کونسل ( آئی سی سی) فنانشل اینڈ کمرشل افیئرز کے سربراہ مقرر ہو گئے۔ چیئرمین آئی سی سی ششانک منوہر نے احسان مانی کی تقرری گزشتہ ہفتے آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس کے دوران کی۔ فنانشل اینڈ کمرشل افیئرز کا شمارآئی سی سی کی چند اہم کمیٹیوں میں ہوتا ہے جو آئی سی سی کے مالی اور کمرشل معاملات پر نظر رکھتی ہے۔ احسانی مانی پیشے کے اعتبار سے ایک چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ ہیں جو 17 سال بعد ایک بار پھر یہ اہم ذمہ داری نبھائیں گے۔ احسان مانی 1996ءمیں آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل افیئرز کے پہلے چیئرمین بنے تھے۔احسان مانی 2002ءتک اس عہدے پر تعینات رہے، بطور چیئرمین کمیٹی احسان مانی نے 2000ءمیں آئی سی سی کا پہلا کمرشل معاہدہ کروایا جس کی مالیت 550 ملین ڈالر تھی۔احسان مانی کی سربراہی میں قائم کردہ کمیٹی میں اندرا نوئی بطور آزاد ڈائریکٹر شرکت کریں گی جبکہ امیتابھ چوہدری (بی سی سی آئی)، کرس نینزنی (کرکٹ ساﺅتھ افریقہ) عمران خواجہ (نائب چیئرمین آئی سی سی)، ایرل ایڈنگز ( کرکٹ آسٹریلیا) اور کولن گریوز (انگلینڈ کرکٹ بورڈ) بھی کمیٹی میں شامل ہیں۔ ششانک منوہر اور مانو سواہنے (چیف ایگزیکٹو آفیسر آئی سی سی) بطور سابق عہدیدار کمیٹی کا حصہ ہونگے۔احسان مانی دوسری بار آئی سی سی فنانشل اینڈ کمرشل افیئرز کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔اس سے قبل ڈاکٹر نسیم اشرف پی سی بی کے وہ واحد چیئرمین ہیں جو آئی سی سی کمیٹی کی سربراہی بھی کرچکے ہیں۔ ڈاکٹر نسیم اشرف 2008ءمیں ایچ آر اینڈ رمیوناریشن کمیٹی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔اس موقع پر چیئرمین پی سی بی احسان مانی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی چیئرمین کی جانب سے مجھ پر کئے جانے والے اعتماد پر خوش ہوں، میں مانوسواہنے اور ان کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔احسان مانی 1989ءمیں آئی سی سی میں پی سی بی کے مستقل رکن نامزد ہوئے تھے۔ احسان مانی 2002ءمیں آئی سی سی کے نائب صدر اور پھر 2003ءسے 2006ءتک آئی سی سی کے صدر رہے۔ احسان مانی یوراج نارائن کی سربراہی میں آئی سی سی آڈٹ کمیٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔دوسری جانب کرکٹ کی عالمی تنظیم کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے عہدیداران کی پذیرائی کا عمل جاری ہے۔ ایک اور تعیناتی میں جنرل کونسل پی سی بی، بیرسٹر سلمان نصیر بھی آئی سی سی سیف گارڈنگ پینل میں شامل ہوگئے ہیں۔ پینل کی سربراہی کیٹ گیلافنٹ(کوئنز کونسل) کریں گی۔ پینل کا مقصد آئی سی سی کے منعقد کردہ ایونٹس میں آئی سی سی کے قوانین اور اس سے جڑے تمام افراد کی حفاظت کرنا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے آئی سی سی کی سالانہ کانفرنس کے دوران پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان اور اسٹار ویمن کرکٹر ثناءمیر کو آئی سی سی ویمنز کمیٹی میں شامل کیا گیا تھا۔

Reference: http://urdu.app.com.pk

Leave a comment

Leave a Reply