوان گیمز میں شرکت کیلئے 18ایڈمنسٹریٹیو آفیسر زکے نام تجویز کئے جن میں پاکستان سپورٹس بورڈ کے آفیسران کو بھی شامل کیا جن کی منظوری وزارت سے نہیں لی گئی جو کہ سپورٹس بورڈ کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔ وزارتِ بین الصوبائی رابطہ نے فیصلہ کیا کہ صرف4آفیسرز کھیلوں میں انتظامی امور سر انجام دینے کے لیے شرکت کریں گے۔ ملک کے معاشی حالات اور حکومت پاکستان کی پالیسی کے تحت جوائے رائیڈنگ کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے اپنے من پسند نامزد کردہ آفیسرز جن کو جوائے رائیڈنگ کیلئے بھیجا جا رہا تھاا، انکو اجازت نہیں دی گئی اْ ن میں ادریس حیدر خواجہ، ذولفقار علی بٹ، عمران احمد خان،آصف عظیم، محمد رزاق گِل، افتخار احمد اعوان، نبیل احمد رانا، سمیع اللہ، محمد اسلم، محمد جہانگیر، محمد شفیق اوراسد عباس شاہ شامل ہیں۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مزید کہا کہ رواں سیف گیمز کی تیاریوں اورایڈمنسٹر یٹو معاملات کے حالیہ تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے حکومت مستقبل میں کھیلوں کی فیڈریشنز کے ساتھ ملکر کھیل اور کھلا ڑیوں کیلئے خصوصی تربیتی پلان ترتیب دے گی۔ اس ضمن میں سیف گیمز میں پاکستان کیلئے میڈلز لانے والے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی کوچز کی زیر نگرانی تربیت کا بھی خصوصی اہتمام کیا جائیگا تاکہ ان کھلاڑیوں کو مستقبل میں آنے والے انٹرنیشنل ایونٹس کیلئے بھرپور انداز میں تیار کیا جا سکے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Post here