اولپمک کے لئے کوالیفائی کر لینے کی دِلی خواہش ہے، کھیلوں کی ترقی کے لئے گراس روٹ سطح پر تعلیمی ادارے بڑا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ارشد ندیم

اسلام آباد ۔ 19 ستمبر (اے پی پی) انٹرنیشنل اتھلیٹ ارشد ندیم نے کہا ہے کہ ان کی دلی خواہش ہے کہ عالمی اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اولپمک کے لئے کوالیفائی کروں، ان خیالات کا اظہار انہوں گذشتہ روز ” اے پی پی”سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے زیراہتمام لاہور لگائے تربیتی کیمپ میں کوچ سید فیاض حسین بخاری کی زیرنگرانی بھر پور محنت کر رہا ہوں۔ عالمی اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں دنیا بھر کے اتھلیٹ حصہ لیں گے اور یہ چیمپئن شپ 27 ستمبر سے 7 اکتوبر تک دوہا قطر میں کھیلی جائے گی۔انھوں نے بتایا کہ وہ چیمپئن شپ میں شرکت کے لئے 24 ستمبر کو لاہور سے قطر روانہ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اتھلیٹکس فیڈریشن کے صدر میجر جنرل (ر) محمد اکرم ساہی ملک میں اتھلیٹکس کی ترقی کے لئے لئے دن رات کوشاں ہیں اور میرا ایشین گیمز کے جبولین تھرو کے ایونٹ میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنا ملک و قوم کے لئے بڑے فخر کی بات تھی اس کا کریڈٹ بھی فیڈریشن کے صدر اکرم ساہی اور میرے کوچ فیاض بخاری کو جاتا ہے کیونکہ اکرم ساہی نے مجھے تمام سہولیات فراہم کیں جبکہ کوچ نے تربیتی کیمپ میں بھر پور محنت کروائی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ابھی تک ریس کے ایک بھی انڈور ٹریک موجود نہیں بلکہ جناح سٹیڈیم اسلام آباد کا اوپن ٹریک بھی ٹھوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور گذشتہ ماہ وہاں پر ریسلنگ مقابلے منعقد کروائے گئے جس کے دوران ٹریک پر ٹرک اور ٹریکٹر ٹرالیاں بھی سامان کے ساتھ گزاری گئیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے اپیل کی کہ جناح سیٹڈیم کے ٹریک کی مرمت کروا کر اس کو کھیلنے کے قبل بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل گیمز میں اتھلیٹکس کے مقابلے پشاور میں ہی ہونے چاہئے کیونکہ نیشنل گیمز پشاور میں ہی ہورہی ہیں اس کو کسی دوسرے شہر میں منتقل کرنا کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے اتھلیٹکس فیڈریشن کو ملنے والی گرانٹ بہت کم ہے اس سے تو ایک قومی چیمپئن شپ بھی منعقد نہیں ہو سکتی ہے لہذا حکومت فیڈریشن کی سالانہ گرانٹ میں مزید اضافہ کرے۔

Reference: http://urdu.app.com.pk