بچوں کو روازانہ ایک انڈہ کھلائیے، دماغی  نشوونما بڑھائیے  ، تحقیق

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ دماغی صلاحیت میں آگے ہو تو اسے کم ازکم 6 ماہ تک روزانہ ایک انڈا ضرور کھلائیں کیوں کہ انڈے میں وہ تمام ضروری اجزا موجود ہوتے ہیں جو میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اس بات کا انکشاف واشنگٹن یونیورسٹی میں واقع براؤن اسکول کی ماہر لورا لینوٹی نے کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو روزانہ ایک انڈا کھلایا جائے تو اس سے کولائن اور ڈی ایچ اے جیسے اہم غذائی اجزا کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور یوں ان کے دماغ کی افزائش میں اضافہ ہوتا ہے۔

قبل ازیں ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر بچوں کو روزانہ ایک انڈا کھلایا جائے تو اس سے ان کے پستہ قد ہونے کا رحجان کم ہوجاتا ہے۔ لورا لینوٹی نے بتایا  کہ ’انڈے میں فیٹی ایسڈز، پروٹین، کولائن، وٹامن اے اور بی 12، سیلینیئم اور دیگر اہم اجزا ہوتے ہیں جو بچے کے دماغ پر اچھے اثرات مرتب کرتے ہیں‘۔

لورا کا کہنا ہے کہ ایکواڈور میں ایسے 163 شیرخوار بچوں کا جائزہ لیا گیا جن کی عمریں 6 سے 9 ماہ کے درمیان تھیں۔ ان میں سے 80 بچوں کو چھ ماہ تک انڈا کھلایا گیا جبکہ دوسرے بچوں کو کچھ نہیں دیا گیا اس کے بعد وقفے وقفے سے ان کے خون کے ٹیسٹ لیے گئے اور ان میں وٹامن اور دیگر ضروری اجزا کا جائزہ لیا گیا۔

ان میں سے جن بچوں نے باقاعدگی سے انڈا کھایا ان کے خون میں ڈی ایچ اے اور کولائن کی مقدار انڈا نہ کھانے والے بچوں سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ دونوں اجزا بچوں کی دماغی صحت اور دماغی نشوونما کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں، اس تحقیق کے بعد لورا نے کہا کہ قدرت نے انڈے کو کچھ اس طرح بنایا ہےکہ اس میں چھوٹے بچوں کی دماغی ترقی کے تمام اجزا موجود ہیں۔

Reference: http://www.trt.net.tr/urdu

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں كسي بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔