توند نکلنا جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھائے

امریکا(مانیٹرنگ ڈیسک)  آپ موٹاپے کا شکار نہیں مگر پھر بھی توند نکل رہی ہے تو یہ دل کی صحت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ انتباہ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ مایو کلینک کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جن لوگوں کی کمر پھیل جاتی ہے اور پیٹ باہر نکل آتا ہے، ان میں ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ دوگنا بڑھ جاتا ہے اور ایسے افراد کو اپنا طبی معائنہ لازمی کرانا چاہئے۔

توند سے نجات کے 14 آسان طریقے موٹاپا اس وقت ایک عالمی وبا بن چکا ہے مگر اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ چاہے لوگ موٹاپے کے شکار نہ بھی ہو، مگر ان کی توند دل کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ توند میں اضافی چربی جمع ہوتی ہے جو کہ ابنارمل فیٹ ڈسٹری بیوشن کا باعث بنتی ہے۔ اور یہ چربی بہت زیادہ خطرناک ہوتی ہے، جو کہ معدے کے ٹشوز کی گہرائی میں اکھٹی ہوتی ہے اور اہم ترین اعضاءکے قریب ہوتی ہے۔ یہ چربی ایسے کمپاﺅنڈ خارج کرتی ہے جو کہ جگر کے افعال کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ ہائی بلڈ پریشر اور نقصان دہ کولیسٹرول کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ انسولین کی حساسیت کا امکان بھی ہوتاہ ے جو کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن سکتا ہے۔ محققین نے انتباہ کیا کہ اگر آپ کی توند نکل چکی ہے تو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ محققین نے ایسے افراد کا جائزہ لیا جو عام جسمانی وزن کے حامل تو تھے مگر ان کی توند نکل چکی تھی اور ایسے افراد میں دل کے مسائل کی شرح زیادہ پائی گئی۔  آخر مردوں کی توند کیوں نکلتی ہے؟ 2 دہائیوں تک ان رضاکاروں کی صحت کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا۔ محققین کا کہنا تھا کہ عام وزن کے باوجود توند نکلنا دل کے مسائل کا خطرہ دوگنا بڑھا دیتا ہے، خصوصاً ہارٹ اٹیک یا فالج کا۔

انہوں نے کہا کہ توند نکلنا عام طور پر سست طرز زندگی، لو مسلز ماس اور بہت زیادہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس کھانے کا نتیجہ ہوتا ہے، خصوصاً مردوں میں تو چربی اسی جگہ جمع ہوتی ہے، لہذا توند نکلنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج یورپین ایسوسی ایشن آف پرینیٹو کارڈیالوجی کے سالانہ اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔

The post توند نکلنا جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھائے appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔