بغیر انسولین اور دواؤں کے شوگر پر کنٹرول ممکن لیکن کیسے؟جدید تحقیق نے تمام دعوؤں کو غلط ثابت کردیا

لندن(سی ایم لنکس) ذیابیطس قسم دوم (ٹائپ ٹو) کے مریض انسولین اور دواؤں کے بغیر بھی شوگر لیول کنٹرول کرسکتے ہیں۔ماہر امراض ذیابیطس ڈاکٹر جان ہاؤرتھ نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ ذیابیطس قسم دوم کے مرض کی بنیادی وجہ وزن کی زیادتی ہے جس پر قابو پاکر ذیابیطس کو بھی شکست دی جاسکتی ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ موٹے افراد میں شوگر لیول کنٹرول کرنے کیلیے دواؤں سے زیادہ وزن کم کرنے پر توجہ دی جائے تو زیادہ بہتر طور پر شوگر کو قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔

شمال مغربی برطانیہ کے علاقے کیمبریا کے معروف فزیشن ڈاکٹر جان ہاؤرتھ نے اپنے 1 ہزار مریضوں پر کی گئی ریسرچ سے ثابت کیا ہے کہ موٹاپے کے باعث ذیابیطس میں مبتلا ہونے والوں میں سے بیشتر مریض صرف 15 کلو وزن کم کرکے اپنا شوگر لیول نارمل کرنے میں کامیاب ہوگئے جب کہ اس دوران انہیں دوائیں یا انسولین بھی نہیں دی گئیں۔ڈاکٹر ہاؤرتھ کے مطابق والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی غذائی عادات پر توجہ دیں اور کسی طور بچوں کا وزن بڑھنے نہ دیں۔ اس طرح یہ بچے مستقبل میں ذیابیطس کا مرض کا شکار ہونے سے محفوظ رہیں گے۔ جن افراد کا بی ایم آئی 30 ہوتا ہے ان کے ذیباطیس میں مبتلا ہونے کے امکانات دوگنے ہوجاتے ہیں جب کہ 40 بی ایم آئی ہونے پر ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے دس گنا امکانات بڑھ جاتے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ ذیابیطس کو مکمل طور پر ختم کرنا ناممکن ہے تاہم ایسے مریض جو موٹاپے کے باعث حال ہی میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوئے ہیں، ایسے افراد میں موٹاپے کا علاج کرکے ذیابیطس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے جب کہ وہ افراد جو ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں ان کا وزن کم کراکے مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ان کے زیر علاج مریضوں میں سے جن افراد نے 15 کلوگرام وزن کم کیا، ان کا شوگر لیول نارمل ہو گیا۔ڈاکٹر ہاؤرتھ کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کیوں کہ جگر اور لبلبے پر موجود چربی، انسولین کے اخراج پر اثرانداز ہوتی ہے لہذا وزن کم کرنے والے مریضوں میں لبلبے اور جگر کی چربی ختم ہوجانے کے باعث انسولین کا اخراج نارمل ہوجاتا ہے جس کے باعث شوگر بھی نارمل ہوجاتی ہے۔

The post بغیر انسولین اور دواؤں کے شوگر پر کنٹرول ممکن لیکن کیسے؟جدید تحقیق نے تمام دعوؤں کو غلط ثابت کردیا appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔