امراض قلب سے بچانے میں مددگار غذائیں

فن لینڈ(مانیٹرنگ ڈیسک) امراض قلب دنیا بھر میں اموات کی چند بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں جس کے دوران دل کے پٹھوں، والو یا دھڑکن میں مسائل پیدا ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امراض قلب کی روک تھام کے لیے ہر سال 29 ستمبر کو دل کے امراض کی روک تھام کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ خون کی شریانوں میں مسائل جیسے ان کا اکڑنا، ناقص غذا، جسمانی سرگرمیوں سے دوری

اور تمباکو نوشی کو امراض قلب کی عام وجوہات سمجھا جاتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر، انفیکشن وغیرہ بھی یہ خطرہ بڑھاتے ہیں۔ تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ صحت مند طرز زندگی اور غذا کے استعمال سے آپ امراض قلب کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں۔ تو اپنی غذا میں درج ذیل غذائیں شامل کرنا درمیانی عمر یا بڑھاپے میں امراض قلب سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ مچھلی  ایسٹرن فن لینڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ چربی والی مچھلی کو ہفتہ بھر میں 4 دفعہ کھانا جسم میں صحت کے لیے فائدہ مند کولیسٹرول کی شرح بڑھانے اور امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مچھلی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز دل کی دھڑکن کی رفتار میں غیرمعمولی تبدیلی، شریانوں میں زہریلا مواد جمع ہونے وغیرہ خطرہ کم کرتا ہے۔ دلیہ  دلیہ کا استعمال معمول بنانا نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں پانچ سے دس فیصد تک کمی لانے میں مدد دیتا ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دلیہ میں فائبر کی ایک قسم بیٹا گلوکینز موجود ہوتی ہے جو دفاعی نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے ساتھ امراض و انفیکشن کے خلاف جسمانی ردعمل کے لیے فائدہ مند ہے۔ بازار میں ملنے والے cereals کا استعمال اس حوالے سے فائدہ مند نہیں ہوتا، کیونکہ ان میں چینی کو شامل کیا جاتا ہے ، تاہم خام جو کے دلیے کو دودھ میں بھگو کر اس میں سیب، کشمش وغیرہ کے ذریعے مٹھاس پیدا کرکے اسے صحت کے لیے زیادہ فائدہ مند بنایا جاسکتا ہے۔ بیریز  بلیو بیری اور اسٹرابیری کا استعمال بلڈ پریشر کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جو کہ ہارٹ اٹیک کا باعث بننے والا بڑا خطرہ ہے، اسی طرح یہ مزیدار پھل خون کی شریانوں کو بھی کشادہ کرنے میں مدد دیتے ہیں، جس سے امراض قلب سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

ڈارک چاکلیٹ  کئی طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ ڈارک چاکلیٹ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، اس کی وجہ اس میں موجود کیمیکل فلیونوئڈز ہے جو کہ شریانوں کو لچکدار رہنے میں مدد دیتا ہے۔ اس میٹھی سوغات کے نتیجے میں خون جمنے کا امکان بھی کم ہوتا ہے جبکہ نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی نہیں بڑھتی۔ ترش پھل  جو خواتین زیادہ مقدار میں مالٹے

اور گریپ فروٹ کھانے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں خون جمنے سے ہونے والے فالج کا خطرہ کم ہوتا ہے، اس سے ہٹ کر بھی ترش پھل وٹامن سی سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ امراض قلب کا خطرہ کم کرنے والا جز ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ایک مالٹا روزانہ کھانا فالج اور امراض قلب کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، خصوصاً اگر آپ تمباکو نوشی کے عادی ہیں۔

آلو  آلو پوٹاشیم سے بھرپور ہوتے ہیں جو کہ بلڈپریشر کو کم کرنے میں مدد دینے والا جز ہے، اس کے علاوہ آلو میں فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے، جس سے بھی امراض قلب کا خطرہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بس آلوﺅں کو بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے۔ ٹماٹر  آلوﺅں کی طرح ٹماٹر میں بھی دل کے لیے فائدہ مند پوٹاشیم کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے۔

جبکہ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ لائیکوپین کے حصول کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ یہ اینٹی آکسائیڈنٹ نقصان دہ کولیسٹرول سے نجات میں مدد دے سکتا ہے، جس سے خون کی شریانیں کشادہ رہتی ہیں اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ بادام روزانہ کچھ مقدار میں بادام کھانا خون کی شریانوں سے جڑے امراض کے ایک بڑے خطرے dyslipidemia (خون میں لائی پائید چربی کی خرابی)

کو کم کرتا ہے۔ dyslipidemia ایسا عارضہ ہے جس میں نقصان دہ ایل ڈی ایل کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ کی سطح بڑھ جاتی ہے جبکہ فائدہ مند کولیسٹرول کی سطح کم ہوجاتی ہے، جس کے نتیجے میں امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے۔ دالیں  دالیں دل کے لیے بہت فائدہ مند ہیں جبکہ ان میں اینٹی آکسائیڈنٹس، پروٹین اور فائبر کی مقدار بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا۔

جو لوگ ہفتے میں 4 بار دالوں کو اپنی غذا کا حصہ بناتے ہیں، ان میں امراض قلب کا خطرہ 22 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ زیتون کا تیل  کولیسٹرول کی دو اقسام ہوتی ہیں، ایک ایل ڈی ایل (نقصان دہ) اور دوسری ایچ ڈی ایل (فائدہ مند)، امراض قلب سے بچنے کے لیے ایل ڈی ایل کی سطح کو کم رکھنا ضروری ہوتا ہے جبکہ دوسری کی سطح بڑھانا ہوتی ہے، اس کا ایک ذریعہ زیتون کا تیل، سبزیاں

، پھل اور اجناس پر مشتمل غذا کا استعمال ہے۔ سبز چائے  سبز چائے کا صرف ایک کپ ہی کولیسٹرول کے نتیجے میں خون کے جمنے کا عمل کی روک تھام کرنے کے لیے کافی ہے، اس کے علاوہ یہ گرم مشروب میٹابولزم کو بہتر کرکے اضافی وزن میں کمی لانے میں بھی مدد دیتا ہے، جس سے بھی امراض قلب اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں  سبز پتوں والی سبزیاں جیسے

پالک، ساگ وغیرہ دل کو زیادہ صحت مند بناتی ہیں، ان میں موجود کیروٹین اینٹی آکسائیڈنٹس کا کام کرکے جسم کو نقصان دہ مرکبات سے بچاتے ہیں۔ اسی طرح یہ سبزیاں فائبر اور مختلف وٹامنز اور منرلز سے بھی بھرپور ہوتی ہیں جو کہ دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ کافی  دن بھر میں تین سے پانچ کپ کافی کا استعمال شریانوں میں خون کے جمنے کا خطرہ کم کردیتا ہے جو کہ دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق معتدل مقدار میں کافی کا استعمال شریانوں کے اندر اس نقصان دہ کیلشیئم کا امکان کرتا ہے جو کہ امراض قلب کا باعث بنتا ہے۔ اس کیلشیم کی مقدار بڑھنے سے خون کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں اور لوتھڑے بننے لگتے ہیں جس سے دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انار  اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپوریہ پھل بلڈ پریشر کو کم کرتا ہے جبکہ خون کی گردش کو معمول پر لاتا ہے۔

جس سے امراض قلب اور ہارٹ اٹیک سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ کیلے الاباما یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں خون کی شریانوں کو سکڑنے یا خون گاڑھا ہونے کے جان لیوا عمل سے تحفظ دینے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس تحقیق میں بتایاگیا کہ پوٹاشیم ان جینز کو ریگولیٹ کرتا ہے جو کہ شریانوں کی لچک کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ روزانہ صرف ایک کیلا کھانے کی عادت بھی فالج اور ہارٹ اٹیک سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

دہی  بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں بتایا گیا کہ دہی کھانا عادت بناکر خون کی شریانوں سے جڑے امراض بشمول امراض قلب اور بلڈ پریشر کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ایسے اہم شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق دہی دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے اور اسے غذا کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہئے۔ دہی کا زیادہ استعمال خواتین میں تیس فیصد جبکہ مردوں میں 19 فیصد تک خون کی شریانوں کے امراض کا خطرہ کم کردیتا ہے۔

The post امراض قلب سے بچانے میں مددگار غذائیں appeared first on JavedCh.Com.

Reference: http://javedch.com/healthنوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین صحت کے با رے ميں کسی بھی مضمون کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر سےلازمي مشورہ لیں۔